پاکستانسیاست

جبری شادیوں کا تو سنا تھا ، اب’’جبری علیحدگیاں’’ شروع ہوگئیں:عمران خان

ہم پر جنگل کے قانون کی حکمرانی،راستے میں صرف ایک چیز کھڑی ہے جو ہماری عدلیہ ہے تحریک انصاف نے پی ڈی ایم ختم ہورہی،خواتین سے جو سلوک ہورہا اس سے پریشان ہوں

اسلام آباد(خبرنگار)پاکستان تحریک انصاف میں سینئر ارکان کی طرف سے پارٹی چھوڑ جانے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کا رد عمل آ گیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے لکھا کہ پاکستان میں جبری شادیوں کے بارے میں ہم سب نے سنا تھا لیکن پی ٹی آئی کے لیے ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے، جبری طلاق۔عمران خان نے لکھا کہ یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ ملک میں انسانی حقوق کی تمام تنظیمیں کہاں غائب ہیں؟اس سے قبل چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ لوگ پارٹی چھوڑکر نہیں جارہے بلکہ کنپٹی پر بندوق رکھ کر چھڑوائی جارہی ہے۔دوسری طرف ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی بھی کارکنوں اور حامیوں کی طرح ضمانت ملنے کے بعد دوبارہ گرفتار ہو گئے۔سابق وزیراعظم نے لکھا کہ اب ہم پر جنگل کے قانون کی حکمرانی ہے، ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون ہے جبکہ راستے میں صرف ایک چیز کھڑی ہے جو ہماری عدلیہ ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے ساتھ آئین کی ڈھٹائی سے خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کو کچلنے کے لیے پولیس کا استعمال کیا جا رہا ہے، ہمارے رہنما پارٹی چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بنیادی حقوق کو کھلے عام پامال کیا جا رہا ہے، میڈیا پر سینسر شپ ہے، عدالتی احکامات کے باوجود عمران ریاض کو عدالت میں پیش نہیں کیا جا رہا۔ اس کے علاوہ، ہمارے کارکنوں کو اس سخت ترین گرمی میں چھوٹی جیلوں میں رکھا گیا ہے جبکہ دوسروں کو حراستی تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔آخر میں عمران خان نے لکھا کہ اس یزیدیت کو تسلیم کرنے کا مطلب ہماری قوم کی موت ہے اس لیے آخری سانس تک مزاحمت کروں گا۔احتساب عدالت اسلام آباد میں غیر رسمی گفتگو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ اس طرح کبھی پارٹیاں ختم نہیں ہوتیں، پارٹی اس طرح ختم ہوتی ہے جیسے پی ڈی ایم ختم ہورہی ہے۔ جس طرح پی ڈی ایم کا ووٹ بینک ختم ہو رہا ہے۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ میں صرف کارکنان اور خواتین کے لیےپریشان ہوں، جس طرح کارکنان اور خواتین کےساتھ سلوک کیا جارہا ہےاس پر پریشان ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے