کالم

انسانیت ؐکا عظیم ترین محسنؐ پیغام تھاجسؐ کا، امن و عافیت(1)

سید المرسلین، امام النبینؐ کی ذات بابرکات و اعلیٰ صفات، امن و عافیت اور شفقت و محبت کا مجمع، خلوص و الفت، حلم و سکنیت کا مرقع ہے۔ آپؐ کی گفتار، آپؐ کا کردار، نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو، رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک باز کا شاہکار اور ہر دم در گزری اور معافی کا اعلیٰ معیار ہے۔ آپؐ کی زیست پاک کا مقصد وحید آدمیت سے پیار اور انسانیت پر احسان ہے۔ آپؐ کی شریعت و طریقت محض صلاح و فلاح اور عظمت و اشرفیت آدم کی بقا ہے۔ آپؐ فتنہ و فساد کی بیخ کنی اور امن و سلامتی کی ترقی کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔ آپؐ کی رسالت مکارم اخلاق کے اتمام اور رحیم و رحمان پرورد گار کی نعمت عظمی کے اتمام کے لئے ہے…… غرضیکہ آپؐ، مخلوق خدا کے لئے عافیت و حفاظت کا مرکب اور سراپا کرم و رحمت ہیں۔ بقول رب العلمین ترجمہ: ذات محمد عالیؐ کو رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا گیا ہے“۔رحمت کا معنی ہوتا ہے شفقت، مہربانی، ہمدردی، غمگساری، خبر گیری، عفو اور درگزری وغیرہ جب کہ عالمین جمع ہے، عالم کی، عالم علمیت سے ہے یعنی ہر وہ چیز جس میں اپنے وجود کی نمود کی صلاحیت ہو، جو اپنے کو نمایاں کرنے کی طاقت رکھے جس میں اظہار خود کی قوت ہو وہ لفظ عالم سے موسوم ہو گی۔…… گویا نبی کریم رؤف و رحیمؐ کی رحمت آدمی و انسان کی نوع کے علاوہ جنات، حیوانات، حشرات، نباتا، جمادات……ارض و سموات کی تمام موجودات و مخلوقات حتی کہ عالم صوری و معنوی، عالم وجد و شوق و شباب وغیرہ سبھی کو محیط ہے۔جب آپؐ کا سب سے پیار ہے، آپؐ ہر ایک کے ہمدرد اور غمگسار ہیں۔ اپنے فیوض سے مادیات و ذہنیات خیالات و کیفیات، تصورات و تدبرات تک کو روشنی بتاتے ہیں۔ اپنے کرم و رحم سے غیروں کو اپناتے ہیں تو کوئی آپؐ سے بڑھ کر طالب عافیت کیا ہو گا؟ اور کون آپؐ سے زیادہ متمنی امن، آپؐ کے سوا ہو گا؟۔ آج کل اس سوہنےؐ کا نام لے کر، ایسی حرکات کی جاتی ہیں کہ جن سے، اسؐ کے ماننے والوں کو تکلیف اور نقصان پہنچتا ہے، مسلمان کی حرمت تو کعبہ سے زیادہ ہے، اس رحمتِ جہاناں ؐ نے تو کافروں تک کو بھی راحت و عافیت کا سامان فراہم کیا تھا۔ طبرانی میں جبیربن مطعمؓ سے روایت ہے، ”ابو جہل نے قریش کو مخاطب کرکے کہا“ محمدؐ یثرب چلا گیا ہے اور اپنے جاسوسوں کو تمہاری جستجو میں بھیج رہا ہے۔ دیکھو ہوشیار رہنا! وہ بھوکے شیر کی طرح تمہاری تاک میں ہے، وہ خار کھائے ہوئے ہے کیوں کہ تم نے اسے نکال دیا ہے، واللہ! اس کے جادو بے مثال ہیں۔ میں اس کے اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ شیطان دیکھتا ہوں ہمارے دشمن محمدؐ نے ہمارے دشمنوں اوس اور خزرج سے پناہ اور مدد لی ہے۔ وہ تمہارے اوپر قابو پاکر کچھ پاس اور لحاظ نہ کریں گے“۔جب یہ باتیں رسول رحمتؐ تک پہنچیں تو آپؐ نے فرمایا۔”قسم اللہ کی! کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میں انہیں پکڑ کر احسان کرکے چھوڑ دوں گا۔میں تو رحمت ہوں، میرا بھیجنے والا رحمن و رحیم اللہ ہے۔ وہ مجھے دین کے غلبہ سے قبل نہ اٹھائے گا۔“صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ سے کہا گیا، آپؐ (ایذا رسانی پر) مشرکوں کیلئے بددعا کیوں نہیں فرماتے تو
آپؐ نے ارشاد فرمایا”میں لعنت کرنے والا نہیں بھیجا گیا، میں تو فقط رحمت ہی (بنا کر) بھیجا گیا ہوں“۔ ایک دوسری روایت میں ہے، ”میں تو صرف رحمت اور ہدایت بنا کر بھیجا گیا ہوں“۔وادی طائف میں آپ پر ایذا رسانی کی انتہاء کر دی گئی۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ فرمایا کرتے تھے۔ طائف سے بڑھ کر مجھے کبھی تکلیف نہیں پہنچی مگر آپؐ کی درگزری اور عفو کا یہ عالم ہے کہ آپؐ نے جبریل کے کہنے کے باوجود، ان (طائف والوں) کے لئے سزا کے لئے کچھ نہ کہا، فرمایا تو صرف یہ کہ”اللھم اھد قومی فانھم لا یعلون“(اے اللہ! میری اس قوم کو ہدایت دے یہ لوگ اپنی بہتری سے ناواقف ہیں)ابو داؤد میں حضرت سلمانؓ سے روایت ہے کہ رسول رحمتؐ نے خطبہ میں فرمایا۔ جس شخص کو میں نے اپنی امت میں سے برا کہا یا لعنت کی اپنے غصے کی حالت میں، تو سمجھ لو میں بھی تم جیسا ایک انسان ہوں۔ تمہاری طرح مجھے بھی غصہ آ جاتا ہے۔ ہاں البتہ میں چونکہ رحمت ہوں تو میری دعا ہے کہ خدا میرے ان الفاظ کو بھی ان کے لئے موجب رحمت بنا دے“۔حضورؐ کی نرمی، رحم دلی، درگزری، رقت، مہربانی اور سراپا رحمت العالمینی کے کیا کہنے کہ جس کو جائز طور پر بھی برا کہا، یا لعنت کی تو دعا کرکے یہ لعنت بھی اس کے حق میں رحمت میں تبدیل کرا دی۔ترمذی اور ابن حبان میں ہے کہ کم سنی میں جب آپؐ خواجہ ابو طالب کے ساتھ تجارتی دورے پر شام گئے تو ایک عیسائی راہب نے آپؐ کے چہرہ اقدس کو دیکھتے ہی کہا تھا۔”یہ سردار جہاں ہے۔ یہ رسول رب ارض و سما ہے اور یہ سراپا رحمت ہے یعنی آپؐ کی برکتوں اور رحمت بھری ذات دنیا کے لئے وجہ امن و عافیت ہے۔“ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔”اور اللہ ان کو کبھی عذاب نہیں دیں گے جبکہ آپ ان کے درمیان ہوں“(پ 9، رکوع 18)کہ آپؐ کے ہوتے ہوئے عذاب نہ آئے گا۔ جب آپؐ رفیق اعلیٰ سے جا ملے تو آپؐ کی رسالت و نبوت، آپؐ کی نبوت اور تعلیمات ہی دراصل وجہ رحمت و سکنیت ہیں۔ آپؐ کی سیرت کی اتباع ہی امن و عافیت مہیا کرتی ہے کہ آپؐ کی تمام زندگی امن و عافیت کے فروغ کے لئے تھی۔ آپؐ نے ہر ہر قدم پر امن و سکنیت کے لئے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا جوکہ آپؐ کی فطرت و طنیت میں تھا۔ آپؐ اخلاق کے بہت بلند درجے پر فائز تھے۔ اللہ تعالیٰ گواہی دے رہے ہیں کہ ”انک لعلٰی خلق عظیم“ قلم 4، جوامع السیرۃ لابن حزم میں ہے آپؐ اخلاق کے اعتبار سے خوش خلق، خندہ جبیں اور مہربان طبع تھے۔ سخت مزاج اور تنگ دل نہ تھے۔ آپؐ سب سے زیادہ حلیم و بردبار نہایت شجاع اور بہادر، عدل و انصاف کے پیکر، انتہائی پارسا اور پاکدامن تھے۔ جود و سخا آپؐ کی فطرت تھی۔ آپؐ کے کبار صحابہ میں سے ایک ایسا صحابی یہود کے ہاتھوں شہید ہو گیا جس کا مثل مفقود تھا اور ایسا بہادر تھا جس سے بڑے بڑے لشکر خوف زدہ ہو جاتے۔ وہ آپؐ کے دشمنوں (یہود) کے درمیان مقتول پایا گیا۔ آپؐ نے انتقاماًکسی پر ظلم و زیادتی نہیں کی بلکہ اپنی طرف سے سخت ضرورت مند ہونے کے باوجود سو اونٹ فدیہ میں دے دیئے۔آپؐ کو زہر بھی دیا گیا۔ آپؐ پر جادو بھی کیا گیا لیکن آپؐ نے کوئی بدلہ نہیں لیا بلکہ آپؐ تو اپنے اوپر گندگی ڈالنے والی بڑھیا کی بیماری میں خبر گیری کرنے بھی چلے گئے تھے کہ پتہ کروں کہ آج اس نے جسم اطہر پر غلاظت کیوں نہیں پھینکی؟۔رسول اللہؐ نے فتنہ و فساد کی جڑ انانیت کی سختی سے تردید کی۔ غصہ کو شیطان کی طرف سے قرار دیا کہ یہ عقل کا دشمن ہے اور فرمایا جب غصہ آئے تو اس کے فرد کرنے کے لئے بیٹھ جایا کرو، بیٹھے ہو تو لیٹ جاؤ، لیٹے ہو تو اٹھ کر چلے جاؤ۔ ایک جگہ فرمایا کہ ”بہادر قوت والا نہیں بلکہ وہ ہے جو غصے پر قابو پا جائے“۔قرآن کریم جو آپؐ کی سیرت کا شاہد ہے۔(جاری ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex