کالم

حصولِ علم اور سیرتِ مصطفیٰ ؐ

ڈاکٹر صغیر محمود ملک

تخلیق کائنات میں نوع انساں کی رشدوہدایت کے لئے ربِ ذوالجلال نے اپنے برگزیدہ بندوں کو خلق فرمایا۔ انبیاء علیہم السلام کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد تابعین و اولیاء غوث، قطب، ابدال،اخیار،اوتاد اور پھر یہ عظیم ذمہ داری صالح و جید علمائے اسلام تک آن پہنچی۔ یہ سلسلہ رسالت انسانِ اول پیغمبر اول سے شروع ہوتا ہوانبی آخر الزماں، تاجدارِ ختمِ نبوتؐ پر اختتام پذیر ہوا۔ لیکن سلسلہء تبلیغِ توحید ورسالت کی باگ ڈور صحیح العقیدہ علمائے حق الاسلام نے سنبھال لی۔ اس کائنات فانی میں درخشندگی وتابندگی جیسے ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی جھلک سیرتِ سرورِ کونین ؐکی صورت میں واضح عیاں ہونے لگی۔ جب تلک تو علمائے کرام نے وجہ کائنات نجم الکائنات جنابِ رسول اللہؐ پر نازل ہونے والے مقدس کلام اللہ شریف کتاب قرآن مجید وفرقان حمید کو بطورِ اسوہء رسول قرار دیتے ہوئے واعظِ حق فرمایا تب تک اسوہ حسنہ کی حامل سیرتِ مصطفیٰ ؐ سیرتِ سراج منیر بن کر رشدوہدایت کی صحیح العقیدہ روشنی پھیلاتی رہی۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا معلمین و متعلمین نے مطالعہ
کتاب الحق سے کم اور کتب المفروق کے علم سے کثرت سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا تو وہاں سے پھریہ بابِ سعادت ذخیرہ سیرت النبی الامین سے ویرانی اختیار کرتا صحرائے علم کی منظر کشی کرنے لگا۔ان کتب میں سے بیشتر اردو زبان میں لکھی گئیں بعض امہات الکتب ایسی ہیں جن کے حوالہ جات لغت العربی کے ذخیرہ سے مفقود ہیں۔علم دین اور علم آخرت ہی در حقیقت بنیادی اور اولین اہمیّت کے حامل علوم ہیں۔ ان سے لاعلمی و محرومی حضرات العلام سے جاہل العلا تک کے سفر کی جانب لے جاتی ہے۔تا حال زمانہ سُر تال بکھیرنے والوں نے نام نہاد علمی القابات تک ظاہری رسائی کرتے ہوئے خود کو اس جمگھٹے تک غیر معمولی کامیابی سے ہم کنار تو کر لیا لیکن دوسرے رخ کی جانب امت محمدیہ مسلمہ کو حقیقی علم سیرتِ مصطفیٰ ؐسے دور کر نے کے گناہ میں بھی شامل ہوئے اور معاشرتی زندگی میں وہی کردار ادا کیا جو کہ محض شاعرانہ مزاج قوال کرتے ہیں۔ کیونکہ جس علم سے حدودِ احکامِ شریعہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اس سے مخلوق خدا اور امت رسول خدا کو کوسوں دور کر دیا۔ماسوائے چند جید سکالرز اور صحیح العقیدہ اہل علم و فضل کوئی بھی ایسی تبلیغِ توحید ورسالت کی جانب گامزن نظر نہیں آتا جو ہمارے اعمال وافعال کو اللہ تعالیٰ و رسول اکرم ؐ واصحابہ وبارک وسلم کی حقیقی اطاعت صحیح رخ دے کر صراط مستقیم پر گامزن فرما سکے۔کتاب الحق و کلام الحق قرآن مجید وفرقان حمید میں جہاں جہاں بھی علم کا تذکرہ ہوا مفسرین کی وضاحت کے مطابق تمام جگہوں پر علم دین (توحید ورسالت) مراد ہےجس کا حقیقی تعلق قرآن وحدیث کے صحیح علم سیکھنے سے ہے۔وگرنہ ان تمام علوم سے عاری سُرتال کے قاری ایک شاعرانہ مزاج قوال کا کردار تو نبھا سکتے ہیں۔۔۔۔لیکن۔۔۔صحیح العقیدہ عالم و محقق سکالر کا نہیں۔واللہ اعلم باالصواب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *