کالم

خانقاہ بھرچونڈی شریف کی یادگار خدمات

عبدالستار اعوان

برصغیر میں انگریز کے خلاف مسلح جدوجہد کاراستہ ہویا پھر سیاسی تحریک کامرحلہ ‘ ان دونوں میں علماء و مشائخ اور خانقاہوں کا واضح کرداررہاہے اوراستعمار دشمنی میں دینی مراکز بھی دیگر مجاہدین آزادی سے پیچھے نہیں رہے۔ تبلیغِ دین کے ساتھ ساتھ ان خانقاہوں سے وابستہ درویشوں اور صوفیوں نے تحریک آزادی ہند اورپھر تحریک پاکستان میں صف اول کاکردار اداکیا۔انہی خانقا ہوں میں سے ایک بھرچونڈی شریف ہے جوصوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میںواقع ہے۔اس خانقاہ کی اساس حافظ محمدصدیق ؒنے رکھی۔حافظ محمدصدیق ؒ کا شمار برصغیر کے عظیم صوفی بزرگوں میں ہوتاہے،آپ ہمہ وقت تلاوت قرآن کریم،نماز،ذکر اذکار میں مشغول رہتے ۔حافظ صدیق قادریؒ نے1890ء میں وصال فرمایااورآپ کا مزار بھرچونڈی شریف میں مرجع خلائق ہے۔میں نے ایک سندھی دوست سے’’ بھرچونڈی‘‘ کی وجہ تسمیہ پوچھی تو انہوںنے بتایا کہ یہ بہت قدیم نام ہے اوربھرچونڈی کامطلب ہے اولیائے کرام کے فیض سے کچھ حصہ یعنی چٹکی حاصل کر لینا۔اس سے پتاچلتا ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ سے ہی درویشوں،صوفیوں اوراولیائے کرام کامسکن رہاہے۔ سید مغفور قادری نے اپنی کتاب ’’عباد الرحمن‘‘میں لکھا ہے کہ اس مقام پر حافظ الملت محمد صدیق قادری ؒ نے 1260ھ میں ایک روحانی خانقاہ بھرچونڈی شریف کے نا م سے قائم کی اور اسی وجہ سے اس شہر یہ کا نام مشہور ہوگیا۔انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام جلدنمبر1کے مطابق :’’حافظ محمدصدیق قادری1818ء میں بھرچونڈی شریف ضلع گھوٹکی میں پیدا ہوئے۔آپ کے آبائو اجداد خطہ عرب سے کیچ مکران کے راستے سندھ میں داخل ہوئے اوربھرچونڈی شریف میں آکرآباد ہوئے۔حافظ محمد صدیقؒ 12برس کے تھے کہ آپ کی والدہ ماجدہ آپ کو ایک روحانی ہستی پیر سید حسن شاہ صاحبؒ کی درسگاہ میں لے گئیںجہاں آپ نے قرآن پاک حفظ کیا۔آپ ؒ ایسی خوش الحانی کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت فرماتے کہ آپ کا چرچا سندھ بھر میں ہونے لگا۔آگے چل کر آپ نے باقاعدہ خانقاہ بھرچونڈی شریف کی بنیاد رکھی،اس روحانی مرکز نے پھرپورے برصغیر میں مسلمانوں کی رہنمائی کی اور ہزاروں غیر مسلم اس کی برکت سے مشرف بہ اسلام ہوتے گئے‘‘۔ معروف مذہبی سکالر مولانازاہد الراشدی لکھتے ہیں کہ :’’بھرچونڈی شریف کا نام سامنے آتے ہی سرِ نیاز خودبخود عقیدت سے خم ہو جاتا ہے کہ سندھ کی اس عظیم خانقاہ کے بانی عارف باللہ حضرت حافظ محمد صدیق قادریؒ ان اکابر صوفیائے کرام میں سے ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور جناب نبی اکرم صلی اللہ اللہ علیہ وسلم کی محبت کا خوگر بنانے کے ساتھ ساتھ حریت ِ فکر اور آزادی وطن کے جذبات سے بھی مسلسل روشناس رکھا‘‘۔
اب اس خانقاہ کے سجادہ نشین پیر عبدالخالق قادری ہیں۔آپ ایک منکسرالمزاج اور نہایت درویش انسان ہیں۔اب تک لاتعداد ہندواوردیگر غیر مسلم آپ کے دستِ حق پرست میں اسلام قبول کرچکے ہیں۔پیرعبدالخالق قادری کے خلاف آئے روز مختلف این جی اوز اور میڈیااس بات پر شوروغوغاکرتا رہتاہے کہ آپ سندھ میں غیر مسلموںاور بالخصوص ہندوئو ں کوزبردستی مسلمان بنارہے ہیں۔ راقم الحروف نے جب ان سے یہی سوال کیا تو ان کاکہنا تھا کہ :’’زبردستی کوئی بھی کسی کو مسلمان نہیںبناسکتا،یہ صرف اس درگاہ کافیض ہے کہ غیر مسلم خود ہمارے پا س آتے ہیں کہ ہمیں کلمہ پڑھا کر حلقہ بگوش اسلام کردیجئے‘‘۔ان کاکہنا تھا کہ ہمارے خلاف یہ محض پروپیگنڈہ ہے جس کاحقیقت سے کچھ تعلق نہیں‘‘۔پیر عبدالخالق قادری کے آبائواجداد یعنی حافظ محمدصدیقؒ اور دیگرنے تحریک آزادی میں انگریز استعمار کے خلاف مجاہدانہ کرداراداکیا،نامور مجاہدآزادی مولاناعبید اللہ سندھیؒ بھی اسی خانقاہ سے فیض یافتہ تھے ۔ پیر عبدالخالق قادری اس بات پرفخر محسوس کرتے ہیں کہ ان کے بزرگوں نے انگریز سے وفاداری کر کے ا س سے جاگیریں نہیںوصول کیں بلکہ جدوجہد آزادی کے ذریعے انگریزکو برصغیر سے نکالا۔
لاہور میںخانقاہ بھرچونڈی شریف سے قلبی وروحانی تعلق رکھنے والے سید احسان احمد گیلانی بڑے متحرک انسان ہیں۔چند روزقبل ان کی جانب سے ایک دعوت نامہ موصول ہو اکہ مورخہ9ستمبر کو نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور خانقاہ بھرچونڈی شریف کے زیراہتمام خانقاہ کی علمی وتحریکی خدمات کوخراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک سیمینار منعقد کیاجارہا ہے جس میں آپ کی شرکت ضروری ہے۔راقم مقرر وقت پر حاضر ہواتوابھی پروگرام شروع نہیں ہواتھا لیکن اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ پیرآف بھرچونڈی شریف جناب عبدالخالق قادری سے ایک نشست کا موقع مل گیا جس میں مختلف موضوعات زیربحث آئے۔پروگرام شروع ہواتو مقررین نے بہت عمدہ انداز میں خانقاہ کی خدمات پرروشنی ڈالی۔اس موقع پر راقم السطورکوبھی خیالات کے اظہار کے لیے دعوت دی گئی،چنانچہ راقم نے اپنی گفتگو میں اس تقریب کے انعقاد پر پیر آف بھرچونڈی شریف عبدالخالق قادری،سید احسان احمدگیلانی ،عثمان احمدکسانہ اورسیف اللہ چوہدری کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ :
’’ آج کی یہ پروقار تقریب تحریک پاکستان میںعلماء و مشائخ اورخانقاہ بھرچونڈی شریف کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی ہے۔آج کی نوجوان نسل کو یہ بھولاہوا سبق یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ تحریک آزادی میں خانقاہوں کاکردار بڑا مجاہدانہ،مدبرانہ اور قائدانہ ہے۔یہ بانی خانقاہ بھرچونڈی شریف حافظ محمد صدیق ؒ کی روحانی اورمجاہدانہ شخصیت کی ہی برکت تھی کہ اس خانقاہ کے مجاہدین اور متوسلین نے اپنے بے پناہ جذبہ آزادی اور انتھک محنت سے انگریز کو یہاںسے نکالا ،یہ حافظ محمد صدیق رحمہ اللہ کاہی فیضان نظر تھا کہ جس نے ایک سکھ نوجوان بوٹا سنگھ کومجاہد اسلام بنادیا۔آج پوری دنیا اس نوجوان کوامام انقلاب اورامام حریت مولاناعبیداللہ سندھی ؒ کے نام سے یادکرتی ہے اورتحریک آزادی ہند کاتذکرہ ان کے بغیر مکمل نہیںہوتا۔تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے علماء و مشائخ کو قائداعظم محمدعلی جناح اور دیگراکابرین نے ہمیشہ تحسین کی نظروںسے دیکھا۔ مولاناعبدالستار نیازی کے متعلق بانی پاکستان نے کہاتھا :’’جس قوم کے پاس نیازی جیسے نوجوان ہوں اسے پاکستان بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا‘‘۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے مولانا نیازی کے جذبہ جہاد کو دیکھتے ہوئے بڑاخوبصورت جملہ کہا تھا کہ :’’نیازی کے اس بے پناہ جذبہ آزادی کو صرف اورصرف قبر کی مٹی ہی دبا سکتی ہے‘‘۔ اگر تحریک پاکستان میں علماء اور بھرچونڈی شریف جیسی خانقاہوں کے بوریانشین اُس وقت اپنی خانقاہوں سے نکل کررسم شبیری ادا نہ کرتے تو آج ہم اس عظیم ریاست میں سانس نہ لے رہے ہوتے اور دنیا کے نقشے پر یہ آزاد اسلامی مملکت وجودمیں نہ آتی۔میں خانقاہ بھرچونڈی شریف کی ان عظیم خدمات کو خراج تحسین پیش کرتاہوں اوردعاگوہوں کہ اللہ کریم ان روحانی دینی مراکزکے صدقے وطن عزیز پاکستان کو ہرقسم کے مسائل اورمشکلات سے نجات عطا فرمائیں‘‘۔آمین۔
خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اُترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے