کالم

بارہ کروڑ دربدر اور دھنیے کا شربت

وسعت اللہ خان

گزشتہ روز عالمی یومِ پناہ گزیناں تھا۔ یہ دن پہلی بار اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے پناہ گزیناں مجریہ انیس سو اکیاون کی گولڈن جوبلی کے دن کے طور پر بائیس برس پہلے منایا گیا اور پھر اسے اقوامِ متحدہ کے خصوصی سالانہ دنوں میں شامل کر لیا گیا تاکہ ان کروڑوں لوگوں کی تکالیف و مسائل کا اعتراف ہو سکے جنھیں کسی نہ کسی جبر کے سبب گھر بار یا مٹی چھوڑ کے سرحد کے اندر یا باہر پناہ گزیں بننا پڑ گیا۔گزشتہ سال مئی میں ایسے بے خانماں دربدر انسانوں کے عدد نے تاریخ میں پہلی بار دس کروڑ کا ہندسہ پار کر لیا۔یعنی دنیا کی کل آبادی کا ایک اعشاریہ دو فیصد راندہِ درگاہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کا اندازہ ہے کہ ایسے بدقسمت انسانوں کی تعداد موجودہ سال کے آخر تک بارہ کروڑ کا ہندسہ چھو سکتی ہے۔ان میں سے چھہتر فیصد پناہ گزینوں کا تعلق صرف چھ ممالک سے ہے۔اگر بارہ کروڑ کے عدد کو توڑا جائے تو اس میں سے چھ کروڑ بیس لاکھ اندرونِ ملک دربدر ہیں۔ ملک چھوڑنے والوں کی تعداد تین کروڑ کا ہندسہ چھونے والی ہے۔چھپن لاکھ سیاسی پناہ کے متلاشی ہیں۔دیگر چھپن لاکھ دیگر وجوہات کے سبب بین الاقوامی تحفظ کی تلاش میں ہیں۔اکیاون لاکھ وہ ہیں جنھیں ان کی آبائی دھرتی سمیت کوئی بھی ریاست قبول کرنے کو تیار نہیں یعنی اسٹیٹ لیس پرسن۔اور ان بے ریاست انسانوں کی کیفیت کیا ہے ؟ یہ آپ فلسطینیوں سے یا پھر کسی روہنگیا سے پوچھ سکتے ہیں۔تقریباً اسی لاکھ بے گھروں اور پناہ گزینوں کے بارے میں آج کہا جا سکتا ہے کہ وہ یا تو اپنے گھروں کو لوٹ گئے ہیں یا پھر اس برس لوٹ پائیں گے۔ اگر ہم اس وقت دنیا کو
درپیش دس بڑے ریفیوجی بحرانوں پر نگاہ ڈالیں تو اس وقت دنیا میں ہر چوتھا پناہ گزین شامی ہے۔بارہ برس پر پھیلی خانہ جنگی نے ملک کی لگ بھگ آدھی آبادی ( لگ بھگ ایک کروڑ تیس لاکھ ) کو در بدر کر دیا۔ان میں سے ستر لاکھ بیرونِ ملک ہیں۔ قریباً تینتیس لاکھ ہمسایہ ملک ترکی میں ، لگ بھگ دس لاکھ لبنان میں اور بقیہ اردن ، عراق اور مصر سمیت دنیا کے ایک سو چوبیس ممالک میں بکھرے پڑے ہیں۔عرب لیگ نے بشار الاسد کو تو بارہ برس بعد پھر سے گلے لگا لیا مگر دیوار سے لگی شام کی آدھی آبادی کو گلے لگانے والا کوئی نہیں۔دوسرے نمبر پر یوکرین ہے جس کی دس فیصد آبادی سولہ ماہ سے جاری جنگ کے سبب ہمسایہ ممالک میں پناہ لے چکی ہے۔ عالمی پناہ گزینوں میں یوکرینیوں کا تناسب اس وقت سولہ فیصد ہے۔لگ بھگ پچپن لاکھ پناہ گزینوں کا بیشتر بوجھ پولینڈ نے اٹھا رکھا ہے۔جب کہ روس سمیت ہر ہمسایہ ملک میں آزاد و مقبوضہ علاقوں سے نکلنے والے لاکھوں یوکرینی موجود ہیں۔ تاہم تیسری دنیا کے پناہ گزینوں کے مقابلے میں یوکرینیوں کا برادر یورپی ممالک زیادہ بہتر خیال رکھ پا رہے ہیں۔تیسرے نمبر پر افغان ہیں۔دنیا میں ہر دسواں پناہ گزیں افغان ہے۔ان کی بے گھری و بے وطنی کی تاریخ چار عشروں پر پھیلی ہوئی ہے۔اس عرصے میں کئی لاکھ واپس اپنے ملک چلے گئے مگر اب بھی تیس لاکھ افغانوں میں سے پچاسی فیصد دو ہمسایہ ممالک پاکستان اور ایران میں رہ رہے ہیں۔جب بھی کابل میں حکومت بدلتی ہے، نئے پناہ گزینوں کی نوعیت بھی بدل جاتی ہے۔شاید ہی ملک میں کوئی ایسا گھرانہ ہو جس نے پچھلے چالیس برس میں کم ازکم ایک بار بے گھری نہ چکھی ہو۔
جنوبی سوڈان نے اگرچہ دو ہزار گیارہ میں آزادی تو حاصل کر لی مگر امن اس کے نصیب میں آج تک نہ آ سکا۔ چالیس لاکھ جنوبی سوڈانی آج بھی دربدر ہیں۔؎ان میں سے تئیس لاکھ ہمسایہ ممالک (سوڈان ، ایتھوپیا ، کینیا اور کانگو ) میں منتقل ہو چکے ہیں۔خود جمہوریہ سوڈان اگرچہ پناہ گزینوں کو جگہ دینے والا پانچواں بڑا عالمی میزبان شمار ہوتا ہے مگر ان دنوں خود یہ میزبان دو متحارب فوجی جرنیلوں کی طاقت آزمائی کے سبب لاکھوں نئے مقامی پناہ گزیں پیدا کر رہا ہے۔اگر یہ طاقت آزمائی جاری رہتی ہے تو اگلے برس تک دربدر پڑوسیوں کا یہ مدد گار خود پناہ گیر بن جائے گا۔کانگو میں اگرچہ مسلسل بدامنی کے سبب دس لاکھ سے زائد اندرونی پناہ گزین اور ہمسایہ ممالک کے لاکھوں پناہ گزیں موجود ہیں۔مگر افریقہ کا سب سے پرانا اور سنگین پناہ گزیں مسئلہ ہونے کے باوجود کانگو عالمی ذرایع ابلاغ میں نمایاں جگہ پانے سے ہمیشہ محروم رہا ہے۔صومالیہ واحد افریقی ملک ہے جس کے لگ بھگ دس لاکھ باشندے خانہ جنگی کے سبب کئی عشروں سے آس پاس کے ممالک میں رہنے پر مجبور ہیں مگر دو ہزار سترہ کے بعد ان کی تعداد بڑھنے کے بجائے کم ہوئی ہے۔دو لاکھ صومالی واپس آ چکے ہیں لیکن قحط اور بھوک انھیں دوبارہ مسافرت پر مجبور کر رہی ہے۔وسطی افریقہ کی سینٹرل افریقن ریپبلک کو بظاہر انیس سو ساٹھ کے عشرے میں فرانس سے آزادی مل گئی مگر شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب اس ملک نے مکمل امن دیکھا ہو۔کرسچن مسلم اقتداری رسہ کشی کے سبب دس لاکھ باشندے دربدر ہیں اور ان میں سے آٹھ لاکھ نے سرحد پار پناہ لے رکھی ہے۔اریٹیریا نے اگرچہ انیس سو ترانوے میں ایتھوپیا سے آزادی حاصل کر لی مگر اس کی جگہ یک جماعتی آمریت نے لے لی۔ باسٹھ لاکھ آبادی کی روزمرہ زندگی سیاسی جبر نے جکڑ رکھی ہے۔ چنانچہ ملک کی چودہ فیصد آبادی بے گھر و دربدر ہے۔اگست دو ہزار سترہ کے بعد سے میانمار کے گیارہ لاکھ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں بسنے پر مجبور ہیں۔ کاکسس بازار کا روہنگیا پناہ گزیں کیمپ عددی اعتبار سے سب سے بڑا عالمی مہاجر کیمپ ہے۔روہنگیا کا شمار پسماندہ ترین پناہ گزینوں میں ہوتا ہے اور بہت کم ممالک انھیں اپنے ہاں پناہ دینے پر راضی ہیں۔دس بڑے عالمی پناہ گزیں بحرانوں کی فہرست دیکھ کے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ ان میں سے چھ کا تعلق افریقہ سے ہے۔دس میں سے چھ بحران مسلمان اکثریتی ممالک کو درپیش ہیں۔ پچاسی فیصد پناہ گزیں کسی مغربی ملک میں نہیں بلکہ اپنے ہی جیسے آس پڑوس میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔مغرب اس معاملے پر شور مچانے والوں میں آگے آگے ہے۔مگر ان پناہ گزینوں کی فوری بحالی یا واپسی کے لیے اس وقت اقوامِ متحدہ کو پانچ ارب ڈالر کی جو ہنگامی امداد درکار ہے اس میں اپنا پورا حصہ ڈالنے میں مغرب بہت پیچھے ہے۔اگرچہ ساٹھ فیصد پناہ گزین مسلمان ممالک سے تعلق رکھتے ہیں مگر دس امیر ترین مسلمان ممالک ان پناہ گزینوں کو اپنے ہاں بسانے یا ان کی محفوظ بحالی کے لیے جیب ڈھیلی کرنے میں سب سے پیچھے ہیں۔بلکہ یوں کہیے کہ دھنیا پیے ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex