کالم

انسان کی تلاش میں نکلا ہوں

منشا قاضی

میں ہر روز رزق کی تلاش میں نہیں انسان کی تلاش میں گھر سے نکلتا ہوں اور لوگوں کی بھیڑ میں سے کوئی ایک انسان تلاش کر لیتا ہوں ۔انسان کو سوسائٹی ، ماں کی گود اور مادر علمی کی آغوش انسان بنا دیتی ہے ۔ انسان کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی انسانیت ہے ۔ دکھی انسانیت کا درد محسوس کرنے والا آدمی عظیم انسان ہے ۔ غالب نے کہا تھا کہ
آدمی کو بھی میسر نہیں انساںہونا
آج میں نے دو انسانوں کو تلاش کیا ہے۔ ایک عظیم انسان ورلڈ کامن ویلتھ بزنس کے صدر اوورسیز پاکستانی چیمبر کے صدر این پی آر کے سربراہ پروفیسر رانا نسیم اختر جو سپین کی سر زمین پر پاکستان کی نیک نامی کے چلتے پھرتے سفیر ہیں اور دوسری ہستی جنہیں میں نے عظیم المرتبت انسان کے اوصاف حمیدہ کا مجموعہ دیکھا وہ ڈاکٹر آفتاب احمد جنجوعہ کی ذات گرامی ہے ۔ اس شخصیت کا بچپن جن مضافات کی آب و ہوا میں گزرا اور جس مادر علمی نے ان کو انسان بنایا وہ راقم کی مشترکہ میراث ہے ۔ ڈاکٹر آفتاب احمد جنجوعہ کا ہم نے ایک دن کا کام دیکھ لیا ہے ۔ جو انہیں سو سال تک یاد رکھے گا ۔ شیر محمد آڈیٹوریم کا یہ کارنامہ تاابد زندہ رکھے گا ۔ میں اس پر مسرت موقع پر سکول کے سربراہ محمد افضل کدھر کی دوررس نگاہ کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور پانڈووال ویلفیئرسوسائٹی کے روح رواں ظفر اقبال رانجھا کو بھی مبارک باد پیش کرتا ہوں جنہوں نے ڈاکٹر صاحب کے خیال کو پیکر محسوس میں ڈھال دیا ۔ لاھور سے ہمارے دوست سابق سینئر نائب صدر حبیب بنک چوھدری اللہ بخش جن کا دل اپنی مادر علمی کے در و دیوار میں دھڑکتا ہے انہوں نے ڈاکٹر آفتاب احمد جنجوعہ کے اس عمل کو منڈی بہاؤالدین کی تاریخ میں گراں قدر قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ڈاکٹر آفتاب احمد جنجوعہ کا یہ عمل ہم سب کے لیئے قابل تقلید ہے ۔ علاقائی اخبارات اور برقی ذرائع ابلاغ پر اس نوید نے مادر علمی کے فارغ التحصیل بوڑھے طلبا کو جوان کر دیا ہے ۔ اور ہم سب کی یہ خواھش پوری ہو گی جب ہم اپنی اس مادر علمی کے ارتقائی سفر کو تیز تر دیکھیں گے اور گورنمٹ ڈگری کالج میں بدلنے میں ہمارے وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی جو خود بھی صحافی ہیں اور وزیر اعظم بھی صحافی رہے ہیں اس وقت صحافیوں کی حکومت ہے اس لیئے یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں رہا ۔ چوھدری اللہ بخش کی کاوش ہے وہ سکول کو کالج اور کالج کو یونیورسٹی دیکھنا چاہتے ہیں ۔ پانڈووال ویلفیئرسوسائٹی کے عہدیداران کی فرض شناسی دلچشپیوں اور فلاح و بہبود کا لا محدود پروگرام دنیا کو حیرت میں ڈال دے گا ۔ میری سمندر پار پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ وہ اپنے صدقات ۔ عطیات اور زکوۃپانڈوول ویلفئر سوسائٹی کو دیں اور اس کی سرپرستی کریں ۔ ڈاکٹر آفتاب احمد جنجوعہ گورنمنٹ اسلامیہ ھائی سکول کی سرپرستی فرمائیں گے ۔انہوں نے اپنے والد گرامی کی روح کو خوش کر دیا ہے ۔ ایسے سعادت مند فرزند دلبند پر مادر علمی کو ناز ہے ۔ بزرگوں کی صحبت کے فیض یافتہ ڈاکٹر آفتاب احمد جنجوعہ کا وجود کسی بھی معاشرے میں ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتا ہے ۔محمد آصف نین رانجھا ، ظفر رانجھا صاحب یقیناً محمد آصف کا خیال رکھ رہے ہوں گے ۔ ڈاکٹر آفتاب احمد جنجوعہ اعلیٰ تعلیم یافتہ سے کئی گنا زیادہ اعلیٰ تربیت یافتہ ہیں ۔ اور میں ان کے انکسار میں افتخار تلاش کر رہا ہوں :
وہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
پاکستان کے دوسرے فرزند محسن و مربی پروفیسر رانا نسیم اختر کے دفتر حیات کے اوراق پارینہ اور نرینہ بھی آپ کی نذر کروں گا جن کا جناب رضا چوھدری نے تصور کی روشنی میں تعارف کروایا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ میں نے تاریخ میں جتنے عظیم انسانوں کے بارے میں پڑھا ہے وہ مصائب و آلام کی گود میں پلتے ہیں بیابانوں میں آبلے لے کر چلتے ہیں اور صحراؤں میں اہنے ہاتھ سے باغبانی کی بنیاد رکھ دیتے ہیں ۔ ڈاکٹر آفتاب احمد جنجوعہ کی زندگی میں ایسے ہی ادبار و انحطاط آئے،بڑے لوگ اپنا تلخ ماضی یاد رکھتے ہیں اور ڈاکٹر آفتاب احمد جنجوعہ نے اپنے تلخ واقعات سکول کے طلبا سے اشتراک کیئے ہیں اور میںپروفیسر رانا نسیم اختر سے مل کر ان کی زندگی کے بارے میں طلبا و طالبات کی نذر کروں گا ۔ اس وقت تک کے لیئے اجازت چاھتا ہوں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *