کالم

حفظان ِ صحت والے

آکاش

بچپن کی باتیں بھولنا تو درکنا ر بچپن ہی جان نہیں چھوڑتا جس کی بڑی وجہ والدین ہوتے ہیں جب والدین یاد آتے ہیں تب بچپن سامنے آ ن کھڑا ہو تا ہے۔ ایسی ہی ایک یاد اکتوبر کا مہینہ ہے جب گائوں میں اعلان ہوا کرتا ۔ اسپرے کرنے والوں کی ٹیم گائوں میں پہنچ چکی ہے لہٰذا تمام لوگ اپنے اپنے گھروں کا سامان نکال کر باہر رکھ دیں۔ اسپرے کرنے والی ٹیم کے پاس بڑے بڑے ڈی ڈی ٹی کے خاکی رنگ کے ڈبے ہوتے تھے جن میں اسپرے بھرا ہوتا تھا۔ عوام کو صحت مند رکھنے کے لیے جراثیم سے پاک معاشرہ بنانے کے لیے۔
لو جی اعلان کرنے کی دیر ہوتی سب لوگ بھاگ بھاگ کر اپنے کچے کوٹھے خالی کرنے لگ جاتے۔ سارا کاٹھ کباڑ کھلے آسمان کے نیچے پڑا ہوتا۔ ہماری اماں بھی جسے بڑے مان اور ارمان سے سامان کہا کرتی تھیں اُس میں ماسوائے دو چار چارپائیوں اور ایک آدھ صندوقچے ٹرنک کے کچھ نہیں ہوا کرتا تھا۔ وہ بھی نکال کر باہر رکھ دیتیں۔کنس پر رکھے ہوئے پیتل تانبے کے پکے برتن ‘تام چینی کی پلیٹیں اور کئی قسم کے پیالے بھی ایک جگہ اکٹھے پڑے ہوئے سسک رہے ہوتے۔بچپن میں مجھے یہ اکھاڑ پچھاڑ پسند نہ تھی۔ پریشان کردیتی تھی
خاص لباس والے جوان گھر گھر داخل ہونے لگتے اسرائیلی فوجیوں کی طرح جنہوں نے میزائل نمااسپرے والی ٹینکیاں کندھوں پر اٹھارکھی ہوتیں۔وہ بلا جھجھک ہر گھر کے ہر کچے کوٹھے کو اپنا سمجھ کر اُس میں گھس جاتے اور چھت سے لے کر دیواروں تک کو اسپرے کی گھنی بوچھاڑ سے سفید کرتے جاتے ۔آج ایسے کئی پروگرام دنیا بھر میں کامیابی سے چلائے جاتے ہیں پولیو کی ویکسینیشن کی طرح۔اُن کی ٹیمیں بھی گھر گھر جا کربچوں کو قطرے پلا رہی ہوتی ہیں۔
ہماری پنجاب کی مائیں جن کی کوکھ نے ہمیں بعض دفعہ خوف بھی دیا ہے۔ اس خوف کی بڑی وجہ پینسٹھ اور اکہتر کی جنگ تھی ۔ کئی سال تک ہر گھر میں بڑے زور و شور سے جنگ کے واقعات نیکی سمجھ کر سنائے جاتے رہے ۔ کسی جنگی جہاز کی نچلی پرواز بچوں کی جان نکال دیتی۔ مگر آج ہم فلسطین میں ملبے کے بنتے ہوئے ڈھیر دیکھ رہے ہیں جن میں بچے دبے ہوتے ہیں تہہ درتہہ ۔جنگ کے دنوں میں بلیک آئوٹ کے قصیدے سنائے جاتے جس کے نتیجے میں آبادی کا سیلاب آ گیا۔ ان جنگوں سے پہلے جس گھر میں دو چار بچے تھے وہاں خیر سے اب آٹھ آٹھ لُڈیاں ڈالتے پھرتے تھے۔
سپرے والے تباہی مچانے کے لیےہمارے گھر میں بھی داخل ہو جاتے جنہیں دیکھ کر میں دبکا ہوا ٹاہلی کو جپھا ڈال کر کھڑا ہو جاتا اُن کو غور سے دیکھنے کے لیے۔ کمروں میں داخل ہونے سے پہلے میری ماں انہیں حکم دیتی ۔ وے بھائی !ٹھہر جا میں نے ابھی اوٹ اٹھانے ہیں۔ یہ اوٹ چارپائیوں کے نیچے دو دو چار اینٹوں کے بنے ہوتے جس کی وجہ سے لکڑی کی چارپائیاں سینک لگنے سے محفوظ رہتیں اور تھوڑی اونچی بھی ہو جاتیں۔ ان اوٹوں میں ٹڈیاں بڑی فیاضی سے اپنے گھر بار آباد کر لیتیں اور رات بھر شور مچاتیں۔ٹڈیاں جب بے چین ہو کر باہر بھاگنے لگتیں تو مرغیوں کی عید ہو جاتی ۔ وہ جی بھر کر ان کا شکار کرتیں۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ایک ایک اوٹ ہمارے اندر بھی استوار ہوتا ہے ۔ جن میں کدورت اور نفرت کی ٹڈیاں ہر وقت شور مچاتی رہتی ہیں۔ہم روٹین کے عادی لوگ ایسے صفائی ستھرائی والے کام کم ہی پسند کرتے ہیں۔میں اماں سے شکائیت کیا کرتا توا سپرے نہ کروایا کر مجھے بو آتی ہے۔ تو وہ پیار سے کہتیں۔ پتر سال میں ایک آدھ بار سارا سامان کچے کوٹھے میں سے باہر نکا ل کر رکھنا بڑا ضروری ہوتا ہے۔ اس سے کمرے میں ہوا پھر جاتی ہے۔سامان کو دھوپ لگ جاتی ہے ورنہ پڑا پڑا خراب ہو جاتا ہے۔
پیارے قارئین ! آج ہمارے گھر بھی پکے ہیں اور دل بھی ۔میں اکثر اپنی کزن سے کہتا ہوں بھلی لوک تو بھی سال میں ایک آدھ مرتبہ سامان کو باہر نکال کر رکھ دیا کر۔ اس سے کمروں میں جراثیم مر جاتے ہیں ۔تو وہ چڑ کر کہتی ہے۔ رو ز تو سیاپا کرتی ہوں ۔ کہاں ہے گند مجھے دکھائو۔ تو میں اسے کچن سے آٹے والا کنستر اپنی جگہ سے کھسکا کر دکھاتا ہوں جس کے نیچے اکثر میل کچیل جمع ہوجاتی ہے۔تو وہ ہنس کر کہتی ہے ہاں کنستر والی جگہ صاف کرنا بھول گئی۔تو میں ضد کرتا ہوںکہ میری ماں کی طرح تو بھی سال میں ایک آدھ بارکاٹھ کباڑ کمروں سے ضرور نکالا کر۔ صرف ایک بار اپنی ذات کا کمرہ خالی کر کے تو دیکھیں۔اس خالی کمرے میں دھونی رما کر تو دیکھیں خدا کی قسم خود پسندی ‘ انا ‘ تکبر ‘ غرور اور نفرت کے تمام جراثیم مر جائیں گے ۔ انسان کی ذات اور اس کی تمام کڑیاں سینک اور دیمک سے بچ جا ئیں گی جو ہمارے نیک جذبات اور ارادوں کو اندر ہی اندر چاٹ رہی ہوتی ہے۔ آپ کو وہی سکون ملے گاجو اسپرے کرنے کے بعد ہمیں کچے گھروں میں ملا کرتا تھا۔اسکے لیے تھوڑا سا تردد ضرور کرنا پڑے گا۔جھکنا پڑے گا۔ پسپا ہونے کی ایک بو ضرور ہوتی ہے ‘لیکن دوچار دن میں آپ اُس کے عادی ہو جائیں گے اور پھر عمر بھر خو ش رہیں گے۔ویسے بھی ہمار ا کچا گھروندہ ہے جو کسی بھی وقت ڈھے سکتا ہے ۔غموں کی بارش سے مسمار ہو سکتا ہے۔اس کے گرنے سے پہلے پہلے میری آپ احباب نیک لوگوں سے بینتی ہے اپنے اپنے من مندر کو ایک بار ضرور صاف کر لیں۔یہ حفظانِ صحت کے اصولوں کے لیے بے حد ضروری ہوتاہے۔ یہ تمام جسمانی اور روحانی بیماریوں سے بچنے کے لیےفقیری رنگ کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے قدم رکھنے کی کوشش تو کریں ۔اونچا مقام اور منزل آپ کے لیے چشم براہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *