کالم

’’تحقیقی رسائل کے اشاریوں کا انسائیکلوپیڈیا‘‘

راناشفیق خان

تاریخ نویسی اور تحقیق نگاری میں رسائل و جرائد بنیادی مآخذ کا درجہ رکھتے ہیں۔ ’’تحقیق نام ہے حقائق کی تلاش اور دریافت کا‘‘، جبکہ رسائل اپنے سماج کے بدلتے رجحانات اور نظریات کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔فروغِ علم و ادب میں جرائد و رسائل کا کردار ہر دور میں اہم رہا ہے۔ ہر زمانے کا تخلیق کار عصری دور میں موجود خوبیوں یا خامیوں کی بھرپور عکاسی کے ساتھ ساتھ معاشرے کی تعمیر وترقی کے لئے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتا ہے۔
رسائل و جرائد میں متنوع موضوعات پر مختلف قلم کاروں کی اپنے اپنے خاص اسلوب میں شائع شدہ نگارشات قارئین اور محققین کے لئے زیادہ دلچسپی کا باعث بنتی ہیں۔کتاب عموماً یک موضوعی ہوتی ہے۔ لیکن رسائل کے مشمولات میں مختلف موضوعات کے علاوہ ایک موضوع پر کئی مصنّفین کی تحریروں سے اس موضوع سے متعلق تمام پہلو سامنے آجاتے ہیں۔ اسی طرح رسالوں کی خصوصی اشاعتیں اور کسی موضوع یا شخصیت پر خاص نمبر نہایت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔
برصغیر پاک و ہند سے گزشتہ تقریباً دو صدیوں سے شائع ہونے والے لاتعداد رسائل و جرائد اپنے دور کی سیاسی، سماجی، لسانی، مذہبی و تہذیبی تاریخ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ ان رسالوں میں نامور محققین، مصنّفین کے ان گنت علمی، تحقیقی، ادبی، تاریخی ، مضامین و مقالات تک رسائی مشکل ترین بلکہ ناممکن کے قریب کام ہے۔ نادر و نایاب رسائل کی کھوج پھر ان کی فائلوں سے متعلقہ شمارے کی تلاش آسان کام نہیں ہوتا بلکہ طویل عرصے کی جستجو کے باوجود مطلوبہ مواد نہیں ملتا۔ اس مشکل کا حل علمی و تحقیقی دنیا اور لائبریری سائنس میں اشاریہ سازی اور کتابیات ہے جس کی مدد سے تحقیق کار بہت کم وقت میں اپنے مطلوبہ مواد تک رسائی حاصل کرلیتا ہے۔
کتابیات اور اشاریہ سازی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ محقق کا قیمتی وقت، سرمایہ جو مواد کی تلاش میں صرف ہوتا تھا بچ جاتا ہے۔ اشاریہ سازی انتہائی کٹھن اور جاں گسل کام ہے۔ جن مشکلات سے محققین کو کبھی کبھار واسطہ پڑتا ہے اشاریہ ساز کو بار بار ان مشکلات سے نبردآزما ہونا پڑتا ہے۔ رسالوں کی تلاش میں نجی و سرکاری لائبریریوں کے چکر لگانا اور کھنگالنا۔ اکثر ایک ایک شمارے کے لئے دوردراز کا سفر کرنا، ان کی فہرست سازی، جدید تحقیقی اصولوں پر اشاریہ سازی انتہائی مشکل عمل ہے۔
پاکستان میں ایک دو سرکاری اداروں اور جامعات میں یہ شعبہ ہونے کے باوجود فن اشاریہ سازی پر قابل تحسین کام نہیں ہو رہا۔ سرکاری جامعات میں اشاریہ سازی پر سندی مقالات لکھوائے جاتے ہیں جو قابل اصلاح ہونے کے ساتھ ساتھ محققین کی پہنچ سے دور جامعات کے کتب خانوں میں گم بلکہ دفن رہتے ہیں۔
پاکستان میں لائبریری سائنس کے میدان میں جو لوگ اشاریہ سازی اور کتابیات کا باقاعدہ طور پر کام کررہے ہیں۔ ان میں نمایاں نام محمدشاہد حنیف کا ہے۔ جن کے 20 سے زائد علمی، ادبی، دینی و تحقیقی رسالوں کے اشاریے اہل علم و فضل سے داد تحسین پا چکے ہیں۔اس میدان میں وہ ربّ العزت کے فضل و کرم سے وہ اپنے رفقائے خاص سمیع الرحمن، محمد زاہد حنیف اور دیگر چند ساتھیوں کے ہمراہ کامیابی سے سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جس کی تازہ مثال ’’تحقیقی رسائل کے اشاریوں کا انسائیکلوپیڈیا‘‘ (موسوعہ فہارس مجلات علمیہ) ہے۔
محمد شاہد حنیف کا تیارہ کردہ اشاریوں کا یہ ’’انسائیکلوپیڈیا‘‘ جس میں برصغیر پاک و ہند کے چون(۵۴) اہم دینی، ادبی، علمی و تحقیقی جرائد و رسائل شامل ہیں، کے اشاریوں کا مجموعہ ایک انوکھا تحقیقی کارنامہ ہے جس کی مثال اس سے پہلے اردو زبان کے ساتھ ساتھ کسی دوسری زبان میں نہیںملتی۔ ایسا علمی شاہکار جس میں ملک و بیرونِ ملک کے پندرہ ہزار اہل علم و قلم کے اِن چون(۵۴) رسائل کے سات ہزار سے زائد شماروں کے لاکھوں صفحات میں شائع ہونے والے ایک لاکھ کے قریب مقالات و نگارشات کا سیکڑوں بنیادی موضوعات پر مشتمل اشاریہ تیار کیا گیا ہے۔
’’تحقیقی رسائل کے اشاریوں کا انسائیکلوپیڈیا‘‘ بیس جلدوں میں گیارہ ہزار کے قریب صفحات پر مشتمل ہے جس میں مختلف مکاتب فکر (اہل حدیث، دیوبندی، بریلوی) تحریکی حلقوں اور اہم پاکستانی یونیورسٹیوں کے رسائل بھی شامل ہیں، جنہیں سیکڑوں بنیادی و ذیلی موضوعات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جیسے علوم قرآنی، اعجاز القرآن، تدوین قرآن، علوم تفسیر، عظمت حدیث، حجیت حدیث، علوم سیرت النبیؐ، صحابہ کرامؓ، صحابیات، تابعین، عبادات، شعر و ادب، فقہ و اجتہاد، فقہی مسائل، سیر و سوانح، اسلام اور مستشرقین، ادبیات، تاریخ، ادبی تحریکات، اقبالیات، غالبیات، غزلیات ، تقابل فرق و ادیان، جماعتیں، ادارے، تزکیہ نفس، شاعری، ادبیات صحافت وغیرہ کے بنیادی موضوعات کے علاوہ سیکڑوں ذیلی موضوعات میں ہزاروں مضامین کو علمی انداز میں سمویا گیا ہے۔
فاضل محقق محمد شاہد حنیف نے اس کثیر الجہاتی اشاریے کو لائبریری اصولوں کے مطابق (ترتیب زمانی، موضوع وار اور مصنف وار) مرتب کیا ہے۔ کئی خصوصیات کی وجہ سے متعلقہ مواد تک کسی بھی محقق کی رسائی کو آسان تر بنا دیا ہے۔ مطلوبہ شخصیت یا موضوع پر مواد کے لیے ہر طالب علم اور تحقیق کار کو اس فہرست سے ہی رہنمائی مل جاتی ہے۔
پاک و ہند کے قدیم ترین رسالوں کی شمولیت نے اسے ’’شاہکار انسائیکلوپیڈیا‘‘ بنا دیا ہے، جن میں ۱۸۷۶ء میں جاری ہونے والا ’’اشاعۃ السنۃ‘ ۱۹۰۷ میں جاری ہونے والا ’’مرقع قادیانی‘‘ ۱۹۳۳ میں جاری ہونے والا ’’محدث‘‘ جبکہ ۱۹۳۸ میں جاری ہونے والا ’’برہان‘‘ کے علاوہ دیگر جرائد مثلاً علوم القرآن (علیگڑھ)، ترجمان القرآن (لاہور)، تحقیقاتِ اسلامی (علیگڑھ)، الحق (اکوڑہ خٹک)، الشریعہ (گوجرانوالہ)، محدث (لاہور)، فکرونظر (اسلام آباد)، ترجمان الحدیث (فیصل آباد)، معارف مجلہ تحقیق (کراچی)، حرمین (جہلم)، فقہ اسلامی (کراچی)، المیزان (اسلام آباد)، تحقیق (پنجاب یونیورسٹی)، تحقیق (سندھ یونیورسٹی)، معارف اسلامی (علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی)، معارفِ اسلامیہ (کراچی یونیورسٹی، الثقافۃ الاسلامیہ (کراچی یونیورسٹی) کے علاوہ پاک و ہند کے کئی اہم علمی و تحقیقی جرائد شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے