پاکستانتازہ ترین

الیکشن کمیشن کی بدنیتی ثابت کرنا ہو گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی وکیل علی ظفر کے دلائل پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اکبر بابر بانی رکن تھے وہ پسند نہیں تو الگ بات لیکن ان کی رکنیت تو تھی، صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ درخواست گزار پارٹی رکن نہیں تھے ، الیکشن کمیشن کی بدنیتی ثابت کرنا ہو گی ۔

سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے انٹراپارٹی الیکشن اور بلے کے نشان سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران بیرسٹر علی ظفر کا کہناتھا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک کیا ہے ،الیکشن کمیشن بلے کا نشان چھین کر بظاہر بد نیتی کی ہے ،الیکشن کمیشن کورٹ آف لاء نہیں جو فیئر ٹرائل دے سکے ، پی ٹی آئی کے کسی ممبر نے انٹراپارٹی انتخابات کو چیلنج نہیں کیا ، اگر انتخابات چیلنج بھی ہوتے تو یہ سول کورٹ کا معاملہ بنتا ہے ، الیکشن کمیشن کے پاس ازخود نوٹس کا اختیار نہیں ہے ، الیکشن کمیشن عدالت نہیں ہے ،الیکشن کمیشن احکامات حقائق کے برعکس ، صوابدید ہوں تو عدالت کو جوڈیشل ریویو کا اختیار ہے ،سیاسی جماعت یا فرد کے سول رائٹس کا فیصلہ آرٹیکل 10 اے کے تحت فیئر ٹرائل سے ہو سکتا ہے ،الیکشن کمیشن کا فیصلہ آرٹیکل 10 اے سے متصادم ہے کیونکہ ایسا کوئی ٹرائل نہیں ہوا ،

پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے جو پرائیویٹ شہریوں کی تنظیم ہے ، الیکشن کمیشن کو از خود طور پر شکایت کنندہ اور فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے ،الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ اس وقت دیا جب سپریم کورٹ نے 8 فروری کی تاریخ کا فیصلہ دیا ، میری پانچ قانونی معروضات ہیں جن پر دلائل دوں گا، پی ٹی آئی نے 8 جون 2022 کو پہلا انتخاب کرایا ،23 اکتوبر کو الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ غلط الیکشن ہیں، دوبارہ 20 دن میں کرائے جائیں ، پارٹی نے ان سوالات کا تحریری جواب داخل کیا کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات کالعدم قرار دے دیئے ،سماعت کے اختتام پر الیکشن کمیشن نے ہمیں دو سوالات کے جوابات دینے کیلئے کہا ، ان 14 شکایتوں پر کارروائی میں ہم نے زبانی طور پر نشان دہی کی کہ یہ پارٹی ارکان نہیں ہیں ،ان مبینہ پی ٹی آئی ارکان کی شکایت پر الیکشن کمیشن نے کارروائی کی ، ہم نے فارم 65 داخل کیا اور پھر 14 ارکان جنہوں نے کہا ہم مبینہ رکن ہیں الیکشن کو چیلنج کر دیا ،ہم نے الیکشن کمیشن کے حکم پر عمل درآمد کے ساتھ اسے چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا مخدوم علی خان کا نتکا پارٹی کے اندر جمہوری کا تھا ، کل مخدوم علی نے تکینکی نوعیت کے اعتراضات کیئے تھے ، الیکشن کمیشن نے کہا تعیناتی درست نہیں اس لیے انتخابات تسلیم کریں گے نہ ہی نشان دیں گے ،الیکشن کمیشن نے انتخابات کو درست کہا چیف کمشنر کی تعیناتی غلط قرار دی ، الیکشن کمیشن نے فیصلےکی جووجوہات دی ہیں وہ عجیب ہیں ، جواب دملنے کے بعد الیکشن کمیشن نے پارٹی انتخابات کالعدم قرار دے کر انتخابی نشان وپس لے لیا ، الیکشن کمیشن میں پارٹی انتخابات کے خلاف 14 درخواستیں دائر ہوئیں ، ہمار ا بنیادی موقف تھا کہ درخواست گزارپارٹی ممبر نہیں ہیں ، الیکشن کمیشن نے اپنے 32 سوالات بھیجے جن کا تحریری جوابدیا، جواب ملنے کے بعد الیکشن کمیشن نے پارٹی انتخابات کالعدم قرار دے کر انتخابی نشان واپس لے لیا ،

الیکشن کمیشن کے حکم نامے مین تسلیم شدہ ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے تھے ، الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کسی بے ضابطگی کاذکر نہیں کیا ، الیکشن کمیشن نے جو وجوہات دیں وہ عجیب ہیں،۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت ملک کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی ہونی چاہیے ،بنیادی سوال جمہوریت کا ہے ، پارٹی آئین پر مکمل عملدرآمد کا نہیں، کم از کم اتنا تو نظر آئے کہ انتخابات ہوئے ہیں، انتخابات جو بھی ہوں ہر کوئی ان سے خوش نہیں ہوتا، اکبر بابر بانی رکن تھے وہ پسند نہیں تو الگ بات لیکن ان کی رکنیت تو تھی، صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ درخواست گزارت پارٹی رکن نہیں تھے ، اکبر بابر نے اگر استعفیٰ دیا یا دوسری پارٹی میں گئے تو وہ بھی دکھا دیں، الیکشن کمیشن کی بدنیتی ثابت کرنا ہو گی ،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex