پاکستان

جوکچھ کہنا تھا اور جو میزپر رکھنا تو وہ ہم نے مذاکرات میں رکھ دیا، شاہ محمود قریشی

(پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا ہےکہ پہلے ہی کہا تھا مذاکرات کو تاخیری حربے کے طورپر استعمال نہ کیا جائے، حکومت کی جو سوچ کل دیکھی اگر وہی رہتی ہے تو مذاکرات کی مزید نشستیں بے معنی دکھائی دیتی ہیں۔

ایک بیان میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جوکچھ کہنا تھا اور جو میزپر رکھنا تو وہ ہم نے مذاکرات میں رکھ دیا، حکومتی حلقوں نے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، مذاکرات سے پہلے خواجہ آصف، جاویدلطیف کی گفتگو دیکھ لیں، مولانا فضل الرحمان کا رویہ دیکھ لیں، حکومتی نمائندوں کے رویوں اور گفتگو کے باوجود ہم نے کوشش کی۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف ہمارے گھروں پر حملےکیےگئے،گھروں پر حملوں کے باوجود مذاکرات جاری رکھے تاکہ قوم کواس ہیجانی صورت حال سے نکالیں، مئی کے انتخابات کےلیے ہم تیارہیں، ہم نے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومتی نقطہ نظرکو سمجھنے کی کوشش کی، آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے جو قانونی رکاوٹیں ہیں اس کا حل بھی پیش کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے