کالم

اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے رویے

ڈاکٹر سید اے وحید

ڈاکٹر سید اے وحیدزمانہ طالب علمی میں پڑھا کرتے تھے کہ رویے متعدی ہوتے ہیں- چنانچہ بچے ہی بڑوں سے اثر نہیں لیتے بلکہ بڑے بھی ایک دوسرے سے اثر لیتے ہیں۔اثر انگیزی کا یہ عمل خاص طور پر تعلیمی میدان میں بہت اہمیت کا حامل ہے جہاں طلباء اور اساتذہ دورانِ درس و تدریس ایک دوسرے سے گہرا اثر لیتے ہیں۔کمرہ جماعت کے اندر اور باہر طلباء اور اساتذہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور تفاعل کے عمل سے گزرتے ہیں۔طلباء میں یہ صلاحیت بدرجۃ اتم پائی جاتی ہے کہ وہ اساتذہ اور دیگر ہم عمر ساتھیوں کے اعمال و کردار کا نا صرف بغور جائزہ لیتے ہیں بلکہ اس پر عمل پیرا بھی ہو تے ہیں۔اساتذہ اور طلباء کےیہ رویے سکول، کالج اور جامعہ ہر سطح پراہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔اگرچہ یہ تعلیمی رویے سکول کی سطح پر قدرے زیادہ اہم سمجھے جاتے ہیں لیکن اعلیٰ تعلیمی اداروںمیں ایک دوسرےسے مثبت رویوں کے حوالے سے توقعات زیادہ وابستہ ہوتی ہیں۔اعلیٰ تعلیمی ادارروں میں کئی طرح کے پلیٹ فارمز ہوتے ہیں جہاں اساتذہ اور طلباء باہمی روابط کو عمل میں لاتے ہیں۔مثال کے طور پر کمرہ جماعت ،ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں، تحریری اور زبانی امتحانات،تعلیمی کانفرنس، سیمینار، سمپوزئیم،ایم-فل اور پی ایچ-ڈی کے ڈیفنس اور زبانی امتحانات اور کئی دیگر تعلیمی مواقع ہیں جہاں انسانی رویوں کا عمل دخل ہوتا ہے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بعض ادارے چھوٹے شہروں میں ہیں اور کچھ بڑے شہروں میں وقوع پزیر ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ دونوں طرح کی جگہوں میں پائے جانے والے اداروں میں طلباء اور اساتذہ کے رویوں میں قدرے تفاوت پایا جاتا ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ بڑے شہروں میں بالعموم طلباء زیادہ ذمہ دار ہوتے ہیں اور ان کے رویے بھی اساتذہ کی طرح محتاط ہوتے ہیں ۔ طلباء زیادہ پُر اعتماد نظر آتے ہیں اور اساتذہ ان کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض اساتذہ تعلیمی تفاخر کا شکار ہوتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھتے ہیں اور تعلیمی مباحث کے دوران کسی کو خاطر میں نہیں لاتے اور بحث ومباحثہ کے دوران احترامِ انسانیت کی اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئےطلباء کی تذلیل کرتے نظر آتے ہیں ۔مشاہدہ میں آیا ہے کہ بعض اساتذہ کرام تعلیمی پبلک فورم میں طلباء کے ساتھ بد زبانی کرتے ہیں اور ان کو عجیب و غریب القاب سے مخاطب کرتے ہیں جس سے طلباء تعلیم سے بد ظن ہو جاتے ہیں اور وہ تعلیم کو خیر آباد کہ دیتے ہیں۔اسی طرح کمرہ جماعت میں تحقیر آمیز گفتگو کرتے ہیں جس سے طلباء کا ذاتی تشخص مجروح ہوتا ہے او ر اس طرح ان میں آگے بڑھنے کی لگن دم توڑنے لگتی ہے۔یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کھانے کی میز پربھی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیرِتعلیم طلباء کے ساتھ غیر مہذب زبان استعمال کی جاتی ہے جس سے طلباء دل برداشتہ ہو تے ہیں۔
اسی طرح اساتذہ کے غیر مناسب رویوں کی کئی اور مثالیں دی جا سکتی ہیں جو باعث ِ شرم ہیں۔ بعض اساتذہ طلباء کی ذات کا تمسخر اڑاتے ہیں ، ان کو برا بھلا کہتے ہیں۔ کمرہ جماعت میں سوالات کے دوران ان کو نشانہ تضحیک بناتے ہیں اور دیگر کلاس فیلوز کے سامنے ان کی تذلیل کرتے ہیں۔اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اکثر طلباء مقالہ لکھتے ہیں اور اس کے لیے انہیں سپروائزر سے با ر بار رجوع کرنا ہوتا ہے ۔ چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ اسا تذہ ایک مؤثر فیڈ بیک دینے کے بجائے ان کا تمسخر اڑاتے ہیں اور ان کی بےجا ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں۔ حقیقیت یہ ہے کہ مقالہ جات لکھنے والے کئی طلباء داخلہ کی اہلیت نہیں رکھتے اور پھر بھی ان کو داخلہ دے دیا جاتا ہے جس سے کئی تعلیمی مسائل جنم لیتے ہیں۔چنانچہ داخلہ کے بعد ان کی تکریمِ ذات کا خیال نہیں رکھا جاتا اور اس طرح نفسیاتی طور پر وہ کئی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اساتذہ ایسا رویہ کیوں روا رکھتے ہیں اور اس کا مؤثر تدارک کیاہے؟تحقیق اور تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے اساتذہ احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں اور ماضی میں تعلیمی زندگی میں ان کے کئی مسائل رہےہوتے ہیں۔ ایسے اساتذہ کا اپنا تعلیمی سفر حوصلہ افزا نہیں ہوتا ۔ انہیں ماضی میں کئی تعلیمی دشواریوں کا سامنا رہا ہوتا ہے-خود ان کے اساتذہ کا رویہ ان کی طرف اچھا نہیں رہا ہوتا اور وہ تعلیمی میدان میں شدید نقطہ چینی اور تنقید کا سامنا کر چکے ہوتے ہیں ۔ چنانچہ ان کے اندر ایک بدلے کی خواہش موجود ہوتی ہے اور اس طرح یہ انتقام اپنے ان اساتذہ سے لینے کے بجائے اپنے شاگردوں سے لیتے ہیں۔ اور یوں ان کے دل کی تسکین ممکن ہوتی ہے۔ایسے اساتذہ کی پشہ ورانہ تربیت کرنا بہت ضروری ہے۔ ان کے لیے ضابطہ اخلاق وضع کرنا چاہیئے اور اس کا اطلاق ان پرسختی سے کرنا چاہئیے-ایسے اسا تذہ کو مسلسل زیرِ مشاہدہ رکھنا چاہیئے اور ان کی نگرانی کرنی چاہیے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اساتذہ ایسے رویے دوسرے اساتذہ سے بھی سیکھتے ہیں۔چنانچہ ادارے میں اگر چند ایک اساتذہ کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے تو اس طرح دیگر اساتذہ کی ایسے منفی رویے سیکھنے کی حوصلہ شکنی ہوگی اور تعلیمی امن برقرار رہے گا-اساتذہ کو اس قابل بھی بنانا چاہیے کہ وہ خود احتسابی کے عمل سے گزرتے ہوئے اپنے ماضی میں جھانکیں اور باطن بینی سے کام لیتے ہوئے اپنی محرومیوں کا تجزیہ کریں اور شعوری طور پر کوشش کریں کہ وہ کس طرح اپنے طرزِ عمل کی خود اصلاح کر سکتے اور تعلیمی ماحول کو بہتر بنا سکتےہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex