کالم

تم کتنے بھٹو مارو گے

محسن گورایہ

پاکستان کی سیاسی تاریخ بھی کیسی سیاہ تاریخ ہے،ہمیں اس پر شرم بھی محسوس نہیں ہوتی ، موجودہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ دس سال تک پنجاب کے وزیر قانون رہے ،جب وہ اقتدار سے الگ ہوئے تو ان کی گاڑی سے سیروں کے حساب سے ہیروئین برآمد ہو جاتی ہے اور انہیں لاہور کی کیمپ جیل میں رکھا جاتا ہے،قید اتنی سخت کہ فیملی کے علاوہ طویل عرصہ تک اس جرم کی وجہ سے کوئی انہیں مل بھی نہیں سکتا تھا ،اپنی عمر کا ایک حصہ وہ عدالتوں کے چکر لگاتے رہے مگر بعد میں پتہ چلتا ہے کہ ان پر ڈالی جانے والی ہیروئین کا کوئی وجود ہی نہیں ہے ،وہ موجودہ وزیر داخلہ ہوتے ہوئے بھی اپنے ملزموں کو ڈھونڈ نہیں سکے۔سندھ کے ایک صوبائی وزیر سے پاکستان کے منصف اعلیٰ نے ہسپتال کی جیل میں اپنے ہاتھوں سے شراب برآمد کی جس کا بڑا چرچا ہوا ،بعد ازاں پتہ چلا وہ شراب نہیں شہد تھا۔اب تو حد ہی ہو گئی ایک سابق وزیر اعظم عمران خان کے پیشاب سے کوکین اور شراب برآمد کر دی گئی ہے،پتہ نہیں اس پر کونسی دفعات لاگو ہوں گی۔ ہماری سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو پاکستان میں چند پارٹیاں ہی کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں، ان میں دو پارٹیاں زیادہ نمایاں رہی ہیں، مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی،اب نمایاں ہونے والی تیسری بڑی پارٹی پاکستان تحریک انصاف ہے جو ان دنوں اپنے بعض اقدامات کی وجہ سے زوال کا شکار نظر آتی ہے۔ مسلم لیگ کے بھی مختلف ادوار میں مختلف دھڑے سیاست میں سرگرم نظرآتے رہے، کبھی یہ مسلم لیگ جونیجو،کبھی ق لیگ بنی کبھی ن کبھی ض اور کئی بار تو یہ م ش اور پتہ نہیں کیا کیا بنتے بنتے بچی۔ یوں تو سیاسی پارٹیوں میں کئی چیزیں یکساں اور کئی مختلف نظر آتی ہیں لیکن ایک معاملہ ایک تجربہ ایسا ہے جس سے سبھی سیاسی پارٹیاں گزرتی رہی ہیں۔ وہ معاملہ یہ ہے کہ ان سب کو مختلف مواقع پر دبانے اور ان کا اثر و رسوخ کم یا ختم کرنے کی کوشش کی جاتی رہی اور اس سلسلے میں مخالف سیاسی پارٹیاں بھی کردار ادا کرتی رہیں، یہ سلسلہ ایوب خان کے دور سے شروع ہو کر ابھی تک جاری و ساری ہے ۔پیپلز پارٹی روٹی، کپڑا اور مکان، جمہوری سوشلزم ،مساوات پر مبنی معاشرے کا قیام جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ، کسانوں اور ان کے مفادات کا تحفظ جیسے نظریات لے کر عوام کے سامنے آئی تھی۔ ان نظریات پر عمل ہو سکا یا نہیں یہ الگ بات ہے لیکن یہ واضح ہے کہ اپنے منشور کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں پیپلز پارٹی کو شدید مزاحمتوں کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔ اگر کسی کو بُرا نہ لگے تو میں یہاں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کا حوالہ دینا چاہوں گا جس نے 1970ء کے انتخابات میں اکثریت حاصل کر لی تھی لیکن اقتدار میں اسے اس کا حصہ نہ دیا گیا اور یوں دبانے کی کوشش کی گئی۔ نتیجہ ایک المناک سانحے کی صورت میں سامنے آیا۔ اس کے بعد1977ء کے انتخابات آئے تو تقریباً ویسا ہی معاملہ ہوا جب انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کیا گیا اور احتجاج کر کے پی پی پی کو اقتدار سے محروم کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات ختم کرنے پر سمجھوتہ ہو چکا تھا لیکن پھر مارشل لا لگا دیا گیا۔ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیئے جانے کے بعد ان کی بیٹی بینظیر بھٹو نے پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی لیکن ضیاء الحق کے مارشل لا کی وجہ سے بھٹو کے متعدد قریبی ساتھی ان کی بیٹی کا ساتھ چھوڑ گئے۔ ممتاز بھٹو ڈاکٹر مبشر حسن عبدالحفیظ پیرزادہ غلام مصطفیٰ جتوئی، غلام مصطفیٰ کھر اور کئی دوسروں نے پیپلز پارٹی سے اپنی راہیں جدا کر لیں حتیٰ کہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو ملک سے فرار ہو کر دوسرے ممالک میں پناہ لینا پڑی۔ جنرل ضیا الحق کے ایک حادثے کا شکار ہونے کے بعد نئے عام انتخابات کا ڈول ڈالا گیا تو اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) بنا کر پیپلز پارٹی کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہ ہو سکی۔ عام انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی حکومت تو بن گئی لیکن پیپلز پارٹی کے مخالفین کو کسی پل چین نہیں آ رہا تھا چنانچہ حکومت قائم ہوئے ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لائی گئی جو ناکام ہو گئی۔ بالآخر آئین کے آرٹیکل 58 2B کے تحت پیپلز پارٹی کی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا۔1993ء میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں مرکز میں ایک بار پھر پیپلز پارٹی کی حکومت تو بن گئی لیکن یہ ٹرم بھی پوری نہ ہونے دی گئی۔ بے نظیر بھٹو کے اپنے منتخب کردہ صدر فاروق لغاری نے بے نظیر کی منتخب حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد آنے والے مسلم لیگ (ن) کے دور (1997-99ئ) میں بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کو جلا وطنی اختیار کرنا پڑی۔ 1999ء میں پرویز مشرف نے اقتدار اپنے ہاتھوں میں لیا تو کہا کہ وہ (بے نظیر بھٹو اور نواز شریف) اب واپس نہیں آئیں گے لیکن پھر حالات اور وقت نے ایسا پلٹا کھایا کہ ان کو واپس آنے دیا گیا تاہم 27 دسمبر 2007ء کو بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی میں ایک خود کش حملے میں قتل کر دیا گیا۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت تو قائم ہو گئی لیکن کچھ تقاضے پورے کرنے کے سلسلے میں ان پر مسلسل دبائو رہا۔ گزشتہ ادوار میں بنائی گئی کچھ جائیداروں کے معاملات بھی پیپلز پارٹی کی حکومت کے گلے کی پھانس بنے رہے۔ کچھ بے نامی بینک کھاتوں کے معاملات تو اب تک چل رہے ہیں۔ اس پارٹی نے 11 سال آمریت کا سامنا کیا حتیٰ کہ بھٹو کو پھانسی تک دے دی گئی، ان کی بیوی اور بیٹی کو پابندِ سلاسل کیا گیا لیکن پیپلز پارٹی ختم نہ کی جا سکی۔مسلم لیگ (ن) کی کہانی اس سے مختلف نہیں ہے اس کو بھی جتنا زور زبردستی کے ساتھ دبانے کی کوشش کی جا تی رہی ، اتنا ہی یہ پارٹی ابھر کر سامنے آ تی رہی ۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی و بیروزگاری اور کچھ دوسرے عوامل کی وجہ سے یہ پارٹی اس وقت بھی عوامی سطح پر تنقید کی زد میں ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ عمران خان کے دورِ حکومت میں مہنگائی کے ہاتھوں پریشان تھے لیکن اس دور میں تو مہنگائی نے تمام ریکارڈ توڑ دیے گئے ہیں۔ یہ مسائل یقیناً موجود ہیں لیکن اصل کہانی وہی ہے کہ پیپلز پارٹی کی طرح نون لیگ کا راستہ روکنے کی بھی متعدد بار کوشش کی جا چکی ہے۔اب تحریک انصاف شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے ۔اس ساری بحث کا لب لباب یہ ہے کہ جب بھی کسی پارٹی کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ پہلے سے زیادہ ابھر کر سامنے آ جاتی ہے۔ پیپلز پارٹی کا تو یہ نعرہ بن گیا تھا کہ تم کتنے بھٹو مارو گے ہر گھرسے بھٹو نکلے گا۔ تمام تر رکاوٹوں اور مزاحمتوں کے باوجود سیاسی پارٹیاں اپنا وجود برقرار رکھتی ہیں،مگر ایک اور بات بھی بالکل واضع ہے کہ سیاسی جماعتوں اور ان کے راہنماوں کو اب بھی ہوش نہیں آئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex