کالم

حکیم عنایت اللہ نسیم سوھدروی عزم وعمل کی داستان

حکیم بشیر بھیروی

اسلامیان برصغیر کے وہ عظیم المرتبت افراد جو تمام عمر تحریک پاکستان اور پھرتعمیرواستحکام پاکستان کے لئے وقف رھے ان میں حکیم عنایت اللہ نسیم کا نام بہت نمایاں ھے -اسلام ،پاکستان اور طب مشرق کی ترقی اور فروغ ان کی زندگی کا جلی عنوان ھے – وہ کہ ایک ہمہ جہت،ہمہ صفت،عہد آفرین اور نابغہ روزگار شخصیت تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سی خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا ۔ وہ بیک وقت بے مثال خطیب ،بے بدل ادیب ،نڈر صحافی ،بلند پایہ شاعر ،مایہ ناز طبیب ، دانشور ،ممتاز سماجی وسیاسی کارکن ،تحریک پاکستان اورتحریک تحفظ ختم نبوت کے کارکن تھے ۔ مگر ان کا سب سے بڑا وصف ان کا سچا وپکا مسلمان ہونا تھا ۔ انہوں نے حق پرستوں کی طرح زندگی گزاری اور جس کام میں بھی حصہ لیا اس کا مقصد واحد اسلام کی سربلندی وسرفرازی رہا ۔ حالات وواقعات ،مسائل و مشکلات ان کے پایہ استقلال میں لغزش پیدا نہ کر سکے ۔ گزشتہ بیسویں صدی کی آخری نصف صدی میں علم وادب کا میدان ہویا طب وصحت کا، تحریک پاکستان ہو یاتعمیر استحکام پاکستان ،ختم نبوت کی تحریک ہو ،یا نظام مصطفیٰ کی ،شعر و شاعری ہو یا سماجی بہبود کی سرگرمیاں ہو ں یا قومی خدمت کا کوئی مسئلہ ہو وہ ہر جگہ سچے جذبوں سے نظر آتے ہیں ۔ حکیم عنایت اللہ نسیم کا تعلق ایک دین دار اور ممتاز طبی خانوادہ سے تھا ۔ ان کی ولادت مردم خیز سرزمین سوہدرہ میں ہوئی۔ ابتدائی دینی تعلیم مولانا غلام نبی اربانی سے حاصل کی ۔ ان کے چچا حکیم عبدالرحمن اپنے عہد کے نامور طبیب تھے ۔ دوران تعلیم ہی با با ئے صحافت مولانا ظفر علی خان سے تعلق قائم ہوگیا تھا۔ میٹرک کا امتحان پاس کیا تو مولانا ظفر علی خان کے ایما پر مزید تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی چلے گئے ۔ جہاں سے طب کا پانچ سالہ ڈگری کورس امتیازی حیثیت سے پاس کیا ۔ علی گڑھ یونیورسٹی ان دنوں ملی سرگرمیوں کا مرکز تھی آپ ان حصہ بن گئے۔ یوں آپ کا دور شباب حریت وآزادی سے عبارت ہے ۔ اس یونیورسٹی کے طلبہ نے برصغیر کی تاریخ میں ایک انقلاب برپا کیا اور برطانوی و ہندو سامراج سے آزادی حاصل کرکے پاکستان قائم کیا ۔ حکیم عنایت اللہ نسیم ان طلبہ کے سرخیل تھے جو قیام پاکستان کی جنگ لڑ رہے تھے ۔ علی گڑھ میں جب آل انڈیا مسلم سٹودنٹس فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا تو حکیم صاحب تا سیسی اجلاس میں شریک تھے ۔ قائد اعظم کی علی گڑھ آمد پر جن طلباء نے ان کی بگھی کو کندھوں پر اْٹھایا ان میں بھی وہ پیش پیش تھے ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وہ طلبہ جو آل انڈیا مسلم لیگ کے لکھنوَسیشن 1937 ء ،پٹنہ سیشن 1938 ء اور لاہور سیشن 1940 ء میں شریک ہوئے ان میں حکیم عنایت اللہ نسیم شامل تھے ۔ 1937 ء کے بجنور کے ضمنی انتخابات میں مولانا شوکت علی اور مولانا ظفر علی خان کے ہمراہ کام کیا ۔ فسادات بہار میں بیگم سلمیٰ تصدق حسین کے ساتھ کام کیا ۔
1946 ء کے انتخابات جو قیام پاکستان کے نام پر لڑے گئےاس میں نواب زادہ لیاقت علی اور کنور اعجاز کے حلقہ مظفر نگر میں مسلم لیگ کی جانب سے ڈیوٹی کی ۔ تحریک پاکستان میں مولانا ظفر علی خان اور ابوسعید انور کے ہمراہ کام کیا ۔ قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کی آباد کاری، تحریک جمہوریت ،تحریک ختم نبوت ،تحریک نظام مصطفیٰ میں کا م کیا ۔ آپ کو 1987 ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے اس وقت میاں نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب نےتحریک پاکستان گولڈ میڈل دیا ۔ حکیم عنایت اللہ نسیم نظریہ پاکستان کے سچے سپاہی اور محب وطن تھے ۔ پاکستان سے محبت ان کے ایمان کا حصہ تھی ۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہ وطن ہم نے بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے ۔ اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے ۔ ہم نے آزادی کی نا قدری کی جس کی سزا سقوط مشرقی پاکستان کی صورت میں ملی ہے ۔ پاکستان کی بقا و تحفظ نظریہ پاکستان میں ہے ۔ ہم نے عطیہ ربانی کی قدرنہ کی اور قائد کی امانت میں خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ اسلام ،پاکستان اور طب کے حوالے سے جب کوئی مسئلہ ہوتا وہ تحریروتقریر دونوں صورتوں میں میدان عمل میں ہوتے اور رہنمائی کرتے ۔ آپ مولانا ظفر علی خان کے خصوصی مداح تھے،ان کے رفیق تھے ۔ مولانا ظفر علی خان کے انتقال کے بعد وہ واحد شخصیت تھے جنہوں نے ظفر علی خان کے فکرونظر کے چراغ کو جلائے رکھا وہ ظفر علی خان کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ مرکزیہ مجلس ظفر علی خان قائم کی ۔ ہر سال کرم آباد میں ان کی برسی پر تقریب کا اہتمام کرتے، ان کے افکار کو سرعام کرنے کے لیے شہر شہر جاتے اور خطاب کرتے، تقاریرکرتے ،اخبارات و رسائل میں تحریریں شائع کرواتے، اپنے تعلق اور دوستی کے شان شایان ان کی تقلید کی، یو ں وہ ظفر علی خان کی زندگی کا جزو لا ینفک بن گئے ۔ ان کی شخصیت پر قائداعظم کے سیاسی افکار،علامہ اقبال کے فکر وفلسفہ ،مولانا ظفر علی خان کے جذبوں اور ولولوں کی گہری چھاپ تھی ۔ ان کی تحریریں ، ان کے گہرے سیاسی شعور اور عمیق فکر پر دلالت کرتی ہیں ۔ انہوں نے جس جوش سے تحریک پاکستان کے لیے کام کیا اس سے زیادہ جذبے سے تعمیرو استحکام پاکستان کے لیے کوشاں رہے ۔ اسلامی شعائر و روایات کے پابند اور ان کی بے حرمتی کسی طور پر برداشت نہ کرتے ۔ آپ نے سوہدرہ میں ایک رفاہی ادارہ البدر کمپلیکس بھی قائم کیا جس میں دارالمطالعہ، لائبریری ،بچیوں کے لیے دستکاری سکول وقرآن سکول قائم کیے ۔ انجمن حمایت اسلام لاہور کی جنرل کونسل ،مجلس کارکنان تحریک پاکستان کی مجلس عاملہ ،مجلس محمد علی جوہرکی مجلس عاملہ کے ممبر ،مرکزی مجلس ظفر علی خان کے بانی و صدر ،طبیہ کالج حمایت اسلام لاہور کی کمیٹی کے ممبر رہے ۔ اتنی مصروف زندگی کے باوجودباقاعدہ مطب کرتے ۔ آپ نیشنل کونسل فار طب حکومت پاکستان کے گیارہ سال ممبر رہے ،امتحانی کمیٹی کے چیرمین اور حکما ء کی تنظیم پاکستان طبی ایسوسی ایشن کے مرکزی جنرل سیکرٹری ،فار ائیر ہیلتھ پلان اور ٹیکسٹ بک کمیٹی کے ممبر رہے ۔ ان ذمہ داریوں کے حوالے سے ملک بھر کے دورے کیے ۔ طب کی دنیا میں قیادت کے درجے پر فائز تھے اور شہید حکیم محمد سعید دہلوی کے رفیق خاص تھے ۔ آپ میدان طب میں عالمی فکرونظر کی تعلیم و تحقیق کے علم بردار تھے ۔ عطائیت کے سخت مخالف تھے اور انہیں طب کے لیے بدنامی قرار دیتے ۔ اخبارورسائل میں ملکی و ملی مسائل پر ان کی تحریریں باقاعدگی سے ان کی زندگی میں شائع ہوتی رہیں ۔ ان کی معروف تصانیف میں ظفرعلی خان اور ان کا عہد ،قائد اعظم محمد علی جناح ،علی گڑھ کے تین نامور فرزند،رسول کائنات،طبی فارما کوپیا ،جدید و قدیم طب کا موازنہ ،پھلوں وسبزیوں سے علاج شامل ہیں -اس قدر مصروفیات کے باوجود قلم وقرطاس سے رشتہ قائم رکھا ۔ آپ9 دسمبر 1994 ء کو چند روزہ علالت کے بعد جمعہ کی شام انتقال کرگئے ۔ آپ کی نماز جنازہ حافظ احمد شاکر بن عطا اللہ حنیف نے پڑھائی ۔ آپ کو آبائو اجداد کے پہلو میں سوہدرہ میں سپرد خاک کیا گیا ۔ شہید پاکستان محمد سعید نے ان کو یوں خراج عقیدت پیش کیا – حکیم عنایت اللہ نسیم راہ حق کے مسافر تھے ۔ انہوں نے اس راہ میں مقصدہر سنگ گراں کو نظر انداز کیا ان کا اصول حیات خدمت خلق رہا اور مقصد حیات نفی ذات کرکے حقوق العباد پر ہمہ دم و ہمہ جہت ،متوجہ رہتے ۔ آپ ایک بلند فکر طبیب تھے ۔ ساتھ ساتھ علم وادب کے میدان میں مستعد و متحرک ،تحریک پاکستان سے ان کی وابستگی اور راہنمائوں سے ان کی قربت تاریخ پاکستان کا باب ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے