اداریہ

ایک اور بحران کا خطرہ

ملک کے مختلف علاقوں میں طوفان اور بارشوں نے تباہی مچا دی ہے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق 40 افراد جاں بحق اور 152 زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ حکام کے مطابق ہلاکتیں دیواریں، چھتیں اور درخت گرنے کے باعث ہوئیں، صورت حال کے پیش نظر تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ جاں بحق اور زخمیوں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ تیز بارش اور ندی نالوں میں طغیانی کے سبب گلیاں اور سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں جبکہ مختلف علاقوں میں بجلی منقطع ہو گئی۔
جس وقت یہ سطور قلمبند کی جارہی ہیں میڈیا پر ایسی اطلاعات آرہی ہیں کہ کراچی میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے کیونکہ ایک بڑاسمندری طوفان کراچی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ پاکستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق حالیہ طوفانی بارشوں سے متاثرہ افراد کی امداد کیلئے چار کروڑ روپے جاری کر دیئے گئے ہیں اورمتاثرہ علاقوںمیںامدادی کام جاری ہیں۔شہریوںکو انتظامیہ کی جانب سے وارننگ دی گئی ہے کہ وہ ہرگز ساحل سمندر کی جانب نہ جائیں۔ابھی تک پاکستان گزشتہ سال2022ء میں آنے والے قیامت خیز سیلاب سے پیدا ہونے والی تباہی سے نہیں نکل پایاتھا کہ اسے ایک اور آفت کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔گزشتہ سال آنے والے سیلاب کے نتیجے میں سیکڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے،لاکھوں بے گھرہو گئے اور90 لاکھ تک افراد غربت کا شکار ہو ئے۔ اس وقت بھی ورلڈ بنک نے کہاتھا کہ پاکستان کی مزید ہنگامی امداد میں تیزی کیلئے کوششیں کرنا ہوں گی۔سیلاب2022ء نے پاکستان میں جو تباہی مچائی عالمی سطح پر اس پر نہ صرف باربار تشویش کا اظہار کیا گیاتھا بلکہ متعدد ممالک نے پاکستان کے ساتھ ہمدردی کرتے ہوئے دل کھول کر متاثرین کیلئے امداد بھی بھیجی ۔ سیلاب کی تباہی پر ہی اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے پاکستان کے دورے کا فیصلہ کیا اور پاکستان آکر سیلاب کی تباہ کاریوں کا جائزہ لے کر انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی تھی کہ ناقابل واپسی کی بنیاد پر پاکستان کی بھرپور امداد کی جائے۔اسی طرح گزشتہ برس آنے والے سیلاب کے موقع پر ورلڈ فوڈ پروگرام کے کنٹری ڈائریکٹر کرس کائے نے بتایاتھا کہ سیلاب متاثرین میں عدم تحفظ کے علاوہ جسمانی اور نفسیاتی خطرات خاص طور پر پسماندہ گروہ بشمول مہاجرین، بوڑھوں، لڑکیوں اور خواتین، بچوں اور خواجہ سراؤں کے ساتھ معذور افراد کے لیے جنسی استحصال اور بدسلوکی کے خطرات بھی بڑھے ہیں۔ اِس پریس بریفنگ میں جو حقائق بیان کیے گئے تھے وہ پاکستانیوں خصوصاً سیاسی رہنماؤں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھے۔بعض ایسی اطلاعات بھی ملیںکہ جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سروے کے دوران حقیقی سیلاب متاثرین کا تعین نہ کرنے کے معاملے پر دو ارکان اسمبلی نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا جس کے مطابق متاثرہ علاقوں کا غلط سروے کیا گیا اور جن لوگوں کے گھر تباہ ہوئے اْن کے نام ہی سروے میں شامل نہیں کئے گئے۔
ہم نے درج بالاسطور میں سیلاب2022ء کے متاثرین کا جو ایک مختصر جائزہ پیش کیا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ اب چونکہ پاکستان کو ایک بار پھر ایسی ہی صورتحال کاسامنا ہے توضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ابھی سے امدادی سرگرمیوں کی بھرپور تیاری کرلیں تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔اس امر کی ضرورت ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین کوتنہا نہ چھوڑاجائے اور ان کے نقصانات کاازالہ کیاجائے۔عوام کوبھی چاہیے کہ وہ متاثرہ علاقوںمیں جاری امدادی سرگرمیوں میں اداروں کا ہاتھ بٹائیں۔اگر زمینی حقائق کو مد نظر رکھاجائے تو یہ حقیقت ہے کہ جب بھی پاکستا ن کو کسی قدرتی آفت کا سامنا ہوتاہے تو عالمی برادری دل کھول کر پاکستان کی مدد کرتی ہے لیکن دوسری طرف ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ تمام تر امداد حق داروں تک بھی پہنچ رہی ہے یا نہیں؟۔گزشتہ سال آنے والے سیلاب کے موقع پر بھی عالمی اداروںنے پاکستان کو امداد بھیجی لیکن ورلڈ بینک نے بھی اشارہ دیا تھاکہ پاکستان کو مانیٹرنگ کا نظام بہتر کرنا ہوگاتاکہ امدادمستحق افراد تک پہنچ سکے۔ہمیں اپنی کمزوریوں پرقابو پاکر شفافیت کی جانب بڑھناہوگاتاکہ متاثرین کی بہتراندازمیں اشک شوئی کی جا سکے۔
وادی کشمیر پنجہ استبداد میں
مقبوضہ جموں و کشمیر میں سانحہ چوٹہ بازار شہدا کی برسی گزشتہ روز11جون کومنائی گئی ۔ 11جون 1991کو سرینگر کے علاقے چوٹہ بازار میں بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں نے بلااشتعال فائرنگ کر کے خواتین اور بچوں سمیت 30 سے زائد کشمیریوں کو شہید کردیا تھا۔ سرینگرکے مختلف علاقوں میں جموں و کشمیر ڈیموکریٹک موومنٹ، جموں و کشمیر پولیٹیکل ریزسٹنس موومنٹ اور دیگر تنظیموں نے سانحہ چوٹہ بازار کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا ۔دوسری جانب مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس نے جموں خطے کے ضلع کشتواڑ میں مویشیوں کے دو مسلمان تاجروں کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے اشتیاق احمد اور عطا محمد کو ضلع کے علاقے چترو میں ایک چھاپے کے دوران گرفتار کیا۔دوسری جانب قابض بھارتی فوجیوں کی طرف سے جموں خطے کے کئی اضلاع کو محاصرے میں لیکر تلاشی کی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جس سے وہاں کے مکینوں کو شدید تکالیف و مشکلات کا سامنا ہے۔فوجی اور پیرا ملٹری اہلکار بدنام زمانہ ملیشیا ویلج ڈیفنس گارڈز کے ارکان کے ساتھ مل کر پونچھ، راجوری، کشتواڑ، ڈوڈہ، رام بن، جموں، ریاسی اور کٹھوعہ اضلاع کے کئی قصبوں اور دیہاتوں میں مسلمانوں کے گھروں کی تلاشی لی۔
بھارت بدترین جبر کے باوجودکشمیری عوام، نظربند رہنمائوں اور کارکنوں کے حوصلے پست کرنے میں ناکام رہا ہے اور کشمیری مسلمان حق پر مبنی اپنے موقف پر چٹان کی طرح ڈٹے ہیں۔بھارت جس قدر مرضی ظلم کر لے وہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو نہیں دبا سکتا۔اب تو مختلف عالمی اداروں کے سامنے بھی بھارتی دہشت گردی کا پول کھل چکاہے جس کی واضح مثال حالیہ جی ٹونٹی اجلاس کی بدترین ناکامی ہے۔ اس اجلاس کا جن رکن ممالک نے اس کانفرنس کابائیکاٹ کیاان کا یہ عمل لائق تحسین ہے۔واضح رہے کہ غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں گروپ 20کا تین روزہ اجلاس سخت سیکورٹی حصار میں 22 مئی کوشروع تو ہوا تاہم بھارت کوسخت ہزیمت کا سامنا کرناپڑ رہا ہے اور کانفرنس شروعات سے پہلے ہی دم توڑگئی کیونکہ چین، سعودی عرب اور ترکیہ نے کانفرنس کا بائیکاٹ کیا جبکہ مصراور، انڈونیشیا سمیت کئی ممالک کے نمائندے شریک نہیں ہوئے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جی 20اجلاس کے انعقاد کیلئے سخت سیکورٹی پر بھارتی مبصرین بھی بول اٹھے کہ سیاحت کے فروغ کیلئے ہونے والی کانفرنس میں کمانڈوز کی تعیناتی، سخت سیکورٹی اور حصار سے دنیا کو کیا پیغام گیاہے۔کانفرنس کے انعقاد کیخلاف مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی اورآزاد جموں و کشمیراور یورپ میں مظاہرے کئے گئے۔مودی سرکار نے کشمیریوں کو جبری ہتھکنڈوں کیخلاف اقوام عالم میں آواز بلند کرنے سے روکنے کیلئے پوری مقبوضہ وادی اپنی دس لاکھ سکیورٹی فورسز کے حوالے کرکے کشمیریوں کو ان کے گھروں میں محصور کر دیاہے۔بھارت کا دوغلا پن ملاحظہ کیجیے کہ وہ خود تو پوری دنیامیں مسلمانوں کی شدت پسندی دہشت گردی کا جھوٹا واویلا کرتا ہے لیکن اس نے خود اپنے ہاں اور بالخصوص مقبوضہ وادی کے مسلمانو ں کی زندگی اجیرن بناکررکھ دی ہے۔عالمی اداروں اور قوتوں کو چاہیے کہ وہ بھارتی دہشت گردی کاسخت نوٹس لیتے ہوئے اس کے سدباب کے لیے اقدامات کریں۔
جوانوںکی شہادتیں
اطلاعات کے مطابق میران شاہ میں دہشت گردوں اور سیکورٹی فورسزکے مابین فائرنگ کے تبادلے میں چار دہشت گرد ہلا ک اور تین جوان شہید ہوگئے ہیں۔ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیاگیاہے۔واقعہ کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں دیگر دہشت گردوں کو کچلنے کے لیے آپریشن شروع کردیاہے۔
یہ امر باعث تشویش ہے کہ قبائلی علاقوںمیں دہشت گردوںنے ایک بار پھر سراٹھانا شروع کردیا ہے ، دہشت گردی کی یہ کارروائیاں نہایت خطرناک حالات کی جانب اشارہ کررہی ہیں۔ ایک جانب بھارتی اوراسرائیلی ٹکڑوں پر پلنے والے دہشت گرد عناصراپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں توہمارے محافظ جوان بھی اپنے فرض سے ہرگز غافل نہیں ہیں۔پاک فوج ،ایف سی اور پولیس کے افسر اور جوان دہشت گردوں کے عزائم اسی طرح خاک میں ملاتے رہے ہیں اور اپنے سرخ لہوسے سبز ہلالی پرچم کی حفاظت کرتے رہیں گے۔پوری قوم میران شاہ میں جام شہادت نوش کرنے والے تین جوانوںکو سلام پیش کرتی ہے اور ان کے خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ادارے، وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومتیںدہشت گردوں کی سر کوبی کیلئے سخت ترین اقدامات اٹھائیں اور دہشت گردی کی گھنائونی میںملوث دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں ،مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر سخت سزا ئیں دی جائیں۔اب یہ دہشت گرد ہرگز کسی بھی رعایت ،مذاکرات اور معاہدات کے مستحق نہیں ہیں۔ لاتوں کے یہ بھوت اب باتوں سے ماننے والے نہیں ہیں۔یہ بھارتی ٹائوٹ عناصر ہرگز کسی رعایت کے مستحق نہیںہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex