کالم

ان نفرتوں کو محبتوں میں بدلنا ہوگا!

عابد محمود عزام

سیاست میں اخلاقیات کے فقدان کی روایت بہت پرانی ہے، لیکن اب اس میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اب توسیاسی اقدار میں غیر اخلاقی زبان کا استعمال، غیر حقیقی الزام تراشیاں، مخالفین پر کیچڑ اچھالنا اور نفرت پھیلانا ایک آرٹ کی شکل اختیار کرچکا ہے۔
سیاسی مخالفین کے خلاف نفرت پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا۔سیاست دانوں کی پریس کانفرسز، ٹاک شوز، تقاریر، جلسے جلوسوں میں ایک دوسرے پر الزامات کی بھرمار ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں۔ مخالفین کو گھٹیا اور اخلاق سے عاری القابات سے نوازا جاتا ہے اور یہ سب کچھ بہت فخر سے کیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ معاشرے میں نفرت عام ہوچکی ہے۔
اوپر سے نیچے تک ہر سطح پر مختلف سیاسی جماعتوں کے لوگ ایک دوسرے سے کھل کر نفرت کا اظہار کررہے ہیں۔ جن رہنماؤں نے معاشرے کی تربیت کرنا تھی، جب وہی نفرت پھیلائیں گے، انتہاپسندی اور عدم برداشت کوفروغ دیں گے،معاشرے میں منفی رویوں کو پروان چڑھائیں گے اور مخالفین کو نیچا دکھانے کے لیے ہر غیراخلاقی طریقہ اختیار کریں گے تو یہ ممکن نہیں کہ کارکنوں میں سدھار آسکے۔
عوام اپنے رہن سہن اور گفتار وکردار میں اپنے رہنماؤں کی اور بچے اپنے بڑوں کی تقلید کرتے ہیں، ان کے منفی رویوں کے اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ آج معاشرہ انتہاپسندی، عدم برداشت اور نفرت کی آگ میں جل رہا ہے۔
قومی سیاست نفرت کی نذر ہوچکی اور جمہوری، سیاسی اور اخلاقی اقدار کی عمارت دن بدن کھوکھلی ہورہی ہے۔ سیاست دانوں پر لازم ہے کہ وہ ضابطہ اخلاق ترتیب دیں، تاکہ اختلاف رائے اخلاقی حدود نہ پھلانگ سکے۔ سیاست دان مل کر سیاست میں اخلاقیات پر مبنی بہت عمدہ اصول و ضوابط مرتب کرسکتے ہیں، لیکن وہ ایسا کرنے کو تیار نہیں، بلکہ ہمیشہ منفی پوائنٹس کو فروغ دینے کی ہی کوشش کرتے ہیں، جس کی وجہ سے معاشرے میں انتہا پسندی، جذباتیت اور نفرت میں اضافہ ہوتا ہے۔
ملک میں سیاسی جماعتوں کے حامی جس حد تک چلے گئے ہیں وہ سیاسی اختلاف نہیں، بلکہ نفرت پر مبنی راستہ ہے۔ جمہوری معاشروں میں سیاسی جماعتوں کے اختلاف کا اظہار اسمبلی کے فلور پر ہوتا ہے۔ اسمبلی کے فلور پر ڈائیلاگ ناکام ہو جائے اور معاملات سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں طے ہونے لگیں تو پھر نفرت میں اضافے کے ساتھ تشدد کی لہر بھی ابھرنا شروع ہو جاتی ہے۔ شاید اسی لیے آج ملک میں سیاست میں نفرت اور تشدد شامل ہوگئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بحث کا ایک نا تھمنے والا طوفانِ بدتمیزی، نفرتوں کا پروان چڑھا رہا ہے۔ گھر سے، دفتر سے لے کر مذہبی مقامات تک ہر جگہ ہر محفل میں سیاست پر بحث و مباحثہ ہورہا ہے۔ ہر شخص اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کے حق میں میدان میں اتر آتا ہے۔ بطور معاشرہ ہم صرف نفرت اور عقیدت کے جذبات سے واقف ہیں۔ جس جماعت کے ہم حامی ہیں، اس کا ہر گناہ معاف اور دوسرے کا دامن داغ دار ہے۔
اپنی جماعت اور اپنے رہنما کی کوئی غلطی تسلیم کرنے کو ہم تیار ہی نہیں ہوتے۔ ہر خامی کا سرا صرف مخالف جماعت اور مخالف رہنما میں تلاش کرتے ہیں۔ یہ صرف تعصب اور نفرت کی جنگ ہے۔ اس جنگ میں ہم اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور خونی رشتوں تک سے الجھ بیٹھتے ہیں۔ کئی احباب تو سوشل میڈیا پر بھی یہ اعلان کر دیتے ہیں کہ اگر آپ ہمارے خیالات سے اتفاق نہیں کرتے تو ہمیں ان فالو کر دیں۔
حیرت ہے اگر کوئی ہم سے مختلف رائے رکھتا ہے تو وہ ہم سے بات کرنے یا کوئی تعلق رکھنے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ کیا یہ سیاستدان اس قابل ہیں کہ ہم ان کے لیے اپنے رشتے، دوستیاں اور تعلقات داؤ پر لگا دیں؟ ہرگز نہیں۔ ہمیں ان کی خاطر اپنی زندگی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔ ایک ذمے دار شہری ہونے کی حیثیت سے ہمیں اپنی رائے کا اظہار بھی کرنا چاہیے۔ مثبت بحث کرنے اور سوالات اٹھانے کی ممانعت بھی نہیں ہے، لیکن سوالات دلیل سے عاری نہ ہوں۔
اختلاف بھی مہذب انداز میں ہونا چاہیے۔ ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے کی صورت میں دوسرے کی رائے کو احترام دینا تہذیب یافتہ اور باشعور قوموں کا شیوہ ہے۔ اختلاف رائے کو برداشت کرنا سیکھیں، تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ پورے نظام کو تبدیل کرنا ہمارے اختیار میں نہیں ہے، لیکن خود کو بدل لینا تو ہمارے اختیار میں ہے۔ جو ہمارے اختیار میں ہے، اس پر تو عمل کرنا چاہیے۔
سیاست دانوں کو مل کر ٹھنڈے دماغ سے سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی آیندہ نسلوں کو کس قسم کا سماج دے رہے ہیں۔ جس قسم کا رویہ سیاست دان مل کر معاشرے میں پروان چڑھا رہے ہیں، یہ رویہ معاشرے کا امن و سکون برباد کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس قسم کے رویے سے معاشرے میں انتہا پسندی اور نفرتیں جنم نہیں لے رہی ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ آپس میں مل بیٹھ کر سیاسی ضابطہ اخلاق مرتب کریں، خود بھی اس پر عمل کریں اور اپنے کارکنوں سے بھی عمل کرائیں۔ کارکنوں کی تربیت کریں۔
انھیں بتائیں کہ اگر کسی سے اختلاف ہو تو بھی اس کی توہین نہیں کی جاتی، بلکہ اختلاف کرنے کے باوجود احترام کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ انھیں ایک دوسرے سے لڑنے مرنے، دوسروں کی توہین کرنے، عزت اچھالنے اور الزامات لگانے کا نہیں، بلکہ وطن عزیز کی تعمیر و ترقی کا راستہ دکھائیں۔سیاسی نفرتوں سے لبریز اس معاشرے کو آج سب سے زیادہ ضرورت محبت کو عام کرنے کی ہے۔ معاشرے میں نفرتوں کا راج ہے۔
قدم قدم پر انسان کا پالا نفرتوں سے پڑتا ہے۔ موجودہ سیاست نے ان نفرتوں میں کئی گنا اضافہ کیا ہے۔ ان نفرتوں کو صرف محبتوں کو عام کرکے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ محبت کے پیغام کو عام کرنا ہوگا۔ نفرتیں نہیں، محبتوں کو پھیلانا ہوگا۔انسان فطری طور پر محبت پسند ہے، لیکن سیاست نے اسے نفرت پسند بنا دیا ہے، اگر انسان اپنے جذبہ محبت کو جذبہ نفرت پر حاوی کرنے کی کوشش کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اپنی محبت کی طاقت سے نفرت کی آگ پر قابو نہ پاسکے، اگر ہم چاہیں تو اپنے دل کو دوسروں کی نفرت کی آگ سے محفوظ رکھ کر دنیا کو محبت کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔ اسلام بھی انسان کو محبت پھیلانے کا حکم دیتا ہے۔
ایک مسلمان محبت کا پیکر ہوتا ہے، وہ لوگوں میں نفرت کے کانٹے نہیں، بلکہ پیار و الفت کے پھول بانٹتا ہے۔ محبت فاتح عالم ہے، محبت دلوں کو اسیر کرتی ہے، محبت زندہ قوموں کا شعار ہے، محبت ایک فطری جذبہ ہے۔
اسلام فطرت کا ترجمان ہے، اس لحاظ سے محبت کا اسلام سے گہرا تعلق ہے۔ جس طرح اسلام دوسر ے اعمال کا حکم دیتا ہے، اسی طرح اسلام فطرت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں محبت کا حکم بھی دیتا ہے۔ مخلوق سے محبت کرنا بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہی ہے، مخلوق کو خدا تعالیٰ کا کنبہ کہا گیا ہے اور مخلوق سے محبت کرنے کا حکم خود اللہ تعالیٰ ہی تو فرماتے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ سیاسی نفرتوں کو ختم کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex