پاکستانتازہ ترین

ایک دن سپریم کورٹ کسی فیصلے کو درست ، دوسرے دن غلط بھی کہہ سکتی ہے،چیف جسٹس پاکستان

پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے کیس میں چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ اصلاح کیلئے غلطی تسلیم کرنا ضروری ہے،ایک دن سپریم کورٹ کسی فیصلے کو درست ، دوسرے دن غلط بھی کہہ سکتی ہے،آپ کہیں سپریم کورٹ نے غلط کیا تھا،یا پھر یہ کہیں گے کہ سپریم کورٹ جنگل کا بادشاہ ہے جو چاہے کرے،ایسے تو ملک آئین پر نہیں ججز کے فیصلوں کے ذریعے بنائے قوانین پر چلے گا۔

سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف سماعت جاری ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ سماعت کر رہا ہے،درخواست گزار مدثر حسن کے وکیل حسن عرفان روسٹرم پر موجود ہیں۔

جسٹس منیب اختر نے کہاکہ جب پہلی بار اس عدالت نے مارشل لا کی توثیق کی تو عاصمہ جیلانی کیس میں کالعدم قرار دیا گیا،کیا عاصمہ جیلانی کیس میں وہ اپیل تھی جس سے مارشل لا کی توثیق کالعدم ہوئی؟چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ اس قانون کی سمت صحیح ہے یا نہیں؟پاکستان کی تاریخ کو چھوڑ کر دیکھ سکتے ہیں اس قانون کو؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ اعجاز صاحب نے دو بنیادی سوال کئے ان پر فوکس کریں، وکیل حسن عرفان نے کہاکہ میرے مطابق پارلیمان ایسی قانون سازی نہیں کرسکتی،آرٹیکل 191کے تحت سپریم کورٹ رولز خود بناتی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آرٹیکل 191میں آئین کے ساتھ قانون کا بھی ذکر ہے،جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 191میں استعمال لفظ قانون کا مطلب پارلیمان کا اختیار ہے؟

جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ سپریم کورٹ رولز خود بناسکتی ہے جب آئین اور اس وقت کے رائج قانون میں پابندی نہ ہو،حسن عرفان نے کہاکہ آئین کی ٹکڑوں میں تشریح کی گئی تو کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکیں گے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز بنا سکتی ہے لیکن آئین و قانون کے تحت،آئین و قانون تو پارلیمنٹ بناتی ہے،سپریم کورٹ آئین و قانون سے باہر کے ضوابط تو نہیں بنا سکتی،وکیل حسن عرفان نے کہاکہ یہ تو آپ ججز کی اکثریت کو فیصلہ کرنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *