کالم

جیلوں کا نظام اور اختیارات

محسن گورایہ

ایک وقت تھا جیلوں کے اندر قیدی شفٹوں میں سوتے تھے، کیونکہ جیلیں اور انکی گنجائش کم اور قیدی زیادہ ہوتے تھے ،ایک وقت وہ بھی تھا جب سخت گرمی میں جیلیں تپتے ہوئے صحراوں کا نقشہ پیش کرتی تھیں ، پنکھے گنے چنے اور ٹھنڈے پانی کے کولر کا تو تصور بھی نہیں تھا ، میں نے ایک طویل عرصہ سول سیکریٹیریٹ ،جیلوں اور دوسرے محکموں کی رپورٹنگ کی ہے جس کی وجہ سے ان حالات کا جائزہ لینے کا موقع مل جاتا تھا جہاں عام آدمی کو رسائی نہیں ہوتی تھی ۔بیس پچیس سال پہلے جب میں نوائے وقت میں کام کرتا تھا تو جیلوں میں گرمیوں کے دنوں میں پنکھوں ، ٹھنڈے پانی اور دوسری ضروری سہولتوں کی کمیابی کے حوالے سے میں نے ایک خبر دی تو اگلے روز اس پر شور مچ گیا ، جنرل مشرف کا دور حکومت تھا اور جنرل خالد مقبول بڑے محنتی اور متحرک گورنر پنجاب تھے ،میں صبح دفتر پہنچا تو مجھے گورنر خالد مقبول کا ٹیلی فون آیا اور انہوں نے اس خبر کے حوالے سے مزید معلومات لیں،اس کے بعد تو ٹیلی فونوں کا تانتا بندھ گیا ،ایک فون سخت غصے میں آیا وہ ہوم سیکرٹری پنجاب بریگیڈئر اعجاز شاہ کا تھ،،گورایہ دس از بیلو دی بیلٹ،، میں نے کہا شاہ صاحب ،جیلوں کے یہی حالات ہیں جو میں نے لکھے ہیں ۔ جیل کا محکمہ ہوم سیکرٹری کے ماتحت ایک ادارہ ہے اس لئے وہ سخت رنجیدہ تھے،آپ کو خبر دینے کی بجائے مجھے بتانا چاہئے تھا آپ مجھ سے روز ملتے ہیں ، گورنر صاحب اس پر سخت ناراض ہیں ،میں نے کہا شاہ جی سخت گرمی کے موسم میں جیلوں میں پنکھے اور ٹھنڈا پانی نہ ملنا بڑا ظلم ہے،انہوں نے پنجابی میں جواب دیا ،،میں پی سی ہوٹل نہیں جیلاں چلا ریا واں ایتھے چور ڈاکو بند نیں ، توں چا ہناں ایں میں چوراں ڈاکووں نوں شربت پیاواں،، ۔ان دنوں چودھری محمد حسین چیمہ آئی جی جیلخانہ جات اور موجودہ آئی جی جیل خان جات میاں فاروق نزیر کوٹ لکھپت جیل کے سپر نٹنڈنٹ تھے،میری خبر کے نتیجے میں جیلوں میں پنکھے پورے ہو گئے اور ٹھنڈے پانے کے کولر بھی لگا دئے گئے۔
آج بھی جیلوں کے حالات مثالی نہیں مگر بہت بہتر ہیں ،جیل سروس سے تعلق رکھنے والے آئی جی ،جیلوں کے نظام کو اچھا سمجھتے اور بہتر چلا رہے ہیں،پچھلے دنوں ایک سیاسی جماعت کی خواتین کے حوالے سے جب یہ بیانات آئے کہ ان کے ساتھ جیل کے اندر بد سلوکی کی گئی ہے تو مجھے یقین نہیں آیا تھا ،میں نے اپنے طور پر اس کی تحقیق کی ،پھر انسانی حقوق کی راہنما آپا حنا جیلانی نے بھی اپنی رپورٹ میں اسے حقائق کے منافی قرار دیا تو اطمینان ہوا کہ اس گئے گزرے دور میں بھی جیلوں میں خواتین کے حوالے سے قانون، اصول ا و ر ضوابط پر عمل ہو رہا ہے۔
سماج کا توازن بگاڑنے والوں اور معاشرے کے وضع کردہ قوانین کو پامال کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ یہ سوال ہر دور اور ہر زمانے میں اربابِ بست و کشاد کے لئے دردِ سر بنا رہا ہے اور اس کا جواب تلاش کرنے کے عمل کو اہمیت دی جاتی رہی ہے،لمبے اور طویل سوچ بچار کے بعد یہ طے پایا کہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قید کر دیا جانا چاہئے،اس کے پیچھے جواز یہ تھا کہ قانون توڑنے والوں کو ایک جگہ محدود اور پابند رکھ کر ایک تو انہیں آزادی کا احساس دلایا جائے اور دوسرا یہ کہ وہ تنہا رہ کر سوچ بچار کریں اور خود کو معاشرے کا اچھا رکن بنانے پر توجہ دیں، سوچا گیا کہ اس طرح سماجی بگاڑ دور ہو سکے گا اور معاشرتی توازن کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
ہمارے جیسے ملکوں میں جیلوں کے نظام کو بہتر بنانے پر مناسب توجہ نہیں دی جاتی، ہر ادارے کی طرح جیلوں کا نظام بھی بٹا ہوا ہے، جیلوں کے اندر کے انتظامات اور جیلوں میں خدمات سرانجام دینے والے حکام اور عملے کے دیگر افراد کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور ان اختیارات کو استعمال کرنے کے معاملات ابھی بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے، جہاں تک جیلوں کے اندر کے انتظامات کا تعلق ہے تو پچھلے ادوار سے ان میں وقتاً فوقتاً اصلاحات لائی جا رہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ جیلوں کے اندرونی معاملات ماضی کی نسبت خاصے بہتر ہیں جیسے اب قیدیوں کو اچھا کھانا ملتا ہے، انہیں گھر والوں سے ٹیلی فون پر بات کرنے اور اب تو وقت گزارنے کا موقع بھی دیا جاتا ہے ، ان کی کچھ دیگر ضروریات کا خیال بھی رکھا جاتا ہے اور سماجی معاملات میں کچھ آزادیاں بھی حاصل ہیں، اس کے باوجود بہت سے معاملات توجہ طلب ہیں۔
قیدیوں کی اصلاح اور تربیت کا اہتمام کر کے اور ان کے ذہنوں میں جرائم سے نفرت پیدا کر کے انہیں شریف اور فرض شناس شہری کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دینے کے لئے تیار کیا جا سکتا ہے، انہیں مختلف ہنر سکھانے کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ رہائی کے بعد پوری خود اعتمادی کے ساتھ شریفانہ زندگی کا آغاز کر سکیں، مروجہ قوانین پر عمل درآمد میں سست روی اور ان قوانین میں پائی جانے والی پیچیدگی کے باعث لا تعداد لوگ مقدمات کے فیصلوں کے انتظار میں طویل عرصہ حوالاتی کی حیثیت سے جیل میں بلا وجہ محبوس رہتے ہیں۔
اب کچھ بات جیلوں کے انتظامات اور قیدیوں کے معاملات پر توجہ دینے کے لئے تعینات عملے کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے بارے میں، موجودہ آئی جی جیل خانہ جات بہتر افسر ہیں، انتظامی لحاظ سے بھی خاصے سٹرانگ ہیں مگر محسوس یہ ہوتا ہے کہ کئی معاملات میں وہ بے بس ہیں،اس زمینی حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ جب تک کسی شعبے ادارے یا محکمے کے اعلیٰ ترین افسر کے پاس اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے مکمل ایڈمنسٹریٹو اختیارات نہیں ہوں گے اس ادارے یا شعبے کے معاملات کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ جیلوں کے انتظامی معاملات کے حوالے سے جن مسائل اور خامیوں کا ذکر کیا گیا ہے سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ اس محکمے کے اعلیٰ ترین افسر کو حاصل اختیارات کے محدود یا مسدود ہونے کی وجہ سے تو نہیں ؟ ہمارے ملک میں جیلوں کے انتظامی معاملات میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے، توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ کہیں اصلاحات کی راہ میں آئی جی کے محدود اختیارات تو رکاوٹ نہیں ، حالات اب اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ ایک ایڈیشنل سیکرٹری بھی آئی جی جیل خانہ جات پر بھاری محسوس ہوتا ہے، کسی ادارے کے معاملات کو قابو میں رکھنے کے لئے چیک اینڈ بیلنس کا نظام قائم کرنا پڑتا ہے لیکن جب آئی جی جیل ایک کرپٹ اور نا اہل ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کو بھی نہ بدل سکیں تو وہ جیلوں کے نظم و نسق کو اچھے طریقے سے کیسے چلا سکتے ہیں؟ اگر حکومت ملک بھر کی جیلوں کو واقعی ایک اصلاحی ادارہ بنانا چاہتی ہےجہاں قید کئے جانے والے قید پوری ہونے پر معاشرے کے مفید شہری بن کر نکلیں تو محکمہ ہوم کو آئی جی کو با اختیار بنانا ہو گا محکمہ جیل خانہ جات کے آئی جی کو پولیس کے آئی جی کی طرح فنانشل اور ایڈمنسٹریٹو پاورز دینا ہوں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex