ایڈیٹر کے نام خط

ایک مدر ڈے کیوں ؟ ہر دن ماں کا دن

(انور سلطانہ،لاہور)

مکرمی:مائیں جو اپنی زندگی کے سنہری سال ایک ایسی جدوجہد میں گزار دیتی ہیں جس کا صلہ انہیں کم سے کم اس دنیا میں تو نہیں ملتا ۔ایک ماں ہی جانتی ہے کہ وہ کن امتحان سے گزر کر ایک بچہ کو جنم دیتی ہے اور پھر اس کی پرورش کرتی ہے۔ماں ایک ایسا رشتہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ۔ ماں سے زیادہ اپنی اولاد سے نہ کوئی پیار کر سکتا ہے نہ ہی اس کا خیال رکھ سکتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس کے قدموں تلے جنت رکھ دی ہے ۔اب اس بات کا انحصار ہم پر ہے کہ ہم جنت حاصل کرتے ہیں یا اس کو گنوا دیتے ہیں ۔مئی کا مہینہ مدر ڈے کے حوالے سے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔اس دن کو منانے کاباقاعدہ آغاز1877میں ہوا ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیااس ہستی کے احسانات کا بدلہ ایک دن میں چکانا ممکن ہے؟کیا ہم اس ایک دن میں اس تکلیف کا بھی بدلہ ادا کر سکتے ہیں جو اس نے ہماری پیدا ئش کے وقت برداشت کی تھی؟نہیں بالکل نہیں۔۔میرے نزدیک تو ماں جیسی عظیم ہستی کے لیے سال میں محض ایک مدر ڈے نہیں بلکہ زندگی کا ہر سال،مہینہ ،دن، منٹ اور سیکنڈ بھی نا کا فی ہوگا۔بہر حال ایک آخری بات بھلا ماں کا بھی کوئی دن ہوتا ہے ،ماں کے بغیر کوئی دن ہی نہیں ہوتا۔خدا سب کی ماؤں کو سلامت رکھے اور ہمیں ماں سے اظہار محبت کے لیے کسی مدر ڈے کا انتظار نہ کرنا پڑے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: