کالم

خدا را ! بیچاری چڑیا کومعدومی سے بچائیں

مرزا محمد رمضان

عالمی یوم چڑیا پر خصوصی تحریر:۔
چڑیا ایک راہگیر پرندہ ہے جو تقریبا یورپ، ایشیا،افریقہ ااور امریکہ سمیت دنیا کے ہر حصے میں پایا جاتا ہے۔چڑیوں کی دنیا میں بہت زیادہ انواع ہیںجو جسامت ،رنگ اور مسکن کے حوالے سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔یہ اپنے سرمئی ،بھورے پروں کے رنگ کی وجہ سے شناخت کی جاتی ہیںتاہم بعض انواع زیادہ رنگدار ہونیکی وجہ سے بااحسن پہچانی جاتی ہیںخصوصا نر وغیرہ افزائش نسل کے موسم میں۔عام طور پر چڑیوں کی خوراک بیج وغیرہ ہے لیکن یہ کیڑے مکوڑے بھی کھا لیتی ہیں۔یہ موافقت پذیر مخلوق ہے جو دیہی علاقوں سے شہروں تک عام پائی جاتی ہیں۔چڑیاں سماج پسند پرندے ہیں جو غول میں رہنا پسند کرتی ہیںماسوائے افزائش نسل کے موسم میں۔چڑیوں کی بہت سی قسمیں درختوں،جھاڑیوں اور انسانی بنائے ہوئے ڈھانچوں میں کپ شکل کے گھونسلے بناتی ہیں۔ چڑیاں مسحور کن گانا چہچہاتی ہیں جو انواع و فردکے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔چڑیاں انسانی بستیوں کیساتھ قریبی تعلق کیوجہ سے مشہور ہیں اور شہری آبادیوں میں زیادہ تر عمارتوں میں گھونسلے بناتی ہیں۔دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر پائے جانے کے باوجود چڑیوں کی بعض انواع کو مسکن کی تباہی ،کیڑے مار دوا کے بے جا استعمال اورشکاری انواع سے خطرات کا سامنا ہے۔چڑیاں ماحولیاتی نظام میں بیچ پھیلانے،کیڑوں مکوڑوں کو کنٹرول کرنے اور ماحولیاتی اشاروںکے طور پر اہم کردار ادا کرتی ہیں،چڑیاں فصلوں کیلئے ضرر رساں کیڑوں کی
آبادی کنٹرول کرنے میں بیحد معاونت کرتی ہیںنیز انکی گھونسلہ سازی کی عادات،بیجوں اورنامیاتی مادوں کی تقسیم کا عمل زمین کی زرخیزی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔چڑیوں کا کرہ ارض پر وجود اور عدم وجود پورے ماحولیاتی نظام کی مجموعی صحت کیلئے ایک بیرو میٹر کے طور پر کام کر سکتا ہے جس سے رہائشی معیار اور حیاتیاتی تنوع میں تبدیلیوں کی نشاندہی ہو سکتی ہے۔دنیا بھر میں موجودچڑیوں کی آبادی کا تخمینہ لگانااز حد مشکل ہے کیونکہ چڑیوں کی انگنت انواع ہیں جنکا طرز سکونت بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے تاہم یہ بھی درست ماناجاتا ہے کہ دنیا میں چڑیوں کی پائی جانیوالی مختلف انواع کی تعداد اربوں میں ہے۔ چڑیاں موسم بہار یا موسم گرما کے دوران افزائش نسل کا عمل مکمل کرتی ہیں تاہم اس عمل کا زیادہ انحصارمختلف جغرافیائی خطوں اور ان کی انواع پر ہے البتہ یہ امر واضح ہے کہ چڑیوں کی افزائش نسل کا موسم سردیوں کے آخر اور گرمیوں کے آغاز میں شروع ہو جاتا ہے۔دنیا بھر میںچڑیوں کی آبادی کو جو خطرات لاحق ہیںان میں شہری آبادیوں کا پھیلائو،زراعت میں توسیع،زرعی ادویات کا بے جا استعمال،آلودگی، موسمی تغیر اور دوسرے شکاری پرندوں کا ان ننھے پرندوں کو شکار کرنا شامل ہیں۔علاوہ ازیں گھونسلہ سازی کیلئے جگہیں دستیاب نہ ہونا بھی انکی آبادی کے زوال کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب ہے۔بد قسمتی سے پاکستان میں بھی دیگر دنیا کی طرح اس ننھی مخلوق کے مساکن سکڑتے جا رہے ہیں۔نئے شہروں کی آبادکاری،زراعت میں کیڑے مار ادویات کا بے جا استعمال،ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور ان معصوم پرندوں کی صدقہ و خیرات کیلئے خریدو فروخت اور پکڑ دھکڑ کیوجہ سے اس کی آبادی کو سخت خطرات لا حق ہیں۔آج چڑیوں کی آبادی بہت علاقوں میں بتدریج زوال پزیر ہے جسے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ ہم احتیاطی تدابیر اختیار کریںاور پہلی ترجیح میں اسکے مسکن محفوظ بنانے کیلئے زیادہ سے زیادہ شجرکاری کریں،باغات لگائیں،سبزے کے میدان اور خودرو جھاڑیاں برقرار رکھیں تاکہ یہ ننھی مخلوق ان جگہوں پر موزوں مقامات تلاش کر کے گھونسلہ سازی کر سکیں۔شہری علاقوں کی عمارتوں میں خود سے بنائے گھونسلوں کی تنصیب کریں تاکہ انہیں آرام اور افزائش نسل کیلئے رہائش میسر ہوکیونکہ شہری آبادیوں کی بدولت انکے گھونسلوں کی جگہیں کم پڑتی جا رہی ہیں۔ اپنے قرب و جوار میں ان معصوم پرندوں کیلئے دانے دنکے اور تازہ پانی کا بندوبست کریںتاکہ انہیں کھانے پینے اور نہانے کے مواقع بھی میسر ہوں۔دوسرا یہ امر پیش نظر رکھیںکہ جہاں اس ننھی مخلوق نے افزائش نسل کیلئے بسیرا کر رکھا ہے وہاں انہیں کسی بھی صورت پریشان نہ کریںبلکہ ممکن ہو سکے تو انہیں مکمل سکون فراہم کرنیکی کوشش کریں اور کسی خطرہ کی صورت میں انکے گھونسلوں کو محفوظ بنائیں اور عا م لوگوںکو بھی اس عمل خیر کی تحریک دیں تاکہ اجتماعی سطح پر اس ننھی مخلوق کی حفاظت کا اہتمام ہو۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات و پارکس پنجاب بھی قومی اور عالمی برادری کے شانہ بشانہ اس معصوم مخلوق کے تحفظ و فروغ کیلئے اپنے دستیاب وسائل میں بھر پور اقدامات کر رہاہے۔صوبہ کے تمام شہروں میں پرندوں کی خریدو فروخت کے تمام پوائنٹس کی کڑی نگرانی کر رہا ہے اور جہاں کہیں بھی اس مذموم کاروبار کی کوئی اطلاع موصول ہوتی ہے خلاف ورزی کے مرتکب افراد کو فوری گرفتار کرکے وائلڈلائف ایکٹ کی رو سے چالان مرتب کرکے بذریعہ عدالت قیدو جرما نہ یا کیس کمپائونڈ ہونیکی صورت میں محکمانہ معاوضہ وصول کیا جاتا ہے نیز محکمہ نے صوبہ کے بڑے شہروں لاہور،گوجرانوالہ ،فیصل آباد، ملتان اور راولپنڈی میںگزشتہ دو سالوں کے دوران کیجڈ برڈز کی پکڑ دھکڑ اور خریدو فروخت کے اس مذموم دھندے کے خلاف بڑے پیمانے پرکریک ڈائون کرکے بڑی حد تک اس سفاک عمل کی روک تھام ممکن بنائی ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد حکومتی اداروں کے شانہ بشانہ اان ننھے معصوم پرندوں کے ناجائز شکار اور کاروبارکی موثر روک تھام کیلئے میدان عمل میں آئیں،اپنے ماحول میں زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں،زرعی ادویات کا بیجا استعمال نہ کریںاور جہاں کہیں بھی اس ننھی مخلوق کے انڈے بچے گھونسلوں میں ملیںانہیں گزند نہ پہنچائیںبلکہ انہیں ہر ممکن راحت و سکون میسر کریں تاکہ افزائش نسل سے اس ننھی مخلوق کی آبادی کو استحکام حاصل ہومزید برآں اپنے ارد گرد معصوم پرندوں کی نا جائز پکڑ دھکڑ اورخریدو فروخت کی صورت میں مقامی دفتر محکمہ جنگلی حیات کو اطلاع دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex