کالم

امید کی کرن

بیرسٹر حمید باشانی

گزشتہ دنوں خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد آزادکشمیر کی سڑکوں پر نکلی۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس کی آزادکشمیر کی تاریخ میں کوئی مثال موجود نہیں ۔ آزاد کشمیر کی ستتر سالہ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ عورتوں کی اتنی بڑی تعداد احتجاج کے لیے سڑکوں پر آئی ہو۔ عورتوں ہی کی قیادت میں عورتوں پر مشتمل یہ مظاہرے اس احتجاج کے سلسلے کی ایک کڑی تھے جو کافی عرصے سے آزاد کشمیر میں ہو رہا ہے۔ یہ عام آدمی کا احتجاج ہے‘ جو عام آدمی کی زندگی کی بہت ہی بنیادی ضروریات کی نا قابلِ برداشت قیمتوں کے خلاف ہو رہا ہے۔ یہ عوامی احتجاج جو کئی مہینوں سے جاری ہے‘ اس کا ایک پورا چارٹر آف ڈیمانڈ ہے‘ جو کئی مطالبات پر مشتمل ہے۔ اس میں سب سے پہلا اور بنیادی ایشو بجلی ہے۔ ہمارے عہد میں بجلی انسان کی بنیادی ضروریات اور بنیادی سہولیات میں شمار ہوتی ہے۔ برقی توانائی گھروں میں روشنی سے لے کر روز مرہ کے کام کاج کے لیے استعمال ہونے والی چھوٹی موٹی مشینوں کو چلانے کے کام آتی ہے جو گھریلو کام کاج کے لیے استعمال کی جاتیں ہیں۔ ان میں گھر میں صفائی ‘ کپڑے دھونے اورخشک کرنے سے لے کر استری‘ کمپیوٹرز اور ٹی وی تک بے شمار چھوٹی بڑی مشینیں شامل ہیں۔ موبائل فون اور کئی قسم کی بیٹریوں کی ری چارجنگ جیسے دوسرے ناگزیر کاموں سے لے کر جوان نسل کے لیے آن لائن فری لانسنگ کے ذریعے روزگار جیسی اہم ضروریات کے لیے بھی بجلی ناگزیر ہے اور بچوں سے لے کر بزرگوں تک ہر قسم کے لوگوں کے لیے اس کا استعمال تقریباً لازم ہو چکا ہے۔ اس صورت حال میں بجلی کی قیمت میں ایک روپے کا اضافہ بھی لگے بندھے اور محدود ذرائع آمدن والے عوام کے لیے وبالِ جان بن جاتا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے حالیہ چند برسوں کے دوران بجلی کی قیمتوں میں نا قابلِ برداشت اضافہ ہوا ہے۔ بجلی کی قیمت پہلے ہی عام آدمی کی بساط سے باہر تھی لیکن آئی ایم ایف سے ڈیل کے بعد بجلی سمیت تمام بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے اس نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے بلوں پر جس تعداد میں ٹیکس لگائے گئے ہیں اور جس مقدار میں ان میں اضافہ کیا گیا ہے‘ اس نے عوام کے بوجھ میں نا قابلِ برادشت اضافہ کیا ہے۔ آزاد کشمیر میں بجلی کا قصہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ گمبھیرہے۔ ایک محتاظ اندازے کے مطابق آزاد کشمیر میں مختلف ڈیموں میں پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت تقریبا ًدو روپے پچاس پیسے فی یونٹ کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ جب یہی بجلی نیشنل گرڈ اور تقسیم کے پیچیدہ عمل سے گزرتی ہے اور طرح طرح کے ٹیکس لگنے پر جب یہ واپس آزاد کشمیر کے صارفین تک پہنچتی ہے تو اس کی قیمت پینتیس روپے فی یونٹ سے اوپر چلی جاتی ہے۔ یہ اعداد و شمار محتاط اندازے اور اس شعبے کے ماہرین کی رائے کے مطابق ہیں‘ اس لیے ان میں اور اصل اعداد و شمار میں تھوڑا بہت فرق ہو سکتا ہے‘ لہٰذا اس فرق کے پیش نظر ان اعداد وشمار کو محض مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور ان کی درستی پر قطعا ًاصرار نہیں ہے۔ لیکن کوئی بھی اعداد وشمار لے لیں اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بجلی کی تقسیم کے اخراجات اورانواح و اقسام کے ٹیکس لگانے کے بعد بجلی کی جو قیمت لگائی جاتی ہے وہ لاگت سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے‘ جو آزاد کشمیر کے عوام کے لیے نا قابلِ برداشت بوجھ بن جاتی ہے اور سوشل میڈیا کے طفیل یہ ناقابل ِتردید حقیقت عوام تک پہنچ چکی ہے۔ اس حقیقت نے عوام کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے اوروہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے وہ اس صورتحال کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ اس احتجاج کے لیے انہوں نیآزاد کشمیر کے تقریبا ًہر بڑے شہر میں دھرنا دیا ہے‘ جہاں لوگ دن رات احتجاج کی تصویر بنے بیٹھے رہتے ہیں۔ اپنے مطالبات کی حمایت میں انہوں نے مختلف شہروں میں جلسے جلوس کیے‘ جنہوں نے حاضری کے اعتبار سے آزاد کشمیر کی تاریخ کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ ان جلسوں اور جلوسوں کو لے کر سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ جلسے اور جلوس عام روایات سے ہٹ کر بہت ہی پر امن ہوئے ہیں۔ کہیں کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہوئی۔ کہیں سرکاری املاک کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ جلوس میں موجود ہزاروں لوگوں نے خصوصا ًنوجوانوں نے مثالی صبر و تحمل سے کام لیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے اشتعال انگیز کارروائیوں کے باوجود ضبط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور اپنے غم و غصے کا اظہار تشدد اور توڑ پھوڑ کے بجائے تقاریر اور نعروں کے ذریعے کیا۔ ان تقاریر اور نعروں میں بھی بنیادی سیاسی اخلاقیات کی پاسداری کرتے ہوئے متنازع اور قابلِ اعتراض باتوں سے اجتناب کیا گیا۔ ان مظا ہروں اور دھرنوں سے کئی لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور ان کے ساتھ پولیس کی تحویل میں بد سلوکی کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں لیکن اس کے باوجود صبر و ضبط کا دامن نہیں چھوڑا گیا‘ جو انتہائی قابلِ ستائش عمل ہے اوراس پر مظاہرین اور ان کے قائدین مبارکباد کے مستحق ہیں۔ عوام بھی اب ان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ حالات خواہ کوئی بھی رُخ اختیار کریں‘مظا ہرین کو کتنا بھی اشتعال دلایا جائے‘ قیدیوں سے بد سلوکی کی جتنی بھی خوفناک کہانیاں منظر عام پر آئیں‘ مظاہرین کسی صورت تشدد اور توڑ پھوڑ کا راستہ اختیار نہیں کریں گے۔ یہی وہ عزم ہے جس کا اظہار مظاہرین کی قیادت نے بھی کیا ہے۔ پر امن رہ کر تشدد سے مکمل اجتناب کرتے ہوئے اپنے جائز حقوق کی مانگ کرنے کے عمل سے اس تحریک کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے جس کا اظہار آزاد کشمیر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں عورتوں کے جلوسوں اور مظاہروں سے بھی ہوا ہے۔
ریاست جموںو کشمیر کی سماجی و سیاسی زندگی میں خواتین کا کردار بہت پرانا ہے۔ سری نگر جیسے بڑے شہروں میں خواتین نے بڑے بڑے مظاہروں میں حصہ لیا ہے۔ ہر قسم کی سیاسی و سماجی جدوجہد میں بھی خواتین نے تاریخی کردار ادا کیا ہے‘ لیکن آزاد کشمیر میں اس سے پہلے اس طرح خواتین کا اتنی بڑی تعداد میں سڑکوں پر آنا ایک حیرت انگیز بات ہے۔ آزاد کشمیر بنیادی طور پر ایک قدامت پسند علاقہ ہے۔ اس قدامت پسندی کا اظہار ان بیانات اور اعلانات سے ہوتا ہے جن کے ذریعے خواتین کو اس طرح کی سرگرمیوں سے باز رہنے کی تلقین کی جاتی رہی ہے۔ اس میں ریاستی حکومت کے علاوہ ہر شہر کے مقامی حکام اور شہر میں موجود ان کے قدامت پسند اتحادی شامل ہوتے ہیں‘ جنہوں نے کہا ہے کہ یہ ہمارے علاقے کی روایات کے خلاف ہے کہ خواتین سڑکوں پر آکر احتجاج کریں۔ اس کا بہت معقول اور مدلل جواب خواتین رہنماؤں نے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ظلم‘ استحصال ‘ اور نا انصافی بھی ہماری روایات کا حصہ نہیں ہے۔ غربت اور بے روزگاری کی چکی میں پستے ہوئے لوگوں سے زندگی کی بنیادی ضروریات کی نا قابلِ برداشت قیمت مانگنا بھی ہماری روایات کا حصہ نہیں ہے۔ انہوں کا کہا کہ خواتین اس سماج کا نصف حصہ ہیں‘ وہ زندگی کی بنیادی ضروریات میں نا قابلِ برادشت اضافے کا براہ راست شکار ہیں‘ اس لیے وہ بجلی اور آٹے کی قیمتوں سے لاتعلق نہیں رہ سکتیں کیونکہ اس سے وہ خود‘ اُن کے بچے اور خاندان متاثر ہوتے ہیں۔ خواتین نے اس منظم اور پر امن احتجاج کے ذریعے خطے میں نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اس سے عوامی حقوق کی تحریکوں کے حوالے سے امید کی نئی کرن پیدا ہوئی ہے‘ جس کے بڑے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex