کالم

ایسا کب تک چلے گا

میمونہ حسین

پاکستان کے موجودہ مسائل پہ ہر روز ایک نئے انداز اور مختلف پہلووں سے ڈسکشن جاری رہتی ہے مگر حالت زار اورمسائل سمٹتے دکھائی ہی نہیں دے رہے ،ایک کے بعد ایک مشکل ہر نئے دن کے ساتھ سر اُٹھائے کھڑی ہوتی ہے۔کبھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ،کبھی بجلی کے یونٹ میں اضافہ،تو کبھی آٹے کے نرخوں میں اضافہ،ہر نئے دن کے ساتھ مہنگائی کا اک نیا طوفان سر اُٹھائے عوام کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔غریب آدمی ہر نئے دن کے ساتھ اپنی روٹی کمانے کی جستجو میں لگ جاتا ہے۔
عوام کو روزگار بھی میسر نہیں پڑھے لکھے نوجوان کا آج بھی کوئی پرسان حال نہیں۔جس طرح مہنگائی روز بہ روز طول پکڑ رہی ہے اُس طرح عوام کو روزگار میسر نہیں ہیں،مگر اس جانب کسی کی توجہ نہیں ہے آخر کون سوچے گا ،ہر کسی کی توجہ الیکشن کی جانب ہے کہ ملک میں بہتری لانے اور مسائل کے خاتمے کے لیے الیکشن وقت پہ کرنا بہت ضروری ہیں۔
مگر اس سے پہلے پی ٹی آئی نے کونسا تیر مار لیا،یا پی ڈی ایم کی حکومت نے کیا عوام کو ریلیف دینے کے فیصلے کر لیے اُلٹا میں تو یہی کہوں گی کہ 12جماعتوں کے بندھن نے عوام کو باندھ کے مارا،مسائل کم ہونے کی بجائے ذیادہ ہوئے۔آئی ایم ایف سے قرض لیا اُس سے صرف اشرافیہ ڈیفالٹ سے بچا مگر عام آدمی ڈیفالٹ ہو گیا ۔عوام کا ہر گزرتے دن کے ساتھ جینا محال ہو گیا،سونے پہ سہاگہ یہ قرض عوام کی فلاح کے لیے لیا مگر پوری پی ڈی ایم نے وزیراعظم اوروزراء سمیت سلامی ایک ایک ارب کی لی،اس کا حساب کون لے گا۔
آج تک انہی شاہ خرچیوں نے تو پاکستانی روپے کو کاغذ کی پرچیوں میں بدل ڈالا۔روٹی بھی غریب آدمی کی دسترس سے باہر ہو رہی ہے۔15اکتوبر سے ملوں کو سرکاری گندم 4450روپے من فروخت کی جائیگی ،20کلو آٹے کا تھیلا 2600میں فروخت کیا جائے گا اور اوپن مارکیٹ میں 2750روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔اب شہباز شریف سے پوچھا جائے اور وہ وزراء جو خود کو عوامی نمائندہ ہونے کا دعوی کرتے ہیں،اور جو دعوی شہباز شریف نے کیا کہ گندم کی پیداوار ذیادہ کی گئی اور حالات یہ کہ آٹے کی قیمتوں کو بھی کنٹرول نہیں کیا جا پا رہا۔ ہر چیز پہ سبسڈی کاخاتمہ کیا جا رہا ہے۔
بجلی کے نر خوں میں بھی ایک بار پھر سے اضافہ کیا جا رہا ہے۔ یہاں سیچویشن کو دیکھتے ہوئے پنجابی کا محاورہ یاد آیا ،،کھیت اُجاڑن باہر لے،، ،،ڈانگاں کھاون بکریاں،،۔کھیت اُجاڑنے والے آج بھی مزے میں لندن بیٹھے ہیں مگر ڈانگاں عوام برداشت کر رہی ہے ،آخر یہ سلسلہ کن تلک یونہی چلتا چلا جائے گا۔
پاکستان کی اقتصادیات پر سیاسی عدم استحکام کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے کذشتہ ڈیڑھ دو سال کے عرصے میں واضح ہو گیا ،مالی سال 2022میں شرح نمو 6%کے لگ بھگ رہی 2023میں یہ ہدف0.29%کے لگ بھگ رہی،امر واقع یہ ہے کہ اگر کسی معاشرے میں سیاسی عدم استحکام نہ ہو تو سرمایہ کار ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔چین کے ایک جریدے نے کزشتہ ماہ پاکستان کی معشیت پر جو تفصیلی جائزہ پیش کیا،اس میں تخمینہ لگایا گیا کہ سیاسی عدم استحکام سے پاکستانی معشیت پر جو تفصلی جائزہ پیش کیا گیا ،اس میں تخمینہ لگایا گیا کہ سیاسی عدم استحکام سے پاکستانی معشیت کو سالانہ بنیادوں پر جی ڈی پی کے دس فیصد تک نقصان ہو رہا ہے۔ایشین ڈویلمپمنٹ بینک سے قبل آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ میں بھی دگر گوں معاشی حالات کو سیاسی حالات سے منسوب کیا گیا تھا۔
عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کے تجزیے ایک طرف،ایک عام آمی بھی یہ بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت ملکہ معشیت میں جو تنزلی کی کیفیت ہے یہ سرا سر بے یقینی کا نتیجہ ہے ۔جب سیاسی عدم استحکام آخری حدوں کو چھو رہا ہو تو افواہوں کو بھی جگہ بنانے کا موقع مل جاتا ہے۔اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انتخابات کا انعقاد کوئی غیر ملکی مظالبہ نہیں بلکہ ہمارا آئینی و جمہوری تقاضہ ہے۔
ملکی آئین سیاسی حکومت کی عدم موجودگی کو حد نوے دن کی مہلت دیتا ہے اور تمام اداروں کو اس مدت میں الیکشن کمیشن کی معاونت سے ملک میں نئی حکومت کے قیام کا پابند بناتا یے۔ایک منتخب سیاسی حکومت نگران انتظامیہ کے مقابلے میں بڑے فیصلوں کو کرنے میں کہیں زیادہ با اختیار اور عالمی سطح کے معاہدوں میں بہتر ساکھ کی حامل ہوتی ہے۔چائنا کے جریدے کا تجزیہ اور ایشین ڈویلپمنٹ رپورٹ ہماری توجہ اس جانب مبذول کرتی ہے کہ ہم اپنی خامیوں کو دور کرتے ہوئے معاشی درستگی کی جانب آنے کے لیے ہمیں بہتر معاشی پلاننگ اور ایفارمز کی اشد ضرورت ہے جسے فوری طور پہ اگر رمل پیرا ہو جائینگے تو ہم مزید مشکلات سے بروقت بچ سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *