کالم

جنوبی پنجاب کیا پڑھ رہا ہے

محمود شام

’’بستی کے بڑوں کا فیصلہ تھا کہ ’طا‘ کو بستی سے نکال دو۔ نہیں تو اس کے اچھوتے اور عجیب و غریب خیال بستی میں زہر پھیلادیں گے۔ بستی کو برباد کردیں گے۔طا ویسے تو اس بستی میں پیدا ہوا تھا۔ مگر وہ یکلخت سب سے مختلف ہوگیا تھا۔ پتا نہیں اس کے دل کو کیا ہوگیا تھا۔ اس نے اپنی نیچی چھت والی کوٹھڑی کی دیوار میں ایک سوراخ نکال لیا تھا۔ اب کوٹھڑی کے اندر روشنی آدھمکتی۔ تازہ ہوا بھی آتی۔ پھر وہ تازگی اور روشنی میں عجیب عجیب باتیں سوچنے لگتا۔ دماغ کی بند کتاب کے ورق الٹنے پلٹنے لگتا۔ اب تو بستی والوں کیلئے اس کی باتیں انوکھی تھیں۔ قدرت کے اسرار لگتے تھے بجھارتیں بن گئی تھیں۔ جتنے منہ اتنی باتیں سننے کو ملتیں۔ ’’یہ شخص پاگل ہوگیا ہے۔‘‘ جاگتے میں خواب دیکھتا ہے۔ خود کلامی کرتا ہے۔ یہ بستی والوں سے الگ نکلا ہے۔‘‘( منتخب سرائیکی افسانے ۔افسانہ نگار۔ بتول رحمانی۔ افسانہ۔ روشنی کا مجسمہ۔ اُردو ترجمہ۔ سلیم شہزاد۔ مطبع اکادمی ادبیات پاکستان)یک طوفان گزر چکا ہے۔ تباہی بربادی کے اعدادو شُمار ابھی سامنے آئیں گے۔ سیاسی سماجی طوفان جاری ہے۔ جھوٹ بولے جارہے ہیں۔ معیشت قابو میں نہیں آرہی ۔آج ہمیں پاکستان کی ایک میٹھی بولی سرائیکی کی مہک سے لطف اندوز ہونا ہے۔ خواجہ غلام فرید کی ’کوک‘سننا ہے۔ منیر نیازی نے کہا تھا۔جہڑیاں تھانواں صوفیاں جاکے لیاں مل۔ اوہ انہاں دے عشق دی تاب نہ سکیاں جھل۔ اکو کوک فرید دی سنّے کر گئی تھل۔ مجھے تو خان صاحب بھی ایک صوفی ہی لگتے تھے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست کی سماعت میں اپنی اپیل بھی سرائیکی مصرع پر ختم کی تھی۔ یہ ان کی ہنگامہ خیز اور انتہائی قیمتی زندگی کا آخری عوامی بیان تھا۔ انہوں نے چیف جسٹس سے کہا تھا ’مائی لارڈ۔ جب کوئی ایک موت کوٹھڑی میں ہوتا ہے۔ ایسے ایسے معاملے سامنے آتے ہیں جو پہلے کبھی نہیں آتے۔ میں سرائیکی کو بر صغیر کی میٹھی زبانوں میں سب سے موثر پاتا ہوں اس لئے اپنی بات ایک سرائیکی لوک گیت کے ان الفاظ پر ختم کروں گا۔
’در داں دی ماری دلڑی علیل اے‘
پاکستان کے ایک عظیم فرزند کا یہ آخری عوامی اظہار تھا۔ ہم بد قسمت لوگ ہیں۔ اپنے محسنوں کے ساتھ کیسا سفاک سلوک کرتے ہیں۔ پھر ان کے ورثا انہی ظالم قوتوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ کہانی پھر کبھی سہی۔ اس وقت تو پاکستان کی ایک محبت بھری زبان سرائیکی کی بات ہورہی ہے۔’ سندھ کیا پڑھ رہا ہے‘ کے بعد ’سرائیکی پٹی کیا پڑھ رہی ہے‘ یا ’جنوبی پنجاب کیا پڑھ رہا ہے‘۔ صاحب دل ہمارے حلقۂ احباب میں ہر علاقے میں موجود ہیں۔ان کا کرم کہ ہماری مدد کرتے ہیں۔ پہلے ہم لکھنے والوں کے نام نذر قارئین کرتے ہیں۔ پھر موضوعات، لہجے، تحریکیں۔ سب سے محترم اور قابل قدر۔ شاکر شجاع آبادی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن سے نسلیں فیضیاب ہورہی ہیں۔ رفعت عباس۔ اقبال سوکڑی۔ مخمور قلندری۔ الطاف ملک۔ امان اللہ ارشد۔ عزیز شاہد۔ اصغر گورمانی۔ احمد خان طارق۔ جہانگیر مخلص۔ غیور بخاری۔ اشو لال فقیر۔ افکار علوی۔ خالد ندیم شانی۔ ظہیر احمد مہاری۔ خالد جاوید۔ الیاس دانش۔ قیصر عباسی۔ امتیاز علی اسد۔ شاکر حسین شاکر۔ ضیا بلوچ۔ امجد بخاری۔ رضی الدین رضی۔ ثاقب انجم۔ احمد فرید۔ ندیم ناجہ۔ قمر رضا شہزاد۔ شہناز نقوی۔ صائمہ نورین بخاری۔ شگفتہ بھٹی۔ ماہ رخ حفیظ۔ تانیہ سلیم۔ سحر سیال۔ ڈاکٹر قرۃ العین ہاشمی۔ نازیہ فیض۔ میمونہ سعید۔ رضوانہ تبسم۔ نوشابہ نرگس۔ مہرین ہاشمی۔ اگر کچھ اہم نام رہ گئے ہوں تو ان سے دلی معذرت۔ ایک دو تحریریں اور بھی سرائیکی پر آسکتی ہیں۔ یہ کام تو یونیورسٹیوں کو کرنا چاہئے کہ سرائیکی کے ان مقبول اہل قلم کی تخلیقی جہات پر مبسوط تحقیقی مقالات قلمبندکریں۔ شاکر حسین شاکر ہمیشہ رہنمائی کرتے رہے ہیں۔ ظفر آہیر پورا تعاون کرتے ہیں۔ الیاس دانش پُر عزم نوجوان صحافی ہیں۔ مقبول کہانی کار۔ سعدیہ کمال سرائیکی کی پیشرفت کیلئےپورے ملک میں آواز بلند کرتی نظر آتی ہیں۔
سرائیکی پٹی کے نوجوان انگریزی ادب کے بھی دلدادہ ہیں۔ ٹالسٹائی۔ چیخوف کے ساتھ ساتھ نئے ناول نگاروں۔ میلان کنڈیرا۔ مورا کامی۔ کو بھی پڑھ رہے ہیں۔ جارج آر ویل کا 1984پھر پڑھا جارہا ہے۔ ادبی رسالوں۔ خاص کر سرائیکی رسالوں کی زیادہ دھوم نہیں ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر سرائیکی موجودگی غالب ہے۔بزم کتاب دوستاں۔ملتان لٹریری کلب۔ ملتان ٹی ہائوس۔ سرائیکی ادبی سنگت۔ علمی مذاکرہ اُردو مذاکرہ۔ آن لائن گروپوں میں سرائیکی نوجوان بزرگ ہزاروں کی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔ہمارے رفیق کار نذیر لغاری کے ناول ‘وساخ‘ کا تذکرہ بہت ہورہا ہے۔ حفیظ خان کا ’وجود‘ نئی نسل کا محبوب ناول ہے۔ رفعت عباس کے ناول ’ لون دا جیون گھر‘۔ اسلم انصاری کا ’بیڑی وچ دریا‘۔ بھی مقبول ترین ناولوں میں سے ہیں۔ سرائیکی شاعری بھی رومان کے مرحلے میں ہے۔ شاعری گائیکی کے ذریعے زیادہ مقبول ہورہی ہے۔ نثر کی طرف پہلے توجہ کم تھی۔ڈاکٹر انوار احمد کے ’پیلوں‘ نے سرائیکی لکھت پڑھت کی طرف نئی نسل کو مائل کیا تھا۔دیوان خواجہ فرید اب آن لائن دستیاب ہے۔ خوشی یہ ہوئی کہ سرائیکی لسانیات پر پروفیسر شوکت مغل نے بہت تحقیق کی ہے۔اکادمی ادبیات پاکستان کی مطبوعہ منتخب سرائیکی افسانے میں اختر علی بلوچ۔ ارشاد تونسوی۔ اسلم عزیز درانی۔ اسلم قریشی۔ ڈاکٹر انوار احمد۔ اشو لال۔ باسط بھٹی۔ بتول رحمانی۔ بشریٰ قریشی۔ جاوید آصف۔ حبیب فائق۔ حبیب رومانہ۔ دلشاد کلانچوی۔ سجاد حیدر پرویز۔ سید حفیظ اللہ گیلانی۔ سید نصیر شاہ۔ شیماسیال۔ طارق جامی۔ ظفر لاشاری۔ عامر فہیم۔ غزالہ احمدانی۔ غلام حسین حیدرانی۔ قاسم جلال۔ محمد اسماعیل احمدانی ۔ مزار خان۔ مسرت کلانچوی۔ مہر کاچیلوی۔ میاں نذیر۔ نجیب حیدر ملغانی کے افسانے شامل ہیں۔ جو یقیناً ایک عالمی اورعلاقائی معیار رکھتے ہیں۔سب احباب نے ظہور دھریجہ کے سرائیکی سے عشق کو والہانہ قرار دیا کہ ان کے جھوک پبلشرز نے سرائیکی کتابیں بڑی تعداد میں شائع کی ہیں۔ سرائیکی نوجوان کی یہ سوچ علاقے میں بیداری پھیلارہی ہے۔معذرت چاہوں گا۔ بہت سے گوشے رہ گئے ہیں۔ ایک اور تحریر سرائیکی کیلئے وقف کرنا ہوگی۔ اور کچھ تونسہ کے بارے میں بھی بات ہوگی جسے ’’مِنی یونان‘‘ کا لقب دیا گیا ہے۔ مِنی یونان میں ارسطو کون ہے۔ سقراط کون۔ یہ تذکرہ بھی ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex