کالم

بنانا ،ہٹانا ،ہٹا کر بنانا

محسن گورایہ

ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق اگلے مہینے ملک میں جو انتخابات ہونے جا رہے ہیں ،ان کے لئے امتحانی عمل شروع ہو چکا ہے ، سخت نگرانی جاری ہے، اکثر امیدواروں کو رول نمبر سلپیں نہیں ملیں ،جن کو ملی ہیں وہ اپنے امتحانی سنٹر ڈھونڈ رہے ہیں اور جن کو نہیں ملیں وہ اس کے لئے اپیلیں کر رہے ہیں ،دیکھیں ان کا کیا فیصلہ ہوتا ہے ۔ امتحانات کے نتائج سے بہت سے قومی معاملات طے ہونے ہیں اور بہت سی راہیں نکلنی ہیں یا پھر بند ہونی ہیں، یہی انتخابات طے کریں گے کہ بحیثیتِ قوم ہم کس طرف چلیں گے اور نئے امکانات کیا پیدا ہو سکتے ہیں،یہ انتخابات سب سے پہلے الیکشن کمیشن کا امتحان ثابت ہوں گے، اس قومی ادارے کی جانب سے کیا فیصلے کیے جاتے ہیں اور ان فیصلوں کے کیا نتائج نکلتے ہیں۔
صورت حال یہ ہے کہ کاغذاتِ نامزدگی جمع ہونے کے بعد الیکشن ٹریبونلز کا کام شروع ہو چکا ہے اور اپیلیں دائر کی جا رہی ہیں، گزشتہ روز الیکشن ٹریبونلز میں ریٹرننگ افسران کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف دوسرے روز بھی اپیلیں دائر کی گئیں، ان اپیلوں کی سماعت ہو گی اور پھر فیصلے سامنے آئیں گے، ان فیصلوں سے ہی پتا چل جائے گا کہ الیکشن کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اور انتخابات کیا رخ اختیار کریں گے، الیکشن ٹریبونلز کا کام مشکل اور اہم تو ہے ہی، یہ اس لیے مزید اہمیت کا حامل ہو جائے گا کہ لوگوں کو شفاف الیکشن کی جو امید تھی وہ کچھ لوگوں کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونے سے دھندلی پڑھنا شروع ہو گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے آفیشل ٹویٹر اکائونٹ کے مطابق تو پی ٹی آئی کے اہم رہنمائوں میں سے تقریباً 90 فیصد کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے گئے ہیں، اسی اکائونٹ کی جانب سے متعدد ایسی ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مختلف حلقوں سے امیدواروں کے تجویز کنندگان اور تائید کنندگان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس میں کتنی حقیقت ہے اس کا اندازہ اس بارے میں الیکشن کمیشن کا موقف اور الیکشن ٹریبونلز کے فیصلے سامنے آنے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا، فی الحال تو شفاف انتخابات کے بارے میں ایک مایوسانہ سوچ پیدا ہو رہی ہے اور راسخ ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے اتنی بڑی تعداد میں اپنے امیدواران کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کو انتخابی عمل میں بد ترین دھاندلی قرار دیا ہے، تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات رئوف حسن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پہلے مرحلے میں ہی صاف شفاف انتخابات کا جنازہ نکال دیا گیا ہے، ان کے مطابق ہراساں کرنے، ڈرانے، غیر قانونی طور پر اٹھا لیے جانے سمیت جبر کا ہر ہتھکنڈا استعمال کر کے تحریک انصاف کے امیدواروں کو کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ سنگین الزامات اور سوالات ہیں ، اس لیے ان کے کہیں نہ کہیں سے جواب ضرور ملنا چاہئیں، اگر یہ الزامات حقیقت پر مبنی ہیں اور تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز کو اگر لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملنا تو پھر طے ہے کہ شفاف انتخابات نہیں ہو سکیں گے اور الیکشن ہو جانے کے باوجود سیاسی غیر یقینی کے بادل نہیںچھٹیں گے، ملک و قوم پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے یہ سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، اسی لیے بار بار کہا جا رہا ہے کہ الیکشن ٹریبونلز کا کام بتائے گا کہ اگلے انتخابات کے لیے کون سے امیدوار ہوں گے اور عوام ان کے کاغذات درست تسلیم کیے جانے کو درست مانتے ہیں یا نہیں، انتخابات کے اگلے سارے عمل کا انحصار اور دارومدار امیدواروں کی حتمی لسٹوں پر ہو گا۔
یہ بھی بڑی عجیب بات ہے کہ انتخابی معاملات حتمی فہرستوں تک پہنچنے والے ہیں لیکن بے یقینی کی دھند اس قدر گہری ہے کہ اب بھی کوئی وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ الیکشن ہو پائیں گے یا نہیں، اس اندیشے کا اظہار قدرے مختلف انداز میں چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی کیا ہے، سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے ایک صوبائی حلقہ کوہاٹ کے ریٹرننگ افسر کو تبدیل کرنے کا الیکشن کمیشن کا نوٹی فکیشن بحال کر دیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریٹرننگ افسر کی تبدیلی کا نوٹی فکیشن معطل کرنے کا پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم کر کے قرار دیا ہے کہ جب ریٹرننگ افسر کے خلاف کوئی اعتراض نہیں تھا تو الیکشن کمیشن کا موقف سنے بغیر ہائی کورٹ کے حکم امتناع کے اجرا سے حلقہ میں انتخابی عمل متاثر ہو گا۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے کچھ ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں تاکہ انتخابات نہ ہوں، کیا یہ سوچنے اور پتا چلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کون سی قوتیں الیکشن نہ کرانے یا الیکشن میں تاخیر کی خواہش مند ہیں اور کیوں؟ ایسی بے یقینی کی فضا اور کیفیت میں ہونے والے انتخابات (اگر ہوئے تو) کیا نتائج لائیں گے؟ ان حالات میں اور اس مرحلے پر یعنی الیکشن ٹریبونلز کے مرحلے پر عوامی اعتماد بحال نہ ہوا تو انتخابی مشق بے نتیجہ رہ سکتی ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ احتیاط کی اشد ضرورت ہے، مبینہ طور پر ریٹرننگ افسران کی جانب سے کچھ مخصوص افرادکے کاغذات نامزدگی منظور نہ کیے جانے پر جو مایوسی پھیلی ہے،اس پر اگر مناسب فیصلے نہ ہوئے تو اس کی شدت بڑھ سکتی ہے۔
اگر آٹھ فروری کو اعلان کردہ تاریخ پر الیکشن ہوتے ہیں تو پھر یہ عوام کے لیے ایک بہت بڑا امتحان ثابت ہوں گے کہ وہ کس طرح ان قوتوں کو ناکام بناتے ہیں جو الیکشن میں تاخیر چاہتی ہیں یا الیکشن ہونے ہی نہیں دینا چاہتیں یا پھر انتخابات سے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہتی ہیں ۔ میرے خیال میں ان قوتوں کو ناکام بنانے کا اس سے بہترین طریقہ اس کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا کہ الیکشن ہونے کی صورت میں تمام ووٹرز اپنے گھروں سے باہر نکلیں اور اپنا حق رائے دہی استعمال کریں تاکہ ان کے صرف وہی نمائندے منتخب ہو کر اسمبلیوں تک پہنچ سکیں اور ان کے لیے کام کر سکیں جو ملک و قوم کے لیے واقعی کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ جمہوری ادوار میں ہم لوگوں کو اکثر یہ شکوہ کرتے دیکھتے اور سنتے ہیں کہ ان کے نمائندے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں تو اس کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے کہ انہوں نے اپنے ووٹرز کے لیے بھی کچھ کرنا ہے، وہ صرف اس حکومت اور اس پارٹی کے ہو کر رہ جاتے ہیں جو برسر اقتدار آتی ہے۔ یہ بہترین موقع ہے کہ ایسے لوگوں سے نجات حاصل کی جائے اور ان لوگوں کو اپنا نمائندہ منتخب کیا جائے جو حقیقتاً اپنے عوام خصوصاً اپنے حلقے کے لوگوں کے لیے کچھ کرنے کا جوش و جذبہ رکھتے ہیں۔ اس بار بھی اگر انہوں نے انہی لوگوں کو منتخب کر لیا جو ماضی میں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے رہے تھے تو اس کا نتیجہ ایک بار پھر رونے دھونے اور افسوس کرنے کی صورت میں ہی نکلے گا اور جو حکومتیں بناتے ،ہٹاتے اور پھر بناتے ہیں ان کا کام آسان ہو تا رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex