کالم

بجٹ 24-2023 اور پاکستانی عوام

محمد عباس عزیز

ویسے تو ہمارے ہاں بجٹ محض اعداد وشمار کا گورکھ دھندا ہوتاہے جس کی کسی کو کوئی سمجھ نہیں آتی‘ خسارہ کتنا ہواہے اور آئندہ منافع کتناہوگا‘ عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی‘وزیر خزانہ نے اس کو درست بجٹ قرار دیاہے جبکہ غیر جانبدار معاشی ماہرین اس کو عوام دشمن بجٹ قرار دے رہے ہیں۔ ہم کوئی معاہر معاشیات تو نہیں لیکن بڑی سادہ سی بات یہ ہے اگر آمدنی سے اخراجات زیادہ ہونگے تو چاہے وہ کوئی گھر ہو ملک ہو یا کوئی ادارہ وہ خسارے میں ہی رہے گا۔ عوام کو تو روزمرہ کی عام استعمال کی چیزیں بھی آسانی سے دستیاب نہیں ہیں۔ جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گاپاکستان معاشی لحاظ سے خوشحال نہیں ہوسکتا۔ کسی حکومت کو اپنی مدت سکون کے ساتھ پوری نہیں کرنے دی گئی۔ موجودہ وزیرخزانہ نے کافی کوشش کی ہے کہ وہ ملک کی اقتصادی صورتحال کو کنٹرول کریں لیکن پاکستانی معیشت ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے۔ سادہ بات یہ ہے کہ آمدنی اور اخراجات میں جب تک توازن نہیں ہوگا اس وقت تک پاکستان اپنی معاشی صورتحال پر قابو نہیں پاسکتا۔ اگرحکومت کچھ اہم اقدامات کرے تو شاید پاکستانی عوام کی معاشی حالت درست ہوجائے۔
-1 سب سے اہم کام جو حکومت اور ہمارے قومی اداروں کو کرنا چاہئیے وہ ہے سیاسی استحکام‘پاکستان کے تمام سٹیک ہولڈر سیاسی جماعتیں‘پاک فوج‘ عدلیہ جب تک سرجوڑکر نہیں بیٹھیں گے بات نہیں بنے گی۔ یہ بات سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آصف سعید کھوسہ نے بھی اپنی ریٹائرمنٹ کے وقت کہی تھی۔
-2 نئی بوتلوں میں پرانی شراب والی پالیسی اب نہیں چلے گی۔ بوسیدہ ناکارہ سرمایہ دارانہ نظام فاوڈ ازم قبائلی سسٹم یہ تمام فرسودہ نظام ختم کرنا پڑیں گے۔
-3ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنا پڑے گا۔28 کروڑ کی آبادی میں صرف 60 لاکھ لوگ ٹیکس ادا کررہے ہیں جن میں سرکاری ملازم بھی شامل ہیں۔ ایف بی آر کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے لوگوں کو آگاہی مہم کے ذریعہ بتایا جائے کہ حکومت کوٹیکس ادا کرنا ضروری ہے‘علماء کرام ٹیکس اور زکوۃ میں فرق کرتے ہیں لہٰذا اس غلط فہمی کو دور کیا جائے۔ ایف بی آر کو کرپشن سے پاک کیا جائے‘ جاگیرداروں سرمایہ کاروں‘ صنعت کاروں اور دیگر امیرترین لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے۔
-4 جو بھی حکومت ہو اس کو چاہئیے کہ سادگی کا کلچر اپنائے۔ وزیر مشیر‘ایم پی اے ایم این اے‘ چھوٹی گاڑیوں پر ٹریول کریں کابینہ کاسائزکم کریں وزیراعظم ہائوس‘گورنر ہائوس‘ قومی اسمبلی‘ سینیٹ‘ صدر ہائوس ان تمام اداروں کا بجٹ ہاف کردیں اور پروٹوکول مکمل ختم کردیں۔
-5 سرکاری محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے‘بے جا غیر ضروری آسامیوں کو ختم کیا جائے‘سرکاری افسروں‘ سرکاری خود مختار اتھارٹیزاور کارپوریشن اور اعلٰی جوڈیشری کی تنخواہوں سہولتوں اور مراعات میں توازن لانے کی کی ضرورت ہے آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کو خود مختار بنایا جائے سرکاری آڈٹ کرنے والی ٹیموں کوچیک کیا جائے کیونکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ آج تک کوئی محکمہ آڈٹ رپورٹ پر گرفت میں نہیں آیا اور نہ کوئی سرکاری افسر۔
-6 حکومت کو چاہئیے کہ وہ ایماندار ماہر معیشت دانوں کا ایک گروپ تشکیل دے اور ان کو آزادی سے کام کرنے کی اجازت ہو۔ ان تمام ماہرین کاتعلق حکومت سے نہ ہو ان کو دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کرائیں وہاں کے سرکاری محکموں کا جائزہ لیں خرچ اخراجات میں کمی کرنے کی تجاویز مرتب کریں۔ اس کی روشنی میں حکومت اپنی پالیسی ترتیب دے اگر ہم سرکاری دفاتر میں ہونے والی بے ضابطگیوں کو روک لیں تو حکومت معاشی طورپر مستحکم ہوسکتی ہے۔
-7کرپشن۔ سب سے اہم بات جو پاکستان میں کینسر کی طرح پھیل چکی ہے وہ کرپشن ہے۔ تمام سرکاری نیم سرکاری اداروں کو چیک اینڈبیلنس پر ضرور توجہ دینی چاہئیے پٹرول اور بجلی کو اگر سرکاری ادارے درست طریقے سے استعمال کریں تو شاید پاکستان میں تیل سستا ہو جائے۔ بجلی کا استعمال سرکاری اداروں میں بے دریغ ہو رہاہے گرمیوں میں ائیر کنڈیشنر کا استعمال ضرورت سے زیادہ ہورہاہے۔ سیکرٹریوں کے ساتھ ان کے پی ایس او بھی ائر کنڈیشنر استعمال کررہے ہیں یہی حال سرکاری گاڑیوں کا ہے۔ کسی بھی صوبے کے سیکریٹریٹ میں چلے جائیں گاڑیوں کی بھرمار ایسے ہے جیسے ہم بہت امیر ملک میں رہ رہے ہیں۔ غریب آٹے کی وجہ سے اپنی جانیں دے چکے ہیں۔ روٹی تو ہر آدمی نے کھانی ہے گھر میں اگر کچھ بھی نہ پکا ہو توکئی لوگ پیازاور مرچوں سے روٹی کھا لیتے ہیں ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود آٹا نایاب ہے۔ کیا یہ لمحہ فکریہ نہیں ہے محکمہ خوراک آٹا ملوں کو جو کوٹہ گندم دیتا ہے وہ آٹا بنانے کی بجائے گندم سمگل کردیتے ہیں اگر64 ارب کی سبسڈی دینے کی بجائے اس رقم سے سرکاری آٹے کی ملزلگ جائیں تو شاید آٹے کا بحران ختم ہوجائے۔محکمہ خوراک اور آٹا ملز مالکان کی ملی بھگت سے پاکستانی عوام آٹے کے لئے رل گئے ہیں۔
سابقہ حکومت نے صحت کارڈجاری کئے تھے اس پالیسی کی وجہ سے پہلے جو دوائی غریب مریضوں کو مفت مل جاتی تھی وہ اس سے بھی گئے۔ سرکاری ہسپتالوں میں لوگ جس طرح ذلیل و رسواء ہو رہے ہیں اس سے خدا کی پناہ۔ بہرحال کہنے کی بات یہ ہے کہ یہ کوئی بقراطی سائنس نہیں ہے‘ خرچ اخراجات کا توازن پیدا کیا جائے‘ فضول خرچی کرپشن اور غیر ضروری اخراجات کو کنٹرول کیا جائے تو بجٹ میں عوام کو ریلیف مل سکتاہے۔ آخر میں ہم حکومت سے اپیل کریں گے کہ فیکٹری میں جولیبر کام کررہی ہے حکومت جو بھی تنخواہ مقرر کرتی ہے وہ ان کو نہیں دی جاتی‘ مزدوروں کو صحت کے حوالے سے کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔ اکثریت فیکٹری مالکان اپنے مزدوروں کو یہ سہولت نہیں دیتے۔ سوشل سیکیورٹی یادیگر محکمے کے ساتھ ملی بھگت سے ان کو محروم کردیا جاتاہے۔ پاورلومز پر کام کرنیوالے مزدور اور مستری حکومت کی طرف سے کسی سہولت کو استعمال نہیں کرتے کیونکہ کپڑا بنانے والے کارخانے کے مالک ان کو کوئی سہولت دینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔اسی طرح ای او بی کی طرف سے مزدوروں کو آٹھ ہزار روپے پنشن ملتی تھی اس میں اضافہ کیا جانا چاہئیے کیا ہم سوچ سکتے ہیں کہ کینیڈا ڈنمارک سویڈن نیوزی لینڈاور یورپ کے کئی ایسے ممالک ہیں جن میں ساٹھ سال کی عمر کے بعد تمام ذمہ حکومت اٹھا لیتی ہے چاہے وہ سرکاری ملازم ہو یا پرائیویٹ۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں عمر لاء نافذہے اورہم ابھی تک غلط راہوں میں بھٹک رہے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ ہم بھی مسلمان ملک ہونے کے ناطے حضرت عمرؓ نے جو اقدامات اپنی ریاست کو چلانے کیلئے کئے تھے کاش ہمارے حکمران اپنی سیاسی لڑائیوں کو چھوڑ کر پاکستانی عوام کا سوچیں۔ آخر میں انور مسعود کا یہ شعر
یہی انداز دیانت ہے تو کل کا تاجر
برف کے باٹ لئے دھوپ میں بیٹھا ہوگا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex