کالم

ایک معزز جج اور نرمی کا بیان

راناشفیق خان

جسٹس ڈاکٹر حسین بن عبدالعزیز آل الشیخ، مسجد نبوی کے امام و خطیب ہیں، مگر اصل وہ مدینہ منورہ ہائی کورٹ کے معزز جج ہیں، وہ طائف میں پیدا ہوئے، وہیں پرائمری، مڈل اور سیکنڈری سکول کی تعلیم حاصل کی، بیچلرز کی ڈگری ریاض یونیورسٹی سے حاصل کی، پھر ہائی جیوڈیشل انسٹیٹیوٹ سے اسلامی فقہ و قانون میں ماسٹر کیا، پی ایچ ڈی بھی ’’اسلامی جیوڈیشری سسٹم‘‘ کے عنوان پر کی، تمام اسناد فرسٹ پوزیشن میں حاصل کیں، شیخ عبداللہ الحبیرین اور شیخ ابن باز جیسے بے مثل اساتذہ کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کیے، 1986ء میں نجران ہائی کورٹ میں آگئے، مدینہ منورہ تعیناتی کے دوران میں مسجد نبوی کے منبرِ نبوی کے وارث کی حیثیت سے وقیع خطبات ارشاد فرمائے، انہی خطبات میں سے ایک خطبہ (جو 29 جون 2012ء کو دیا گیا) کے چند اقتباسات نقل کیے جارہے ہیں۔’’اسلام کے اچھے اخلاق، اچھی تعلیمات اور قابل تعریف صفات میں سے ایک نرم خوئی کی صفت ہے، یعنی ایسی نرمی جو اقوال و افعال میں ایسی آسانی پیدا کرے اور جسے اختیار کرنا بہت آسان ہو، فرمانِ الٰہی ہے (اے رسولؐ!) اللہ کی مہربانی سے تمہارا مزاج لوگوں کے لئے نرم واقع ہوا ہے اور اگر تم بد مزاج اور سخت دل ہوتے تو (یہ لوگ) تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے، تم ان کو معاف کردو اور ان کے لیے مغفرت مانگو اور اپنے کاموں میں ان سے مشاورت کیا کرو (آل عمران: 159)یہ نرمی ہی ہے جو مومنوں کے ساتھ مشفقانہ پیشانی سے پیش آنے کا نام ہے۔یہ نرمی ہے جو ہر قسم کی سختی اور غصّہ کو دور کرتی ہے، گفتگو میں تندی و تیزی اور انتقام لینے یا سزا دینے سے روکتی اور فضول افعال سے بچاتی ہے۔سورۃ حجر میں فرمانِ الٰہی ہے ’’مومنوں سے خاطر اور تواضع سے پیش آنا‘‘ پیارے رسولؐ نے ارشاد فرمایا:’’قیامت کے روز تم میں سے مجھے وہ زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہوں گے جن کا اخلاق اچھا ہے جن کے پہلو سب سے زیادہ نرم ہیں، جو لوگوں سے محبت کرتے ہیں اور لوگ بھی ان سے محبت کرتے ہیں‘‘۔مومن اپنے معاملات اور ہر طرح کے حالات میں نرم مزاج ہی رہتا ہے، نرم خو مسلمانوں ہی کے لئے، فرمانِ الٰہی ہے کہ’’اور اللہ کے بندے تو وہ ہیں کہ جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں (اکڑ کر نہیں رہتے) اور جب جاھل لوگ ان سے (جاھلانہ) گفتگو کرتے ہیں تو وہ سلام کہتے ہیں (سورۃ فرقان: 63)نرمی وہ ہے جو سنگ دلی کو جاذبیت و محبت اور شدت و تلخی کو نرمی اور لطف میں بدل دیتی ہے، نرمی نیکیوں میں اضافے، درجات کی بلندی اور رحمت و برکات کا باعث و ضامن ٹھہرتی ہے، نبی اکرمؐ نے فرمایا ’’بلا شبہ اللہ، نرمی والا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے،
نیز نرمی پر وہ کچھ عطا کرتا ہے جو نرمی کے بغیر ممکن نہیں، نرمی جس بھی معاملے میں اور جس بھی انداز سے ہو (اعمال کو) مزین کردیتی ہے جس قبول اور فعل سے نرمی نکال لی جائے وہ بھدا اور برا ہوجاتا ہے‘‘۔مندرجہ بالا حدیث، مسند احمد میں ہے، جبکہ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا ’’بلا شبہ، نرمی سے ہر چیز سنورتی ہے اور نرمی نہ ہو تو عیب دار ہوجاتی ہے‘‘۔صحیح بخاری میں ہے، سوھنے نبیؐ نے فرمایا ’’اللہ نرمی والا ہے اور نرمی ہی کو پسند فرماتا ہے‘‘اسی طرح رسول اکرمؐ نے ایک موقع پر فرمایا ’’جو نرمی سے محروم ہوا وہ ہر بھلائی سے محروم ہوگیا (مسلم)‘‘تو اے مسلمانو! دوسروں کے ساتھ رقتِ قلبی اور نرم دلی سے پیش آیا کرو، نرم خوئی سے تمہارے اپنے معاملات آسان ہوجائیں گے، لوگ تم کو پسند کرنے لگیں گے، تمہارے لئے اچھا سوچیں گے اور دعا کریں گے۔سختی سنگ دلی، ترش روئی، تکبر و غرور اور بد مزاجی سے بچو اگرچہ یہ بھلائی کے کاموں ہی میں کیوں نہ ہو، اس سے لوگ تم سے دور ہوتے جائیں گے، تمہارے بارے برا سوچیں گے، تم سے نفرت کرنے لگیں گے اور بد دعا و انتقام پر بھی تل جائیں گے۔ایک حدیث ہے کہ آپؐ نے فرمایا:’’کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو آگ پر حرام کردیا گیا ہے یا آگ اس پر حرام کردی گئی ہے؟فرمایا: آگ ہر ملن سار، نرم مزاج اور آسانی فراہم کرنے والے آدمی پر حرام ہے‘‘۔(ترمذی)مسلمانو! نرمی ان خوب معانی اور اس بہترین مفہوم کے ساتھ، ہر شخص سے اپنائیت چاہتی ہے، یعنی حاکم اپنی رعایا کے ساتھ نرمی کرے، ہر صاحب اپنے ماتحتوں کے ساتھ نرمی کرے، قاضی (جج) اپنے فیصلوں میں نرمی کرے، باپ اپنی اولاد کے ساتھ اور خاوند اپنی بیوی کے ساتھ نرمی کرے (افسر اور قاضی کے لئے نرمی کی تاکید اور زیادہ ہے کہ ان کے احکامات اور فیصلے دور رس اثرات کے حامل ہوتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی جذباتی کیفیت میں کسی سے ناراضی کی حالت میں کوئی ایسا حکم یا فیصلہ کردیں کہ جو کسی بھی لحاظ سے صحیح نہ ہو، یا ان کے عہدہ و منصب کے شایانِ شان نہ ہو، بلکہ قاضی کے لئے تو نہایت ضروری ہے کہ وہ ہر حال میں نرم مزاج، پاک دل و پاک باز رہے، غصّہ نشہ یا جذباتی کیفیت میں احکامات تو ویسے بھی شریعت اخلاقیات اور قانون میں روا نہیں، یہی وجہ ہے کہ معزز جج ایسے افراد کے معاملات سے الگ رہتے ہیں جن سے ان کا ’’محبت یا نفرت‘‘ کا تعلق رہا ہو)صحیح بخاری میں ہے، رسول اکرمؐ نے فرمایا’’نرمی اختیار کرو، درشتی اور بے ہودہ گوئی سے بچو‘‘مسند احمد میں، نبی کریمؐ نے فرمایا’’جب اللہ تعالیٰ، کسی گھر والوں کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو ان میں نرمی پیدا کردیتا ہے، (مسند احمد)‘‘گویا جب اللہ رب العزت کو کسی قوم پر رحم آجاتا ہے تو اس کے بڑے اور آگووں یعنی مناصبِ جلیلہ پر فائز اور اعلیٰ عہدوں پر متمکن افراد کے دلوں میں خصوصاً نرمی پیدا کردیتا ہے اور وہ اپنے احکامات اور اپنی پالیسیوں سے ملک و ملت کے لئے آسانیاں اور بھلائیاں تراشنے اور پھیلانے میں جُت جاتے ہیں، ان کا وجود شفقت و رافت کی خوشبو پھیلاتا چلا جاتا ہے، ان کے افعال و اعمال، ان کے احکامات اور ہدایات ہی ان کے ظرف کی وسعت، ان کی تحمل مزاجی اور بڑے پن کی عکاس ہوجاتی ہیں۔کہہ رہا ہے موجِ دریا سے سمندر کا سکوتجس کا جتنا ظرف، اتنا ہی وہ خاموش ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex