کالم

حج عام آدمی کی پہنچ سے دور کیوں؟

(محمد نورالہدیٰ)

مکرمی ! عمرہ فقط 3 سے 4 لاکھ روپے میں ہو جاتا ہے ۔ جبکہ حج کیلئے اس سے کم از کم 5 گنا زیادہ (ابتدائی) بجٹ درکار ہوتا ہے ۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان ’’اضافی‘‘ عوامل کی مد میں حاجیوں کو لاکھوں روپے اضافی دینا پڑتے ہیں ۔ مذکورہ ارکان کے بغیر ہونے والا عمل یعنی، عمرہ، جس میں رہائش، ائیرپورٹ سے آنے اور واپس جانے کا سفر، مکہ سے مدینہ اور مدینہ سے واپس مکہ کا سفر وی آئی پی پیکج کے ساتھ بھی زیادہ سے زیادہ 5 لاکھ سے اوپر نہیں جاتا ۔ اگر آپ نارمل عمرہ پیکج کا انتخاب کریں گے تو وہ بھی زیادہ سے زیادہ ساڑھے 3 لاکھ سے 4 لاکھ تک ہوگا، اس سے زیادہ نہیں۔اگر حج کو دیکھا جائے تو
اضافی عوامل کے ساتھ یہ بھی اتنا مہنگا نہیں ہونا چاہئے جتنا اسے کر دیا گیا ہے۔موجودہ حج ریٹس مکمل پیکج کے ساتھ 14 لاکھ سے شروع ہو کر 30 لاکھ تک جا رہے ہیں۔ گو، کہ عالمی مہنگائی کے باعث رہائش، مکاتب و مشائر اور دیگر کے اخراجات بڑھے ہیں لیکن مختلف مدات میں ٹیکسز کے اضافے نے حج کی خواہش رکھنے والوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت فی حاجی 1 لاکھ روپے خرچہ بڑھا ہے۔ رہائشی اخراجات میں 80 فیصد ، طعام میں 100 فیصد ، ہوائی سفر کے کرایہ جات کی مد میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ بہتر ہو گا حکومت حج اخراجات کو کم از کم رکھے تاکہ غریب کی بھی حج کی خواہش پوری ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex