کالم

اک برس اور بیت گیا

مصطفیٰ کمال پاشا

سال 2023ء گزر گیا، کچھ کے لئے اچھی اور کچھ کے لئے بُری یادیں چھوڑ گیا۔ ن لیگ کے لئے کئی اچھی اور پی ٹی آئی کے لئے خوفناک یادیں چھوڑ گیا ہے۔ نوازشریف اسی سال خود ساختہ جلاوطنی کے بعد پاکستان تشریف لے آئے۔ مینار پاکستان پر ایک بڑے استقبالیہ جلسے سے بھرپور خطاب فرمایا۔ عدالتوں میں پیشی کی تیاری کی انہیں ریلیف ملنا شروع ہوا اور پھر وہ آگے بڑھتے چلے گئے ا ن کی سیاسی جماعت میں جوش و خروش پیدا ہوا۔ ملکی سیاست میں ان کی قبولیت کے چرچے ہونا شروع ہوئے، تاثر پیدا ہوا کہ ان کی ڈیل ہو گئی ہے اور وہ نہ صرف اس ڈیل کے تحت وطن واپس لوٹے ہیں بلکہ الیکشن 2024ء کے بعد انہی کی حکومت بھی بننے جا رہی ہے۔ اس تاثر نے ہواؤں کا رخ (ن) لیگ کی طرف موڑ دیا ہے۔دوسری طرف پی ٹی آئی کے لئے زمین تنگ کر دی گئی ہے اس کا بندوبست انہوں نے خود کیا 9مئی کا سانحہ اگر وقوع پذیر نہ ہوتا تو آج پی ٹی آئی میدان سیاست و انتخاب میں ہوتی۔ عمران خان حسبِ عادت سیاستدانوں کے لتے لے رہے ہوتے، اپنی گفتار کے ذریعے اپنوں کے جذبات کو گرمارہے ہوتے جبکہ مخالفوں کے سینوں پر مونگ دلتے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ عمران خان اپنی زبان کی بے لگامی کے ہاتھوں،جیل میں ہیں اور ان کی پارٹی معدومیت کے خطرات میں گھِری ہوئی ہے تمام مشکلات کے باوجود ان کی تربیت یافتہ ٹیم کے کھلاڑی کذب اور دروغ گوئی کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں ایک وڈیو کو وائرل کرکے خوب پروپیگنڈہ کیا گیا کہ دیکھیں ایک خاتون آر او کیسے اٹھ کر جہانگیر ترین کا استقبال کررہی ہے۔کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لئے آنے والے ایک امیدوار کو اس طرح کا خصوصی پروٹوکول دے کر یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ الیکشن کمیشن غیر جانبدار نہیں ہے۔ اس وڈیو کو خوب وائرل کیا گیا اور پروپیگنڈے کے ذریعے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری کو خوب رگیدا گیا۔ تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ وہ خاتون مولانا مودودیؒ کی پوتی ہیں اور وہ تمام آنے والے امیدواران کا اس طرح احترام و استقبال کرتی رہی ہیں جس طرح انہوں نے جہانگیر ترین کا کیا۔
یہ ان کی خاندانی تربیت کا نتیجہ ہے کہ وہ احسن طریقے سے تمام امیدواران کا استقبال کرتی ہیں لیکن پی ٹی آئی کا کلچر بھی ایسا ہے کہ دروغ گوئی سے کام لیا جائے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی پروپیگنڈہ کررہی ہے کہ ان کے امیدواران کو کاغذات نامزدگی داخل کرنے سے روکا گیا ہے اور جن کے کاغذات داخل ہو گئے انہیں نااہل قرار دیا گیا ہے گویا الیکشن کمیشن جانبداری کا مظاہرہ کررہا ہے۔ امیدواران کو روکے جانے کے اکا دکا واقعات رونماہوئے ہیں اس کی لوکل وجوہات ہیں کسی جگہ امیدوار مطلوب ملزم تھا اس لئے اسے گرفتار کر لیا گیا۔ کسی جگہ لوکل جھگڑا ہوا اور کوئی امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کرا سکا۔ اس بات کا تعلق الیکشن کمیشن کے ساتھ نہیں ہے ہاں کاغذات نامزدگی کے مسترد کئے جانے کا تعلق الیکشن کمیشن کے ساتھ ضرور ہے۔ سینکڑوں نہیں ہزاروں افراد کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ان میں تمام جماعتوں کے امیدواران شامل ہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زیادہ تر مسترد کردہ افراد کا تعلق پی ٹی آئی کے ساتھ ہے۔ پلڈاٹ کے احمد بلال محبوب نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں پی ٹی آئی کے اس پروپیگنڈے کا پردہ بھی چاک کر دیا ہے کہ اس دفعہ مسترد کئے جانے کی شرح کہیں زیادہ ہے۔2003ء سے لے کر 2018ء تک ہونے والے انتخابات میں کاغذات جمع کرانے اور مسترد کئے جانے والوں کی اوسط شرح، عمومی شرح کے برابر ہی ہے کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ اس دفعہ کاغذات جمع کرانے والوں کی تعداد زیادہ ہے اور اسی حساب سے مسترد کئے جانے والے امیدواروں کی تعداد بھی زیادہ نظر آرہی ہے لیکن فیصد شرح زیادہ نہیں ہے ہاں کیونکہ پی ٹی آئی بطور جماعت ایک تخریب کار اور ریاست دشمن کے طور پر کٹہرے میں کھڑی کی جا چکی ہے اس لئے اس کے امیدواروں کے استرداد کی شرح زیادہ نظر آ رہی ہے تو یہ بعیدِ از قیاس نہیں ہے لیکن کیونکہ پی ٹی آئی کی سیاست کھڑی ہی جھوٹ اور کذب پر ہے اس لئے جھوٹ بولنا اور بولتے ہی چلے جانا ان کا وتیرہ ہے جو وہ نبھاتے چلے جا رہے ہیں۔
2023ء کی طرح 2024ء کا آغاز بھی بے یقینی اور ناامیدی سے ہی ہو رہا ہے۔ الیکشن کے ہونے یا نہ ہونے کے معاملات پر ابھی بھی دھند چھائی نظر آ رہی ہے۔ ویسے تو ایک مخصوص گروہ الیکشنوں کے انعقاد کو مشکوک بنانے پر تُلا بیٹھا ہے اور جو الیکشن کے پرجوش حامی نظر آتے ہیں ان میں سے بھی کئی ایک اس کے انعقاد کی راہیں مسدود کرتے نظر آ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی قیادت کا طرزِ فکر و عمل اس بات کا عکاس ہے کہ وہ الیکشن کے انعقاد کی راہیں عملاً مسدود کرنے میں مشغول ہے۔ مولانا فضل الرحمن تو کھل کھلا کر الیکشن موخر کرانے کی مہم پر نکل پڑے ہیں کبھی موسم کی شدت اور کبھی تخریب کاری کے خدشات اور اب تو اپنے اوپر حملے کا بہانہ بنا کر وہ الیکشن ملتوی کرانے کی مہم کو بلند آہنگ میں لے جا چکے ہیں لیکن سپریم کورٹ کے قطعی احکامات کی روشنی میں الیکشن کمیشن 8فروری 2024ء کو انتخابات کرانے جا رہا ہے طے شدہ شیڈول کے عین مطابق معاملات آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور الیکشنوں کا انعقاد ہوتا نظر بھی آ رہا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انتخابات کے بعد قومی افق پر چھائے ناامیدی کے بادل چھٹ جائیں گے؟ کیا پاکستان تعمیر و ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جائے گا؟ کیا عوام کے قلب و نظر پر چھائی ناامیدی ختم ہو جائے گی؟ کیا ہم باوقار اقوام کی صف میں کھڑے ہونے کے قابل ہو جائیں گے؟ سردست ان سوالات کے جواب دینا ممکن نظر نہیں آ رہا۔ بے یقینی کی کہر خاصی شدید ہے اس کے چھٹنے کا انتظار کرنا ہوگا۔8فروری 2024ء کے نتائج کا انتظار کرنا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex