کالم

انصاف سے استحکام

اورنگزیب اعوان

پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے. یہاں سیاسی جماعتیں موسمی تبدیلیوں کی طرح معرض وجود میں آتی ہیں. جن کا کچھ پتہ نہیں ہوتا. کہ کس وقت تحلیل ہو جائے گی . اور ان سیاسی جماعتوں میں شامل افراد اپنے ذاتی مفادات کی خاطر نئی پناہ گاہ تلاش کر لیں گے . یہی سلسلہ آجکل جاری و ساری ہے. پاکستانی عوام کی معصومیت پر بھی جان قربان کرنے کو دل کرتا ہے. جو ان مفاد پرستوں کے مکرو فریب میں پھنسنے کو ہمہ وقت تیار رہتی ہے. سیاسی جماعت تبدیل کرنے سے کیا ملک کے حالات تبدیل ہو جاتے ہیں. یا ان کا کردار بدل جاتا ہے. ہرگز نہیں. یہ سب حربے عوام کو دھوکہ دہی کے لیے ہیں. ملکی اسٹیبلشمنٹ نے بھی سیاسی جوڑ توڑ میں اپنا کردار ادا کیا ہے. ایسی ایسی نام نہاد سیاسی جماعتیں تشکیل دی گئں. جن کا عوام میں وجود تک نہیں تھا. مگر اس روش کو آج تک تبدیل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی. کبھی مذہب کے نام پر، کبھی روٹی کپڑا اور مکان، کبھی ایشین ٹائیگر، کبھی دو نہیں ایک پاکستان اب استحکام پاکستان کے نام پر سیاسی جماعت تشکیل دی گئ ہے. جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے کچرے کو اکٹھا کیا گیا ہے. یہ سب وہی لوگ ہیں. جہنوں نے ماضی میں اس ملک کا بیڑا غرق کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے. اب پھر سے انہیں لوگوں کو ہمارے سروں پر مسلط کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے. پاکستان میں کسی چیز کی کمی نہیں. کمی ہے تو سنجیدگی کی.
پاکستان تحریک انصاف میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے لوگوں کو توڑ کر شامل کروایا گیا. سانحہ 9 مئ کے واقعات نے تو ان مفاد پرست لوگوں کے چہرے عوام کے سامنے بے نقاب کر دئیے ہیں. یہ مکروہ چہرے ہر دور میں ملکی وسائل لوٹتے رہے ہیں. اب تحریک انصاف سے انہیں لوگوں کو اکٹھا کرکے استحکام پاکستان جماعت کے نام پر منڈی لگائی جا رہی ہے۔ ایک نام نہاد لیڈر پریس کانفرنس کے دوران کہتا تھا. اگر مجھے عمران خان سے الگ کرنا چاہتے ہو. تو میرے ماتھے میں گولی مار دو. اگلے دن وہی پہلی صف میں کھڑے ہوکر استحکام پاکستان جماعت میں شمیولیت اختیار کرنے کا اعلان کر رہا تھا. اسی طرح ایک اور موصوف گجر ہونے پر اترا رہے تھے. پھر وہی عمران خان کو یہودی لابی کا ایجنٹ قرار دے کر جواز پیدا کر رہے تھے. استحکام پاکستان جماعت میں جانے کا. پاکستان تحریک انصاف میں سے جانے والوں کی پریس کانفرنس دیکھے تو سبھی میں ایک ہی چیز مشترک تھی. کہ میں سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر رہا ہوں. مگر دو دن میں ہی سیاست میں ان کی واپسی بھی ہوگئ. بندہ ایک دو ماہ انتظار ہی کر لیتا ہے. مگر ان کے نزدیک عزت نفس نام کی کوئی چیز نہیں. یہ تو مفاد پرستی کا شکار لوگ ہیں. جو ہر جگہ ذاتی مفاد کی خاطر پہنچ جاتے ہیں. استحکام پاکستان جماعت کے سرپرست اعلیٰ وہی لوگ ہیں. جن پر کرپشن کے الزامات لگا کر انہیں نہ صرف پاکستان تحریک انصاف بلکہ ملکی سیاست سے نکال باہر کیا گیا تھا. آج ان کے ہاتھوں پر بیعت کرکے عوام کو باور کروایا جا رہا ہے. کہ ان سے بڑھ کر کوئی شخص دیانت دار نہیں. استحکام پاکستان جماعت ایک دلفریب نعرہ ہے. جو عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے لگایا جا رہا ہے. خود عدم اعتماد و استحکام کا شکار لوگ ملک و قوم کو استحکام کیا دے پائیں گے؟ملکی سیاست میں انصاف سے استحکام کا سفر بڑا ہی دلچسپ ہے. جس کو دیکھ اور سن کر ہنسی نہیں رکتی. ملک میں نہ ہی انصاف ہے. ناہی کوئی استحکام پیدا ہوتا نظر آرہا ہے.
تجھے ہنستے ہوئے دیکھا تو یقین آیا کہ
مکافات عمل محض تسلی کے سوا کچھ نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex