اداریہ

امن عامہ،معیشت اورنگران حکومت

یہ حقیقت ہے کہ ابتداءمیں نگران حکومت نے کچھ سخت اقدامات ضرورکیے جس سے عوام کوکافی مشکلات پیش آئیں لیکن اب ایسامحسوس ہورہاہے کہ ان اقدامات سے بہتری آرہی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے معاشی بحالی کے سفر پر گامزن ہونے کے باعث شرح نمو میں بھی بہتری آنے لگی ہے،ستمبر 2023 میں پاکستان کی برآمدات 1.15 فیصد اضافے سے 2.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جبکہ رواں مالی سال شرح نمو 3.5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے جو گزشتہ مالی سال 0.3 تھی۔ کپاس کی پیداوار میں 72 فیصد اضافہ ہواہے جبکہ گندم اور چاول کی پیداوار میں بھی اضافے کا امکان ہے، فصلوں کی پیداوار میں بہتری سے پاکستان پانچ ارب ڈالر تک زرمبادلہ بچا سکے گا۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران ڈالر کی قیمت میں 50 روپے سے زائد کمی آ چکی ہے جس کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی دنیا کی بہترین کارکردگی دکھانے والی کرنسی بن گئی ہے۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ، بین الاقوامی ترقیاتی بینک اور ورلڈ بینک سے مجموعی طور پر 1.4 ارب ڈالر کی رقم متوقع ہے اور اِس سے معیشت کے اشاریوں میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔جہاں تک دہشت گردی کامعاملہ ہے تونگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑکو پشاوردورہ کے موقع پر گورنر ہاؤس پشاور میں امن و امان کی صورت حال اورمالی مسائل پر بریفنگ دی گئی جس کے بعد انہوں نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ” امن و امان اور سیکورٹی کی صورت حال کی بہتر بنانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں، پولیس کو جدید آلات سے لیس کیا جائے تا کہ دہشت گردی کے عفریت سے بہتر انداز میں نبٹا جا سکے۔ صوبے کو درپیش مالی اور دیگر مسائل حل کرانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مالی معاملات میں بہتری اور نو ضم شدہ اضلاع کے مسائل کے حوالے سے حکمت عملی تیار کی جائے گی، ضم شدہ اضلاع کے مسائل کاحل دورہ چین کے بعد نکالیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نگران حکومت ایمانداری سے کام کر رہی ہے، جلد پٹرول کی نئی قیمتیں بھی آئیں گی، اللہ کا شکر ہے ریلیف کا سفر آہستہ آہستہ شروع ہو گیا ہے۔اس موقع پرنگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ حکومت کے بروقت اقدامات کی وجہ سے امریکی ڈالر کی قیمت میں کمی آئی ہے، سمگلنگ اور کرپشن کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا، بعض لوگ چوری اور سمگلنگ کو حق سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں ٹیکس کیوں دیں، اِس ملک کیلئے لوگوں نے اپنی جانیں دی ہیں لیکن کچھ لوگ ٹیکس دینے کو تیار نہیں، ملکی بہتری کے لیے ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈالنا ہوگا، سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام میں فوج کی جانب سے فراہم کی گئی مدد لائقِ تحسین ہے۔ انہوں نے اِن خیالات کا اظہار دورہ پشاور کے دوران مختلف مواقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بےشمار قربانیاں دیں، دہشت گرد درندوں کا مقابلہ کیا، کسی تنظیم یا جتھے کو ہتھیار اٹھانے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی .ٹی ٹی پی سے بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں، ہمارے بچوں کو مارنے والوں سے بات چیت نہیں ہوگی ریاست پاکستان اتنی تگڑی ہے کہ اِن سے لڑ سکے، کوئی خوش فہمی میں نہ رہے، ایک تو کیا سوسال تک اِن سے لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سمیت تمام ہمسایوں سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، افغان مہاجرین کو نہیں نکال رہے، کارروائی صرف غیرقانونی طور پر رہنے والوں کے خلاف ہے جن کی وجہ سے معاشرے میں مختلف مسائل پیدا ہو رہے ہیں، غیر قانونی غیر ملکیوں کو ہر صورت واپس جانا ہو گا، اِس بات کا خیال رکھا جا رہا ہے کہ قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو کوئی دشواری نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی رجسٹرڈ جماعت کو انتخابی عمل سے باہر نہیں رکھاجا سکتا، مختلف سیاسی جماعتوں کی جنوری میں الیکشن سے متعلق اپنی آرا ہیں،الیکشن کمیشن جو بھی تاریخ دے گا وہ اس کے مطابق معاونت کریں گے،نوازشریف کی واپسی کا نگران حکومت سے تعلق نہیں،وہ عدالتی فیصلے کے تحت ملک سے باہر گئے، ان کی واپسی پر قوانین پر عمل ہو گا۔‘‘
معاشی بہتری کے حوالے سے اورسمگلنگ کے سدباب کے لیے توحکومتی اقدامات لائق تحسین ہیں لیکن جہاں تک دہشت گردی کامعاملہ تواس جانب بھی بھرپورتوجہ دینے کی ضرورت ہے اورملک گیرآپریشنزکے ذریعے دہشت گردوں اوران کے سہولت کاروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جانی چاہیے۔
صیہونیت اورمُسلم اُمہ
اقوام متحدہ کے انتباہ کے باوجود اسرائیل نے غزہ کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے۔ خوراک، پانی، ادویات اور ایندھن تک رسائی بند کردی ہے۔دوسری جانب فلسطین پر اسرائیل کی انسانیت سوز بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ 2400 سے زیادہ فلسطینی شہیداور 4لاکھ 23 ہزار بے گھر ہوگئے ہیں۔ ڈھائی ہزار سے زیادہ مکان تباہ اور 30ہزار کو جزوی نقصان پہنچا۔ 2لاکھ 20ہزار فلسطینی اقوام متحدہ کے سکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔صیہونی فوج نے 11 لاکھ فلسطینیوں کو غزہ سے نکل جانے کا الٹی میٹم دے رکھا ہے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے مطابق اب تک 50ہزار سے زیادہ طبی عملہ کے ارکان صیہونی بربریت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ مغربی کنارے میں غزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے نکالی جانے والی ریلیوں پر براہ راست فائرنگ سے 11 فلسطینی شہید اور 130زخمی ہوگئے۔اب یہ کشیدگی مشرق وسطیٰ سے باہر تک پھیل گئی ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے خلاف شیعہ سنی ایک پیج پر آگئے ہیں۔ سعودی عرب نے فلسطینیوں کا جبری انخلا اور نہتے شہریوں پر حملے ناقابل قبول اور ایران نے اسرائیل کے خلاف نئے جنگی محاذ کھولنے کا عندیہ دیاہے۔ روسی صدر نے غزہ کے محاصرہ کو لینن گراڈ سے تشبیہ دے دی۔پاکستان سمیت ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور مظلوم فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے اور ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔ مسجد الحرام سمیت تمام مساجد میں خصوصی دعائیں مانگی جارہی ہیں۔پاکستان میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے زیر اہتمام ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیا جارہاہے ، لبنان، عراق ، اردن، ملائشیا ، انڈونیشیا، ترکیہ، کینیڈا، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں لاکھوں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ ضرورت اس بات کی ہے اب مسلم امہ ایک پیج پرآجائے اورصیہونی فوج کے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑی ہو۔
دہشت گردی کاعفریت
سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیااوراس دوران سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہواجس کے نتیجے میں 6 دہشت گرد مارے گئے جب کہ 8 دہشت گرد زخمی ہوئے، ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کرلیا گیا۔
بلوچستان اورکے پی کے میں دہشت گردمنظم ہونے کی کوشش کررہے ہیں سیکورٹی ادارے بھی اپنے فرض سے غافل نہیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آئے روزفورسزکی جانب سے خفیہ اطلاعات پرآپریشنزجاری رہتے ہیں اوردہشت گردوں کی سرکوبی کاعمل جاری ہےاورمتاثرہ علاقوں کے مکین بھی فورسزکی کارروائیوں کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں۔وہ وقت دورنہیں جب اس عفریت کاسرکچل دیاجائے گااوراس سے قوم کونجات ملے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے