کالم

تحریک پاکستان ، جمہوریت اور عوامی مسائل

یاورعباس

قیام پاکستان کے اغراض و مقاصد کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے قیام کا مقصد یہاں کے مسلمانوں کو مذہبی آزادی ، معاشی خوشحالی اور دنیا میں ریاست پاکستان کو باوقار ، خود مختار اور آزاد خارجہ پالیسی کے تحت کام کرتے ہوئے معاشرہ میں اخوت، مساوات اور اسلامی معاشرہ کی تشکیل تھا بدقسمتی سے آج ہم 75سالوں بعد بھی ویسے کے ویسے ہی غلامی محسوس کررہے ہیں ۔ قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال سمیت تحریک پاکستان کے قائدین کے رہنمائوں کے افکار کا مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ ایسا اسلامی معاشرہ چاہتے تھے جہاں محمود و ایاز کا فرق ختم ہوجائے ، معاشرہ کے غریب افراد کو خوشحال بنانے کے لیے ریاست کام کرے ، تمام لوگوں کو مساوی حقوق میسر ہوں مگر یہاں تو اُلٹی گنگا چل پڑی، سیاست پر چند خاندانوںکا قبضہ ہوگیا موروثی سیاست نے باصلاحیت لوگوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا اور نسل در نسل حکمرانی کرنے والے آج ملکی حالات کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دیتے ہیںملکی معاشی حالات اس نہج تک پہنچ گئے کہ آج عوام مہنگائی ،غربت ، بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں ۔
دنیا کے جمہوری ممالک نے عوام کو خوشحالی اور زندگی کی تمام تر سہولتیں فراہم کیں جس کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے مگر پاکستان میں جمہوریت کے نام پر عوامی حقوق پر ڈاکے مارے گئے ، قومی خزانے کو بے دردری سے لوٹا گیا اور دنیا بھر میں اپنے کاروبار پھیلائے گئے مگر ریاست کو آئی ایم ایف کے آگے گروی رکھ دیا گیا ۔ عوام آج اپنے ریاستی اداروں سے سوال کرتے ہیں کہ یہ کیسی جمہوریت ہے جہاںدو چار سو روپے کی چوری کرنے والا جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے اور ملکی خزانے سے اربوں کھربوں لوٹنے والا حکومتوں میں بیٹھ کر عوام کی قسمت کا فیصلہ کررہا ہوتا ہے ۔ پاکستان کے عوام جتنا ٹیکس شاید ہی دنیا کے کسی ممالک کے لوگ ادا کرتے ہوں گے ، یہاں غریب سے غریب شخص بھی بجلی ، گیس کے بلوں میں بے تحاشا ٹیکس ادا کرتا ہے ، گھریلو اشیاء کی خریداری پر ماچس سے لے کر کوئی کچن آئٹم ایسی نہیں جس پر ٹیکس ادا کیے بغیر وہ گھر لے آئے ، سفر کے دوران کوئی ایسا روڈ نہیں جہاں وہ ٹیکس ادا نہ کرتا ہو ، گھر ہو یا دکان پروفیشنل ٹیکس ، پراپرٹی ٹیکس ، لائٹنگ ریٹ ٹیکس اور نہ جانے کون کون سے ٹیکس سالانہ ایک غریب سے غریب شخص بھی ادا کرتا ہے اور پھر بھی ملکی خزانہ نہ صرف خالی ہوتا ہے بلکہ عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینے کے لیے ان کے اشاروں پر ناچنا پڑتا ہے ۔ منی لانڈرنگ اشرافیہ ہی کرتی ہے عام غریب شخص نہیں ۔ عوام آج مقتدر حلقوں سے سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ یہ کیسی جمہوریت ہے ؟
پاکستان جس معاشی دلدل میں دھنس چکا ہے اس کو نکالنے کے لیے قومی سطح پرتمام ریاستی اداروں اور باصلاحیت لوگوں پر مشتمل تھنک ٹینک قائم کرنے کی ضرورت ہے جو چند قوانین فوری طور پر پاس کروائیں جس میں کرپشن کی سزا موت ہونی چاہیے ، احتساب کے اداروں کو نہ صرف مضبوط کرنا چاہیے بلکہ فوری فیصلوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا چاہیے ، سیاست کرنے والوں کو پابند کیا جائے کہ ان کے خاندان کے تمام لوگ اپنی رقوم پاکستان لائیں اور کاروبار یہاں کریں ، بصورت دیگر ان کا سیاسی کردار ختم کرنا ہوگا۔وزراء ، ایم این ایز ، ایم پی ایز اور سرکاری ملازمین کے بچوں کو سرکاری سکولز میں تعلیم حاصل کرنے کا پابند کیا جائے اور علاج معالجہ بھی سرکاری ہسپتالوں سے کرانے کا پابند کیا جائے تاکہ وہ صحت اور تعلیم کے اداروں کی طرف توجہ دیں اور انہیں اس قابل بنا سکیں کہ یہاں غریب کا بچہ بھی معیاری تعلیم اور معیاری علاج کرواسکے ۔عدلیہ ، افواج ، سول بیوروکریسی کے 20گریڈسے زائد کے افسران کو ریٹائرمنٹ کے بعد ملک میں رہنے کا پابند بنانے کے لیے قانون سازی کی جانی چاہیے یہ کیسی جمہوریت ہے کہ یہاں اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران تمام تر مراعات یہاں سے حاصل کرتے ہیں اور پرآسائش زندگی گزارنے کے لیے امریکہ ، برطانیہ اور یورپ کا رُخ کرجاتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی سروس کے دوران پاکستان کی بہتری اور ملک سے غربت کے خاتمے ، امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اتنی تندہی سے محنت نہیں کرتے کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ کون سا انہوںنے یہاں رہنا ہے ان کے اپنے بچے تو پہلے ہی بیرون ملک رہائش پذیر ہوتے ہیں ایسے میں غریب آدمی کے مسائل کون سنے گا اور کون حل کرے گا۔
یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں غریب لوگ غریب تر ہوتے جارہے ہیں اور امیر لوگ امیر سے امیر تر ہورہے ہیں ۔ ہر آنے والی حکومت سابقہ حکومت کو کوسنا شروع کردیتی ہے اور پھر عوام پر مہنگائی کا طوفان مسلط کردیتی ہے ، بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں نے آزادی کی تحریک اس لیے چلائی تھی کہ یہاں لوگ مذہبی ، سیاسی ، سماجی اور اقتصادی آزادی حاصل کرسکیں ۔ اس ریاست کے باشندے اخوت ، مساوات اور روادادی کے اصولوں پر زندگی گزاریں ۔ مگر یہاںکا جمہوری سسٹم چند طاقتورخاندانوں اور اشرافیہ کی لونڈی کا کردار ادا کررہا ہے جہاں غریب کی آواز کوئی نہیں سنتا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex