کالم

اسرائیلی بدمست ہاتھی۔۔۔۔۔

حسیب بٹر ایڈووکیٹ

حدیث شریف میں ہے کہ ایک دور آئے گا جب تم یہودیوں سے جنگ کرو گے اور وہ شکست کھا کر بھاگتے پھریں گے کوئی یہودی اگر پتھر کے پیچھے بھی چھپ کر بیٹھ جائے گا تو وہ پتھر بھی بول اٹھے گا کہ اے اللہ کے بندے!یہ یہودی میرے پیچھے چھپا بیٹھا ہے اسے قتل کرڈال ۔نبی کریم حضرت محمد ؐ کے فرمان عالیشان کے مطابق وہ دن زیادہ دور نہیں جب دنیا کے ٹھکرائے ہوئے یہودیوں کا قلع قمع کیا جائے گا ۔ہٹلر نے ساٹھ لاکھ یہودیوں کو قتل کرڈالا تھا دنیا ہٹلر کو ظالم ترین شخص سے تعبیر کرتی ہے لیکن آج دنیا پر یہ آشکار ہوگیاہے کہ ہٹلر نے اس قدر زیادہ یہودیوں کا قتل کیوں تھا؟فلسطین نے ان یہودیوں کو پناہ دے کر ان پر احسان کیا تھا لیکن وہی یہودی فلسطینیوں کی جان کا دشمن بن گیا اور دشمن بھی ایسا کہ پچہتر سالوں سے
اسرائیلی فلسطینی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے ہیں۔ان پر کون سا ایسا ظلم ہے جو اسرائیلیوں نے نہیں ڈھایا بچوں کو ذبح کیا نوجوانوں کا قتل عام کررہا ہے خواتین کی عصمتیں لوٹی جارہی ہیں اس پر ستم یہ کہ دنیا کا ٹھیکیدار امریکہ نہ صرف اسکا حمایتی بلکہ اسکا مددگار ہے ۔امریکہ اپنے آتشیں اسلحہ کو اسرائیل منتقل کرچکا ہے اور امریکی صدر برطانوی وزیراعظم اسرائیل کے دورے کرکے اسرائیل کو اپنی مکمل حمایت اور تعاون کا یقین دلا چکے ہیں ۔یہاں یہ سوچنے کی بات ہے کہ ایک ظالم ریاست کے ظالم حکمرانوں کی غیر مسلم قوتیں کھل کر حمایت کرکے اسرائیل کےلئے عملی اقدامات اٹھا رہی ہیں امریکہ اپنا ایک بحری بیڑا حماس کے خلاف کارروائیوں کیلئے اسرائیل بھیج چکاہے جس میں طیارہ بردار جہاز سمیت5 تباہ کن بحری جہاز شامل ہیں۔ امریکی فضائیہ نے بھی علاقے میں اپنی طاقت بڑھانے کااعلان کیاہے،امریکہ نے اس کے ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیاہے کہ اسرائیلی فوج کے لیے مزید فوجی سازو سامان، لڑاکا طیارے، ہتھیار اور گولہ بارود بھی اسرائیل بھیج رہے ہیں۔دوسری جانب فلسطین کے نہتے شہری جو اسرائیلیوں کے نشانے پر ہیں اور قابل ذکر امر تو یہ ہے کہ فلسطین کی اپنی باقاعدہ کوئی فوج بھی نہیں بس آزادی کے متوالے ہیں جو ظالم کے خلاف سینہ سپر ہیں اور ظالم بھی ایسا کہ خدا کی پناہ جسے کسی جنگی اصول کا پاس ہے نہ وہ عالمی قوانین کو خاطر میں لارہا ہے پہلے اس نے عالمی جنگی جرم کا مرتکب ہوتے ہوئے ہسپتال پر بم برسا دئیے جس سے وہاں زیر علاج زخمی شہید ہوئے دنیا ابھی ہسپتال پر ہونے والے حملوں کی مذمت ہی کررہی تھی کہ اس نے کسی کو خاطر میں لائے بغیر فلسطین کے ایک اور اسپتال پر میزائل برسا دئیے جس میں بھی سینکڑوں بچے خواتین نوجوان اور ضعیف لقمہ اجل بن گئے اسرائیل نے ایک اور اسپتال کو اڑانے کی دھمکی بھی دے دی یے ایسے درندہ صفت یہودی قابل رحم نہیں انکا قتل لازم ہے ۔ کچھ روز قبل حماس کے ترجمان خالدالقدومی نے کہا ہے کہ ہم کوئی بھیک نہیں مانگ رہے مسلم امہ کو کہنا چاہتا ہوں اپنا فرض یاد کریں صیہونی ریاست کی درندگی پر خاموشی مسلم حکمرانوں کیلئے اسلام کا سوال ہے۔ مسلم حکمرانوں کو ایک ہوجانا چاہئے، یہودیوںکو اگر آج فلسطین پر چڑھائی کرنے سے نہ روکا گیا تو کل یہ کسی دوسرے مسلم ملک کی طرف رخ کرسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *