کالم

بلاول بھٹو اور سیاسی تجربہ

محسن گورایہ

الیکشن کا ابھی تک ماحول نہیں بن سکا مگر بڑے میاں اور چھوٹے زرداری کے درمیان وزارت عظمیٰ کی دوڑ شروع ہو چکی ہے، پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت یوں تو کبھی کم نہیں ہوا لیکن الیکشن کے دنوں میں سیاسی گولہ باری کا سلسلہ کچھ زیادہ ہی شدت اختیار کر جاتا ہے،اپریل 2022 میں پی ٹی آئی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں بننے والی حکومت کو پیپلز پارٹی نے سپورٹ کیا تھا، تب کچھ حلقے اس سوچ کے حامل ہو گئے تھے کہ مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کے درمیان یہ ہم آہنگی آئندہ انتخابات میں بھی برقرار رہے گی اور وہ مشترکہ طور پر الیکشن میں حصہ لیں گی لیکن گزشتہ ایک ماہ کے دوران جو سیاسی صورت حال سامنے آئی ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ کچھ سیاسی اتحاد تو بن رہے ہیں اور مزید بھی بنیں گے لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اکٹھی ہو کر الیکشن میں حصہ نہیں لیں گی۔ وطن واپسی کے بعد نواز شریف اپنی پارٹی کو منظم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور یہی کوششیں پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی ہوتی نظر آ رہی ہیں، اسی تناظر میں ان پارٹیوں کے رہنمائوں کے ایک دوسرے کے خلاف بیانات کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ حال ہی میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بزرگوں نے سب عہدوں پر رہ کر اپنا شوق پورا اور ترقی کا عمل ادھورا چھوڑ دیا اب قیادت نوجوانوں کے سپرد ہونی چاہیے، میں نوجوان ہوں چنانچہ وزیر اعظم کی مسند مجھے ملنی چاہیے۔ بلاول بھٹو کی اس خواہش کو کچھ لو گ ناپختہ خواہش کا نام دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ محض بلاول بھٹو زرداری ہی نہیں دوسری پارٹیوں میں بھی نوجوان سیاستدان موجود ہیں اور وہ بھی آگے آنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ الیکشن میں حصہ لینا اور آگے بڑھنا ہر فرد کا حق ہے لیکن میرے خیال میں بلاول بھٹو اور دوسری پارٹیوں کی نوجوان قیادت میں کچھ فرق ہے اور وہ فرق یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری جتنا سیاسی تجربہ اور شعور کسی کے پاس موجود نہیں۔ ستمبر 1988 میں پیدا ہونے والے بلاول بھٹو زرداری اب 35ویں برس میں ہیں، جہاں تک ان کی ناتجربہ کاری کی بات کی گئی ہے تو میں یہ کہوں گا کہ بلاول بھٹو کم عمری میں ہی پختہ سیاستدانوں جتنا تجربہ حاصل کر چکے ہیں، ب تک انہوں نے کیا نہیں دیکھا؟ وہ اپنی پیدائش سے لے کر1997 تک پاکستان میں رہے،اس عرصے میں اِن کی والدہ دو مرتبہ پاکستان کی وزیرِ اعظم بنیں اور نو عمر بلاول نے اقتدار کی غلام گردشوں اور ان میں چلنے والے معاملات کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کیا، اسی عرصے میں ان کے والد اقتدار کا حصہ بنے اور جیل میں بند بھی رہے،جب آصف علی زرداری قید تھے تو بلاول بھٹو اپنی والدہ کے ہمراہ اپنے والد سے جیل میں ملاقات کے لیے جایا کرتے تھے۔1997 کے انتخابات کے بعد جب بے نظیر بھٹو نے جلاوطنی اختیار کی تو بلاول بھٹو زرداری کی عمر 9 برس تھی لہٰذا وہ بھی جلا وطن ہوئے، 27 دسمبر 2007 کو بلاول بھٹو زرداری نے اپنی والدہ کو راولپنڈی میں دہشت گردی کا نشانہ بنتے دیکھا، اس وقت وہ محض 19 برس کے تھے۔ اس سانحہ کے
ٹھیک تین دن بعد 30 دسمبر 2007 کو انہیں پاکستان پیپلز پارٹی کا شریک چیئرمین بنا دیا گیا، اسطرح وہ گزشتہ سولہ برس سے پارٹی کے معاملات چلا رہے ہیں۔بے نظیر بھٹو 1988 میں پہلی بار وزیرِ اعظم بنیں تو ان کی عمر 35 برس تھی، ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو نے جب وزارتِ خارجہ کا منصب سنبھالا تھا تو وہ بھی 35 برس کے تھے، اب بلاول بھٹو 35ویں برس میں ہیں تو انہیں نہ تو کم عمر ہونے کا طعنہ دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کے حوالے سے حفیظ جالندھری کی کسی نظم کا کوئی حوالہ دیا جا سکتا ہے، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد بے نظیر بھٹو کو عملی سیاست میں اترنا پڑا اور پارٹی کے امور سنبھالنا پڑے ، اسی طرح بے نظیر کے قتل کے بعد بلاول بھٹو زرداری کو پارٹی کی چیئرمین شپ اور بعد ازاں عملی سیاست میں آنا پڑا تھا،پاکستان میں کون ہے جو اتنی چھوٹی سی عمر میں اتنے وسیع تجربے کا حامل ہو؟ اس وقت پاکستان میں نوجوان آبادی کی شرح 65 فیصد ہے جو یقینا ایک بڑی شرح ہے، اس نوجوان نسل کو سیدھے راستے پر لگا کر ملک کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے، علاوہ ازیں ہمارے ہاں نوجوانوں کے مسائل کیا ہیں اور ریاست کو ان کے حل کے لیے کیا اقدامات کرنے چاہئیں اس کا ادراک کوئی نوجوان ہی کر سکتا ہے، کیا یہ معاملات بلاول بھٹو کا وزن بڑھانے کا سبب نہیں ہیں؟ان پر الزام لگتا ہے کہ یہ موروثی سیاست کا تسلسل ہیں، اس الزام کی حقیقت اپنی جگہ، مگر اس خطے کے ممالک خصوصاً پاکستان کے سیاسی کلچر میں خاندانوں کی سیاست ایک حقیقت ہے اور تاحال سیاسی نظام خاندانوں کے زیرِ تسلط ہی چلا آ رہا ہے اور کیا دوسری پارٹیوں میں موروثی سیاست نہیں ہے ؟ اس پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا خوب بات کی تھی، انہوں نے کہا پاکستان پیپلز پارٹی نے خاندانی سیاست کا راستہ خود اپنی مرضی سے منتخب نہیں کیا، میرے نانا اور والدہ کو قتل نہ کیا جاتا تو میرے نانا سیاست دان ہوتے اور میری والدہ دفتر خارجہ میں ہوتیں اور میں اب بھی طالب علم ہوتا۔2018 کے انتخابات بلاول بھٹو زرداری کا پہلا امتحان تھے،ان انتخابات میں ان کی اپنی اور پارٹی کی کارکردگی تسلی بخش نہ تھی لیکن وہ خود کامیاب ہو کر رکن قومی اسمبلی بن گئے تھے، پہلی کوشش میں اتنی بڑی کامیابی کیا چھوٹی بات ہے؟2022 میں بلاول بھٹو زرداری وزیرِ خارجہ بنے تو اس وقت پاکستان عالمی سطح پر کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا کر رہاتھا، پاک امریکہ تعلقات سرد مہری کا شکار تھے، بھارت کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات اچھے نہیں تھے،پاکستان کے مغربی بارڈر پر بھی مسائل چل رہے تھے،بلاول بھٹو نے ان تمام مسائل کے حل کے لیے اپنے قلم دان کا کامیابی سے استعمال کیا، اتنی کامیابی سے کہ مخالفین بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ بطو ر وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی کارکردگی اچھی تھی۔آج سے 35 برس قبل 1988 میں محترمہ بے نظیر بھٹو جس الیکشن میں تیر کے انتخابی نشان پر بڑی کامیابی حاصل کر کے وزارتِ عظمی پر فائز ہوئیں وہ نومبر میں ہوا تھا، بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کا خاتمہ بھی نومبر 1996) میں کیا گیا تھا اور اب بلاول بھٹو نومبر ہی میں وزارتِ عظمیٰ تک پہنچنے کا عزم ظاہر کر رہے ہیں، میں سوچتا ہوں ستمبر تو ستمگر ثابت نہیں ہوا کہیں نومبر ہی پیپلز پارٹی مخالفین کے لیے ستمگر ثابت نہ ہو جائے۔بلاول بھٹو زرداری کو ٹھنڈا کر کے کھانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے، مشورہ دینے والوں کا کہنا ہے کہ بلاول کو کندن بننے کے لیے ابھی مزید ریاضت کی ضرورت ہے، ان کا کہنا سر آنکھوں پر لیکن وہ رہنما اب تک کیوں ڈلیور نہیں کر سکے جو عرصہ ہوا کندن بن چکے ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex