کالم

انسانی اسمگلراورکشتی کا حادثہ

اورنگزیب اعوان

بھوک دنیا کی سب سے بڑی بیماری ہے. جو شخص اس مرض میں مبتلا ہوتا ہے. اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت جواب دے جاتی ہے. پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے. جس کی پچاس فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے. مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں. جس کی وجہ سے نوجوان نسل اپنی آنکھوں میں روشن مستقبل کے خواب سجائے. بیرون ملک جانے پر مجبور ہیں. غربت سے تنگ لوگ بیرون ملک جانے کے لیے غیر قانونی طریقہ کار استعمال کرتے ہیں. وہ کم از کم خرچ پر یورپ و دیگر ترقی یافتہ ممالک میں مقیم پذیر ہونے کی غرض سے انسانی اسمگلروں کے نرغے میں آ جاتے ہیں. جو انہیں روشن مستقبل کے سہانے خواب دیکھا کر ان کی جمع پونجی لوٹ لیتے ہیں. کچھ لوگ خوش قسمتی سے اپنی منزل مقصود پر پہنچ بھی جاتے ہیں. انہیں دیکھ کر دیگر افراد بھی اپنی قسمت آزمائی کی جستجو کرتے ہیں. انسانی اسمگلر کا کاروبار ہی انہیں لوگوں کی لالچ پر چلتا ہے. جب تک غربت و مفلسی سے تنگ لوگ بغیر محنت کے راتوں رات امیر بننے کے طلب گار رہے گے. ان کا دھندہ اپنے عروج پر چلتا رہے گا. گزشتہ روز ایک دلخراش واقعہ رونما ہوا. جس نے پاکستانی قوم کو افسردہ کر کے رکھ دیا. پاکستانی نوجوانوں کی کثیر تعداد غیر قانونی طور پر سمندری راستہ سے یونان داخل ہونے کی کوشش میں سمندر میں ڈوب کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھی. عالمی میڈیا کے مطابق چار سو سے زائد نوجوان ڈوب کر جاں بحق ہو چکے ہیں. ان میں سے اکثر کی شناخت نہیں ہو پا رہی. جن کے ڈین این اے ٹیسٹ کی جا رہے ہیں. یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں. اس سے قبل بھی اسی طرح کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں. جن میں ہزاروں نوجوان لقمہ اجل بن چکے ہیں. مگر غربت کے ہاتھوں مرنے سے بہتر وہ کسی اور طریقہ کار سے خود کشی کرنے کو بہتر تصور کرتے ہیں. بسا اوقات خوش قسمتی ساتھ دے جاتی ہے. اور لوگوں کی زندگی بدل جاتی ہے. انسانی اسمگلر گجرات، گوجرانوالہ اور آزاد کشمیر میں زیادہ ہیں. انہیں علاقوں کے لوگ بیرون ملک جانے کو تیار بیٹھے ہیں. ان کے عزیز و اقارب بیرون ملک مقیم ہیں. وہ جس طریقہ کار کے تحت خود باہر گئے تھے. اسی طریقہ کار پر چلتے
ہوئے. اپنے رشتے داروں کو بھی وہ اپنے پاس بلانے کی جستجو میں مگن ہیں. اللہ تعالیٰ نے انہیں رزق سے نوازا ہے. اب انہیں یہ غیر قانونی راستہ ہرگز اختیار نہیں کرنا چاہیے اگر آپ اپنے بھائی، بیٹے کو اپنے پاس بلانا ہی مقصود سمجھتے ہیں . تو پھر قانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے. ویزہ کا عمل مکمل کروا کر بلائیں. انسانی اسمگلنگ بہت بری بات ہے. اس سے بھی بری بات سب کچھ جانتے ہوئے خود موت کے منہ میں گود جانا ہے. اس سے بہتر ہے. کہ اپنے ملک میں رہ کر محنت مزدوری کرکے دو وقت کی عزت کی روٹی کھا لی جائے۔ کاش ہمارے حکمران خواب غفلت سے بیدار ہو جائیں اور نوجوان نسل کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیں. اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کریں۔بیرون ممالک سے معاہدہ جات طے کرکے ہنر مند افراد کو بیرون ممالک بھیجا جاسکے. اسی طرح سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو آمادہ کیا جائے. کہ وہ ہمارے ملک میں اپنے یونٹ لگائے. جن میں ہمارے نوجوانوں کو ملازمت ملے. اور ان کی ماہانہ تنخواہ معقول ہو. تو بیرون ملک جانے کی کسی کو ضرورت نہیں ہو گی. سانحہ یونان کی وجہ سے ہر آنکھ اشکبار ہے. مگر ساتھ ہی یہ سوال کر رہی ہے. کہ کب تک ہمارا روشن مستقبل اس طرح ذلیل و رسوا ہوتا رہے گا. ہمارے گھر اسی طرح سے کب تک اجڑتے رہیںگے. وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے اس دل سوز واقع پر انتہائی غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہچانے کا اعلان کیا. جس پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا. اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا. اس مکروہ دھندہ میں سرکاری اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں. جو سادہ لوح لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں. یہاں ایک اور بات غور طلب ہےکہ ہمارے سکیورٹی ادارے کتنے کمزور ہیں کہ ان کی ناک تلے سے انسانی اسمگلر نوجوانوں کو ملکی بارڈر غیر قانونی طریقہ سے پار کروا لیتے ہیں. اگر یہ لوگ چند ٹکوں پر اپناضمیر فروخت کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں. تو سوچیں ملک دشمن عناصر کس حد تک جا کر ان کو رشوت دیتے ہوں گے. ان جیسے چند ضمیر فروش لوگوں کی وجہ سے ہماری سرحدیں غیر محفوظ ہیں . اور ملک دشمن عناصر بلاخوف خطرہ ہماری سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہمارے ملک میں دہشت گردانہ کاروائیاں کرتے ہیں. حکومت وقت کو باتوں کی بجائے عملی اقدامات کرنا ہو ںگے. جن کی وجہ سے ہماری سرحدی حدود محفوظ ہو سکے۔عالمی دنیا کو بھی اپنی ویزہ پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہوگی. انہیں غریب ممالک کے شہریوں کے لیے اپنی ویزہ سروس کو آسان بنانا ہو گا. نوجوان نسل ہنر سیکھے. اپنی خداداد صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے دنیا کو باور کروائے. کہ ہمارا ملک کسی سے کم نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex