کالم

خطرے کی گھنٹیاں بجاتے اشاریے

محمود شام

سیاسی طوفان کی زد میں تو ایک سال سے تھے ہی۔ اب ایک سمندری طوفان کی آمد آمد ہے۔ ساحلی بستیاں خالی کروائی جارہی ہیں۔اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ التجا ہے کہ صرف کراچی ہی نہیں ساری ساحلی بستیوں کو اپنی امان میں رکھ۔ اپنے نائب حضرت انسان کو طوفان کی تباہی سے محفوظ رکھ۔ چاہے وہ کراچی میں ہوں۔ سندھ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ہوں۔ ایران بھارت کے جزیروں اورسمندر کنارے آبادیوں میں ہوں۔ہر طوفان کی ایک آنکھ ہوتی ہے۔ بپر جوائے کی آنکھ معلوم نہیں کہاں ہے۔ ہمیں تو ویسے بھی اندھے طوفانوں نے گھیر رکھا ہے۔ ہم پر جو مصیبت بھی آتی ہے۔ اندھا دھند آتی ہے۔ان شاء اللہ ۔ یہ طوفان بھی گزر جائے گا۔ اس کے بعد بیانات کا طوفان آئے گا۔ متعلقہ اداروں کی آزمائش ہے کہ وہ جن بحرانوں کیلئے بنائے گئے ہیں۔ وقت آنے پر اپنی اہلیت کا مظاہرہ کرتے ہیں یا نہیں۔آپ ایک ایسے ہم وطن بزرگ کے ذہنی کرب کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ جو اپنے نو آزادملک کا ہم عمر ہو۔ یا کچھ سال بڑا کہ 75سال سے اس کی آرزوئیں خاک ہوتی رہی ہوں۔ عمر کے آخری برسوں میں وطن عزیز میں افراتفری اور طوائف الملوکی میں غیر معمولی شدت آجائے۔ یہ سب کچھ ہمارے نام نہاد رہنمائوں کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ہزاروں ارب روپے کے قرضے لئےگئے اور اب ان کا سود بھی ہزاروں ارب تک پہنچ گیا۔ یہ قرضے جن مسائل کے حل کیلئے حاصل کئےگئے۔ وہ حل بھی ہوئے یا نہیں۔ وہ بلڈنگیں ،ڈیم، بندرگاہیں، ایئر پورٹ کہاں ہیں۔ پھر یہ قرضے کہاں استعمال ہوئے۔ فی الحال ان قرضوں کا سود ادا کرنے کیلئے ہم 22کروڑ دن رات محنت کررہے ہیں۔ اس وقت
میں سخت حبس اور گرمی میں جس پنکھے سے ہوا لے رہا ہوں۔ اب مجھے اس پر بھی ٹیکس ادا کرنا ہے۔حالانکہ یہ میرا اپنا پنکھا ہے۔میں بہت ہی سنجیدگی اور دردمندی سے آپ کے سامنے حقائق رکھناچاہتا ہوں کہ1985سے اس ملک پر حکومت کرنے والے سیاسی اور فوجی سربراہوں نے اپنی پالیسیوں اور انداز حکمرانی سے ملک کو کن ریڈ لائنوں پر پہنچادیا ہے۔ مختلف شعبوں کے اشاریے خطرے کی گھنٹیاں بجارہے ہیں۔ آپ بھی یورپ، دوبئی، کویت،عمان، امریکہ، آسٹریلیا جاتے رہتے ہیں۔ وہاں ایک دن میں ہی آپ کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو کتنی سہولتیں دے رہے ہیں۔ ماحول کتنا صاف ستھرا ہے۔ ایک فرد کو کیا کیا حقوق حاصل ہیں۔ وہ اپنے شہریوں کا کتنا احترام کرتے ہیں۔ ریاست ان کے وقار کا کتنا خیال رکھتی ہے۔ وہ اپنے شہریوں کو اپنا مقابل نہیں خیال کرتی۔ ریاست کے سارے ادارے ایک ایک فرد کے سامنے جواب دہ ہیں۔ انہیں احساس ہے کہ ان کی تنخواہیں، مراعات، ٹرانسپورٹ سب شہریوں کے محصولات سے ادا ہوتے ہیں۔ اس لئے ہر شہری ان کا آقا ہے۔اس کو آئین اور قانون کے مطابق ہر سہولت فراہم کرنا ریاست کے قیام کا مقصد ہے۔ سالہا سال کی منصوبہ بندی سے ان کے اشاریے بہت مناسب ہیں۔
آئیے اب ہم اپنے اشاریے دیکھیں۔ ہم وجود و عدم کی سرحد پہ کھڑے ہیں۔شہری آلودگی کے حوالے سے پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی میں 188ممالک میں ہم 136ویں نمبر پر۔ عدل و انصاف میں 140میں سے 129نمبر پر۔ غربت میں 121میں سے 99نمبر۔ ماحولیات میں 180میں 176۔ کرپشن ۔ بد عنوانی لوٹ مار میں 180 ممالک میں 140نمبر پر ۔ آزادیٔ صحافت میں 180میں سے 150ویں نمبرپر۔ شرح خواندگی 197میں 173واں نمبر۔ تعلیم میں 188میں سے 164واں نمبر۔ کیا ہمیں احساس ہے کہ ہم دوسروں سے کتنے پیچھے رہ گئے ہیں۔جمہوریت کا بہت شور ہے۔ آمریت کے خلاف جدو جہد کے بہت دعوے ہیں۔ جمہوریت میں بھی ہم آزاد نہیں ہیں۔ عالمی ادارے 100میں سے صرف 37نمبر دے رہے ہیں۔ یہ بھی کچھ زیادہ ہی ہیں۔ بہت سے تحقیقی ادارے قائم ہی اس لئےکئے گئے ہیں کہ وہ فرد کی اہمیت کا جائزہ لیتے ہیں۔ جیتے جاگتے انسان کو زندگی کی کیا سہولتیں میسر ہیں کیا نہیں ہیں۔ وہ سارا سال اس کا اندازہ کرتے رہتے ہیں۔ ایک مستند ادارے کے مطابق 131معیشتوں میں پاکستان 89 ویں نمبر پر ہے۔ زندگی کی عمدگی۔ قواعد و ضوابط پر عملدرآمد ۔ قانون کی حکمرانی۔ اشیائے ضروریہ کی فراوانی اور ایسے سارے شعبوں میں پاکستان پستیوں میں اترتا جارہا ہے۔ ہمارے 22کروڑ تو اسے اپنا مقدر سمجھ کر سارے مصائب برداشت کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ کچھ خاندان زندگی کی ہر آسائش سے ان کے سامنے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ پاکستان ہر شعبے میں جس نمبر پر پہنچا ہوا ہے۔ اس کی ذمہ دار نہ صرف موجودہ حکومت نہ ہی عمران کی حکومت بلکہ 1985سے آنے والی ساری سیاسی اور فوجی حکومتیں ہیں۔ صرف حکمران ہی نہیں۔ ریاست کے سب ستون ہیں۔ عدلیہ۔ انتظامیہ۔ مقننہ۔ میڈیا۔ ان کے اسباب بھی سب کو معلوم ہیں۔ آبادی میں پاکستان دنیا میں پانچویں نمبر پر۔ فوجی قوت کے حوالے سے ساتویں نمبر پر۔ اس لئے مزید ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ ہر شعبے میں ہم انہی نمبروں پر آئیں۔ملکی ابتری ہم سب جانتے ہیں لیکن بڑی ڈھٹائی سے حکمران ایک دوسرے پر۔ ان کے پیروکار بھی مخالفین پر الزام عائد کرکے سمجھتے ہیں کہ ہمارا فرض ادا ہوگیا۔پہلے تو ہمیں تسلیم کرنا چاہئے کہ ملک میں ہر شعبہ ہی ٹھیک ہونے والا ہے۔ یہ ٹھیک اس وقت ہوگا جب ہم سب یہ عزم کریں گے کہ ہمیں اسے ٹھیک کرنا ہے۔ سب مل کر ہی درست کرسکتے ہیںاور جب فیصلہ سازی میں سب شریک ہوں۔
ہمیں عالمی سطح پر اپنی آبرو بحال کرنا ہے۔ علاقائی تناظر میں ہمیں اپنی افادیت منوانی ہے۔ صرف صدر کو نہیں۔ صرف وزیر اعظم کو نہیں۔ صرف آرمی چیف کو نہیں۔ 22کروڑ میں سے ہر ایک کو اپنی اپنی جگہ ہمت کرنا ہے۔ اپنی آواز بلند کرنا ہے۔ یہ اکیسویں صدی ہے۔ تیز رفتار رابطوں کی صدی۔ ہم سب کو علم ہے کہ پاکستان کے اشاریے کیوں خراب ہیں۔ ہم سب کو تشویش ہے اس لئے ہمیں کھل کر بات کرنا ہوگی۔ یہ اشاریے بہتر کرنے میں ہی پاکستان کی سلامتی ہے۔ سرحدوں کا تحفظ ہے۔ معیشت کی بہتری ہے۔ مہنگائی میں کمی ہے۔ مینو فیکچرنگ کی واپسی ہے۔ اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری بھی تب ہی ہوگی۔ ایک فرد کے حقوق بھی تبھی مل سکیں گے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم کسی شعبے میں اپنا نمبر بہتر نہیں کر پارہے ۔ اس زوال کو ہم اجتماعی طور پر ہی روک سکتے ہیں۔ کوئی فرد کوئی ادارہ عقل کُل نہیں ہوسکتا۔ فیصلہ سازی میں 22 کروڑ کی شرکت لازمی ہے۔ اور یہ صاف شفاف مینڈیٹ کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ مینڈیٹ۔ مینڈیٹ۔ مینڈیٹ۔ وگرنہ تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex