کالم

تعلیم، تربیت اور میلاد

ڈاکٹر صغیر ملک

خدائے واحد و متعال عز وجل کا بے پناہ شکر گزار ہوں کہ روز نامہ اومیگا نیوزمیں شائع ہونے والے گزشتہ کالم ” میلاد نامہ” کو نہائت پزیرائی حاصل ہوئی متعدد قارئین نے مزید وضاحت و مفصّل اندازِ تحریر کی تجاویز پیش کیں۔جس کے لئے راقم الحروف قارئینِ روز نامہ اومیگا نیوز کا انتہائی مشکور ہے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے کلامِ مقدس، قرآن مجید وفرقان حمید نے نبی مکرم، رسولِ محتشم جنابِ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے وسیلہ سے پارہ؛18سورۃ المؤمنون میں کامیاب مؤمن کی چند صفات آشکار فرمائیں ہیں جو اختصاراً قلمبند کر رہا ہوں۔1؛ یقیناً صاحب ایمان نے کامیابی حاصل کر لی، مطلب جس طرح دہقان زمین کا سینہ شق کرتا ہے تو پھر اس میں مشقت سے بیج کاشت کرتا ہے تو فصلِ بہاراں کے حصول میں یقینی کامیابی حاصل کرتا ہے ویسے ہی اللہ اور اس کے نبی آخر الزماں پر ایمان رکھنے والا دنیاوی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے فلاح کا راستہ اختیار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کا مستحق قرار پاتا ہے۔2؛ جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔ربّ العالمین کی بارگاہ میں اس انداز سے رکوع و سجود میں قلبی یکسوئی ہو کہ ماسوائے خالقِ کائنات اور رسولِ کائنات کسی دوسرے کا قصد خیال و وسوسہ نہ آئے بارگاہِ ربوبیت کا خوف اور عاجزانہ کیفیت کا یہ عالم ہو کہ سیرتِ طیبہ کا عملی نمونہ نظر آئے۔3: جو لغویات سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ مذکورہ بالا صفات اپنے وجودِ بشری میں پیدا کر کے ایک مسلمان کامیاب مؤمن کی معراج تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ اور جب جب جیسے جیسے کلمہ گو مسلمان اس راستے پر گامزن ہو جاتا ہے تو رفتہ رفتہ وہ عِشق مصطفیٰ کریم ؐ کے سمندر میں ڈوبتا چلا جاتا ہے حتیٰ کہ اسے کسی لحاظ سے بھی دنیائے عطا میں کسی دنیاوی آقا کی عنایات کی طلب نہیں رہتی۔ کیونکہ۔۔۔۔۔
فطرتِ انسانی ہے کہ کچھ خاص دنیاوی رشتوں سے لگاؤ معمولاً کچھ زیادہ ہوتا ہے۔ اور یہی رشتے ماں باپ بہن بھائی بیٹے بیٹیاں جن سے دیگر عزیز واقارب کی نسبت والہانہ محبت کچھ درجہ حیثیت رکھتی ہے انہی رشتوں کی محبت کا امتحان خدائے بزرگ و برتر نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے۔ترجمہ؛ اے نبی مومنوں سے فرما دیجئیے اپنے ماں باپ بہن بھائی تمہاری بیویاں اور تمہارا مال جو تم نے کمایا ہے جس کے کم ہونے سے تم ڈرتے ہو اور تمہارے گھر جو تمہیں پسند ہیں اللہ اور اسکے رسول کریم ﷺ سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر اللہ کے حکم کا انتظار کرو۔اس فرمانِ باری تعالیٰ میں جن تمام رشتوں کا ذکر کیا ہے ان سب سے محبت ایک انسانی فطری عمل ہے۔ کسی بھی محبت میں قرابت داری زیادہ معنی رکھتی ہو تو اسے طبعی محبت کہنا غیر معمولی نہ ہوگااور اگر یہی وارفتگی کسی جمال و کمال یا پھر کوئی احسان کی بنیاد پر ہو تو ایسی محبت محض عقلی تصور ہو گی لیکن ان تمام علوم سے بالا تر محض مزہب کے رشتے کی بنیاد پر محبت قائم ہو تو یہی روحانی محبت کی اصل ہے اور روحانی محبت ہی کامل ایمان کی دلیل ہے۔نہائیت کم نصیبی ہے کہ ہم نے میلاد محض محافل منعقد کرنے تک محدود کر دیا اور اطاعتِ رسول کی بجائے میلادِ رسول کو اپنا وطیرہ بنا لیا اور اتباع سے بالکل بے فکری اختیار کر لی۔
عصرِ حاضر میں ضرورت اس فعل کی ہے کہ حیات النبی کو منبع رشد و ہدایت گردانتے ہوئے سیرت النبی الامین کے ہر پہلو پر غور و خوض کیا جانا چاہئے تا کہ اسوہ کامل پہ عمل اس حدِ ایمان تک پہنچے کہ ہر لحاظ سے قرون اولیٰ کی تازہ تصویری جھلک عیاں ہو جس کا پیغام عالمِ اسلام میں یوں پہنچے کہ دیکھو جنہوں نے عزم و استقلال سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی والہانہ فرمانبرداری کی قیصر و کسریٰ کے خزانے ان کے قدموں میں تھے۔ محبتِ رسول اللہ کا کوئی خاص مہینہ نہیں اور نہ ہی خاص وقت ہے بلکہ یہ تو حسن و جمال مصطفیٰ سے لبریز وہ کیفیت ہے جس میں ہر سانس تکمیلِ ایمان کا سرمایہ حیات ہےاگر معاشرتی زندگی میں اہلِ ایمان کو اپنی عظمت رفتہ کی تجدید کرنا مطلوب ہے تو سالانہ میلاد النبی کے بجائے ہر روز ہر لمحہ میلاد منانا ہو گا اور اس کے لئے اشد ضروری ہے حیات النبی کے ہر ظاہری و باطنی علوم پر رسائی حاصل کرنے کی جدو جہد کی جائے تاکہ معلوم پڑ سکے کہ جس ہستی کامل کا ربیع الاول جیسے مبارک مہینہ میں یومِ ولادت مناتے ہیں وہ ہستی مظہر علم تھی، آئینہ دیانت اور انصاف کا معیار تھی، پیکرِ حُسنِ اخلاق تھی۔
یہی وہ تمام بنیادی اعمال ہیں جن میں تواریخ البشر میں کبھی ردو بدل نہ ہو سکا ہے ،نظ ہو سکے گا اور امتِ محمدیہ مسلمہ کو حقیقی طور پر ان پہ عمل پیرا ہونا ہو گا وگرنہ رسوائی و خواری مقدر بن چکی۔
مقام اوج کہ بلندیوں پر پہنچنا ہے تو انہی کمالات کو معمول بنانا ہو گا تا کہ اسلامی معاشرے کو حقیقی سعادت کامرانی سے استوار کیا جا سکے کیونکہ تسلیم کر لینے میں ہی کامیابی ہے کہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی علم و دانش میں،روحانی ارتقاء میں، تہذیب و تمدن میں انسانیت کا نقطئہ عروج آج بھی وہی ہے جس کی داغ بیل نبی کریم ﷺ نے اپنے دستِ نبوّت سے ڈالی تھی۔بعد ازاں چشمِ کائنات نے نظارہ کیا کہ اسی نقطئہ عروج سے منحرف ہونے والوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی پسماندگی کا سامان مہیا کیا۔
آج امت اسلامیہ کو باہمی اتحاد کی ضرورت ہے کیونکہ استعماری نظام نے جب بھی جیسے بھی مخالفین کو کچلا ہے تو محض مذہبی بنیاد پر پرکھا ہے جس میں کلمہ گو مسلمان کے لئے دائرہ حیات مفلوج کر دیا گیا ۔ تو ماننا یہی پڑے گا کہ مزہب کے رشتے کی بنیاد سیرتِ سرورِ کونین پر قائم ہے اور یہی حب رسول اکرم کا حقیقی میلاد ہے اور یہی کامل ایمان ہے۔واللہ اعلم باالصواب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے