کالم

ایم اے پاس ملنگ

ڈاکٹر صغیر ملک

ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پہ خبریں، کہانیاں وغیرہ شئیر کرنے والے بہت سارے ایڈمنز یا اکائونٹ ہولڈرز ایسے ہیں جنہیں خود کو ہی پتہ نہیں ہوتا کہ علمی و ادبی لحاظ سے کیا حیثیت یا کیا معنی ہو سکتا ہے ایسی ہی ڈھیروں امثال ہمارے اطراف میں موجود ہیں۔ ہمارے وٹس گروپ میں موجود بھی دو احباب ایسے ہیں جو کبھی نہ سدھر سکنے والے ہیں جن میں سے محبوب بھائی شئیرنگ کانٹینٹ کی ہیڈ لائن پہ غور نہیں فرماتے اور حافظ عنائیت اللہ پُر مزاح تبصرے سے در گزر نہیں فرماتے ابھی گزشتہ سے پیوستہ روز ایک ایسا ہی کانٹینٹ شئیر کیا گیا ملاحظہ فرمائیں؛-ایم اے پاس ملنگ کی دھمال ادھر کانٹینٹ شئیر ہو اور ادھر قبلہ حافظ صاحب تبصرہ کرنے میں تاخیر فرمائیں یہ تو جوئے شیر لانے کے مترادف ہوا۔ہمارے اسلاف نے کچھ روحانیت کے حصول کے لئے تصوف کے کچھ قوانین بیان فرمائے ہیں جن پہ اکثریت پیر یا مرید کم ہی غور وفکر کرتے ہیں حالانکہ جس کی بیعت ہونے جارہی اور جو بیعت لینے جا رہا ہے دونوں کے لئے لازم ہے کہ وہ متبع سنت ہو اور اصلاح و تزکیہ نفوس پر مشتمل بیعت ہونے یا کرنے سے پہلے استخارہ کرے یہی دونوں کے حق میں بہتر ہے۔ لیکن
اس سلسلہ میں بیشتر و معروف پیر من پسند احادیث کی رو سے بیعت پر کوئی نہ کوئی حجت نکال کر کاروبار چمکائے ہوئے ہیں ۔جس میں کوئی بھی تابعی کسی بھی صحابی کا حوالہ دئیے اور نام لئے بغیر حدیث مبارکہ روایت کرتے ہیں اور ان مرسلات کی وجہ سے کسی بھی تابعی کی عدالت و ثقاہت پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔ امید ہے اسی وضاحت کو کافی سمجھا جائے گا اور مزید تفصیل سے بوجہ عدیم الفرصتی اور مناظرانہ تخیل معزور تصور کیا جائے گا کیونکہ یہاں ایم اے پاس کی شرعی حیثیت کو اجاگر کرنے کے لئے بنیادی عقیدہ کی زمین تیار کرنا اہم مقصود تھا۔لیکن زمانہ حاضر میں متعدد و مجازاً ایک افیمی چرسی اور خلاف شرع اعمال کرنے والا صفاتی لحاظ سے من موجی اور بے پرواہ شخصیت ہے اور دوسری جانب وہ درویش الصفہاء جو مال و زر سے محروم اور لذت حصول خواہشات سے بے بہرہ ہو کر خدائے بزرگ و برتر کی وارفتہ محبت میں مجذوب ہو جائے لیکن ہمارے ہاں لمبی لمبی سُروں پرمبنی مقررین کی تال پہ بھی اٹھ کر ناچنے والے اور شعبدہ باز پیروں اور عاملوں کے اشاروں پہ ان کے اپنی ہی سدھائے ہوئے خاص الخاص اچھل کود شروع کر دیتے ہیں جس سے پیر صاحب یا خطاب کرنے والے مولوی صاحب کی دکانداری تو خوب چمکتی ہے لیکن بالقصد اس طرح کی کیفیت کا اظہار شرعاً درست نہ ہے۔اور نہ ہی حقیقی ملنگ و صوفیاء کے نزدیک ایسی کیفیات مطلوب ہیں۔ پڑھا لکھا طبقہ جن خصوصی تعلیم یافتہ نوجوان نسل موجود شامل ہے وہ سوشل میڈیا پر ایسی مصنوعی کیفیات کو مزاح کا ذریعہ بناتے ہوئے مختلف میوزک اور گانے سے ایڈیٹنگ کرتے ہیں پھر حقیقی اہل تصوف و اہل کرم پہ خوب استہزاء سے کام لیتے ہیں پھر ان کی بلا جانے کہ ناچنے والا درباری بے شعور مرید ہے یا کہ ایم اے پاس ملنگ نے دھما چوکڑی مچا رکھی ہے۔ عرصہ ہوا سی ایس ایس کی پنجابی پڑھانے والے پروفیسر محمد شفیع چشتی سے اسی دھمال پر سیر حاصل بحث ہوئی تو انہوں نے انکشاف فرمایا کہ قصور میں مدفن مکیں ہوئے ایک سید زادے پر بھی قوال اور عقل و دانش سے محروم مولانا حضرات نے دھمال اور عشقیہ ناچ کا محض الزام دھر رکھا ہے جو حقیقت سے کوسوں دور ہے۔مجھے اس دن اس محفل کی برخاستگی پر کچھ ہوش نہ تھا کیفیت کچھ یوں تھی کہ میں اسی سید زادے کے آستاں پر قصور کی سر زمیں پر تخیلاتی حاضری پر محو ہوں اور وہاں پہ موجود کئی ایم اے پاس ملنگوں کے دھمال سے قدموں کی دھمک اور گھنگھروؤں کی چھن چھن سے تصوفی تربیت گاہ ایک امت مسلمہ کی نسلی قتل گاہ محسوس ہو رہی تھی۔کہ ملنگ میٹرک پاس، ایف اے پاس ہو یا پھر ایم اے پاس، آخر کیوں انہوں نے خود کو شریعہ محمدی سے مستثنیٰ قرار دے رکھا ہے کیوں ان ملنگوں کی اکثریت بے نمازی اور غیر شرعی کاموں کا پرچار کرتی ہے ۔ کتاب اللہ میں ارشاد ہے۔ترجمہ؛ تم گزری ہوئی قوموں کی نسبت خیر والی امت ہو کیونکہ تم صالح عمل کرتے ہو اور صالح عمل کی تلقین کرتے ہو۔۔۔ کیا ان کا یہ انداز امت مسلمہ کے اس اعزاز کی نفی نہیں تو کیا ہے؟ یارانِ خاص مجھ پہ الزام دھرتے ہیں کہ موصوف مولویوں اور پیروں کی کھلے عام بے توقیری کرتے ہیں ۔ میں اس کی نفی کرتے ہوئے عرض کرتا ہوں کہ میں ان کی تضحیک نہیں بلکہ اپنے بچوں اور بہت سے شاگردوں کی تصحیح کرتا ہوں۔ اور سوچ رہا ہوں کہ حافظ عنائت اللہ کا محبوب بھائی کے کانٹینٹ پہ اچھا تبصرہ تھا۔خِرد نے کہہ بھی دیا ’لااِلہ‘ تو کیا حاصل ،دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں،عجب نہیں کہ پریشاں ہے گفتگو میری ،فروغِ صبح پریشاں نہیں تو کچھ بھی نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *