کالم

اساتذہ کا مسئلہ کیا ہے؟

عابد محمود عزام

 پنجاب کی نگران حکومت اساتذہ کرام، سرکاری تعلیمی اداروں اور غریب بچوں کی تعلیم کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہوئی ہے۔ حکومت نے سرکاری ملازمین کی پنشن رولز میں ظالمانہ ترمیم اور ہزاروں سرکاری اسکولوں کو این جی اوز کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تمام محکموں کے ملازمین کے ساتھ اساتذہ کرام اس حکومتی فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکلے توپنجاب کے متعدد شہروں میں پولیس نے لاٹھی چارج کرکے بہت سے خواتین و مرداساتذہ کرام اور ان کے ساتھ بہت سے طالب علم بھی زخمی کر دیے۔ بے تحاشا تشدد کرکے جائز مطالبات کے لیےاساتذہ کرام کا پرامن احتجاج زبردستی ختم کروادیا گیا اور بہت سے اساتذہ کرام کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کردیا۔ شرم کا مقام ہے، جن محسنوں کی بدولت قومیں ترقی کرتی ہیں ، اپنے جائز مطالبہ کے لیے احتجاج کی پاداش میں پولیس نے ان کو ہی لہو لہان کر دیا اور ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کرنے لگی۔ پہلے بھی اساتذہ کرام کو اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے پر متعدد بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ وہ قوم آخرکس طرح ترقی کر سکتی ہے، جو اپنے ہی محسنوں اور معماروں سے مجرموں کی طرح سلوک کرے۔ اساتذہ کرام قوم کے محسن اور ملک وقوم کی ترقی کے ضامن ہوتے ہیں۔کسی بھی اعلیٰ عہدے اور بلند مرتبہ و مقام تک پہنچنے والے ہر شخص اور ہر قوم کی ترقی ان کے اساتذہ کے مرہون منت ہوتی ہے، لیکن افسوس ملک بھر میں حکومتی سطح پر اساتذہ کرام کو ان کے جائز مقام سے محروم رکھا جاتا ہے۔
 قوم کی بدقسمتی ہے کہ تعلیم اور اساتذہ کی اہمیت اور مقام سے نابلد لوگ اساتذہ کرام، تعلیم اور قوم کے بچوں کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ استاذ قوم کا معمار ہوتا ہے اور اسے روحانی والدین کا درجہ دیا جاتا ہے۔استاذ ہی معاشرے کو زندگی کا سلیقہ اور مقصد سکھاتا، سوچ اور فکرکی راہ متعین کرتا اور زندگی کی گتھیاں سلجھانے کے گر بتاتا ہے۔ استاذکے بغیرکوئی معاشرہ اور ملک ترقی یافتہ نہیں بن سکتا، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اساتذہ کو وہ مقام حاصل نہیں، جو ان کا حق ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں استاذ کا مقام کسی بھی جج سے کم نہیں ہوتا اور ہرجگہ اس کا احترام کیا جاتا ہے۔ریاست معاشی طور پر بھی اسے مضبوط کرتی ہے تاکہ وہ یکسو ہوکر بچوں کو تعلیم دے سکیں، لیکن ہمارے ملک میں حکومتیں اساتذہ کرام کو تنگ کرنے اور معاشرے میں ان کا مقام گرانے کے نئے نئے طریقے اپناتی ہے، مگر پھر بھی یہ محسن قوم کے مستقبل کو سنوارنے اور نکھارنے کے لیے اپنا آپ وقف کیے ہوئے ہیں۔
حکومت تعلیمی اداروں کی نجکاری کے ساتھ ساتھ پنجاب کے تمام سرکاری ملازمین کی پنشن کم سے کم کرنے اور ملازمت کے بعد ملنے والی رقم میں لاکھوں روپے کی کمی کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے، جس کے خلاف پنجاب کے تمام محکموں کے ملازمین احتجاج کررہے ہیں۔ اساتذہ کرام ان میں سرفہرست ہیں۔ ان کے مطالبات سننے اور ان سے مذکرات کرنے کے بجائےنگران حکومت نے کریک ڈاؤن کر کے سینکڑوں اساتذہ کرام کو گرفتار کر لیا اور ان پر تشدد کیا۔ اساتذہ کرام نے مطالبات کی منظوری تک تعلیمی سرگرمیوں کا بائیکاٹ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ہڑتال کے باعث سرکاری سکولوں میں دو ہفتوں سے تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں۔
نگراں وزیر اعلیٰ نے پنجاب کے ایک ہزار سرکاری اسکول مسلم ہینڈز پاکستان کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کیے تھے اور حکومت مستقبل میں پنجاب سمیت ملک بھر کے مزید سرکاری اسکولوں کو این جی اوز کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ حکومت سرکاری سکولوں کے تمام متعلقہ اثاثے این جی اوز کے حوالے کر دے گی، جن میں اربوں روپے کی مہنگی زمین، بڑی عمارتیں، کھیل کے میدان اور لیبارٹریز شامل ہیں۔تقریباً نوے فیصد سرکاری سکولوں کی زمینیں مقامی لوگوں نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے عطیہ کیں۔ بلڈنگز بنا کر دیں اور کلاس رومز سمیت دیگر سہولیات فراہم کیں ۔ گزشتہ برسوں میں بھی ہزاروں سرکاری اسکولوں کی زمین، بلڈنگز اور تمام سہولیات اور عوامی ٹیکسوں سے بنا انفراسٹرکچر من پسند افراد اور این جی اوز کے حوالے کرنے کے ساتھ حکومت ان سکولز کو چلانے کے لیے فی سٹوڈنٹ ان این جی اوز کو پیسے ادا کر تی رہی، لیکن یہ تجربہ ناکام ہوگیا۔ اب غریبوں کی تعلیم، ان کے اسکولوں اور تعلیمی نظام پر ایک نیا تجربہ کیا جارہا ہے۔سرکاری اسکولوں میں بھی اب بھاری فیسیں لی جائیں گی۔ جو افورڈ کر سکے گا، پڑھ سکے گا اور جو نہیں افورڈ کرسکے گا، وہ نہیں پڑھ سکے گا۔
 پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے حوالے سے کچھ خامیاں پائی جاتی ہیں، لیکن ان کی بنیادی وجہ اساتذہ نہیں، بلکہ ہمارا نظام تعلیم ہے۔ پالیسی میکرز نہ تو اسکولوں اور اساتذہ کے مسائل سے واقف ہیں اور نہ ہی مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کرام اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے اور اچھی طرح نہیں پڑھاتے۔ سرکاری اسکولوں میں کیسا کام ہورہا ہے؟اساتذہ کتنی محنت کر رہے ہیں ؟ کتنا وقت دے رہے ہیں؟ کتنی چھٹیاں کرتے ہیں؟ ان کے نتائج کیسے ہیں؟ ان کے نقائص کیا ہیں؟ یہ سب کچھ آسانی کے ساتھ گورنمنٹ سکولز کی ویب سائٹس اور پیجز پر دیکھا جاسکتا ہے، جس کے بعد اندازہ ہوجائے گا کہ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ اپنی حیثیت سے زیادہ اپنی ذمہ دارہ نبھا رہے ہیں۔
 صرف پنجاب کے سرکاری سکولوں میں اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ اساتذہ کی کمی کا سامنا ہے۔پنجاب کے سرکاری سکولوں میں اس وقت ایک کروڑ بیس لاکھ بچے پڑھ رہے ہیں۔ ٹیچرز کی تعداد تین لاکھ اڑتیس ہزار ہے۔ گزشتہ سات سال سے کوئی ایک بھی ٹیچر بھرتی نہیں کیا گیا اور اساتذہ کی لاکھوں آسامیاں خالی ہیں۔ ہزاروں سرکاری اسکولوں میں آج بھی صرف ایک ایک ٹیچر پورے اسکول میں پڑھاتا ہے، بہت سے اسکولوں میں صرف دو یا تین ٹیچرز ہیں۔ ہزاروں اسکولوں میں کمرے ہی پورے نہیں ہیں۔ بچے گرمی سردی باہر بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ پالیسی میکرز تعلیم کا معیار بہتر کرنے کے بجائے اساتذہ کوالیکشن ڈیوٹی، ڈینگی ایکٹیوٹیز، پولیو مہم، مردم شماری، پیپر چیکنگ، ڈینگی سپرے مہم، آٹا تقسیم مہم، گندم تقسیم مہم، راشن تقسیم مہم، صحت و صفائی آگاہی مہم، حکومتوں کے سیاسی جلسے بھرنے سمیت نجانے کون کون سی دیگر غیر تعلیمی سرگرمیوں میں الجھا کر رکھتے ہیں۔حکومت کو تو یہ مسائل حل کرنے تھے، لیکن وہ مزید مسائل پیدا کررہی ہے۔ دس سال سے چودہ ہزار سرکاری اسکول ٹیچرز اور اے ای اوز غیر مستقل ڈیوٹی دے رہے ہیں، شروع میں ان سے جو معاہدہ کیا گیا تھا، حکومت تاحال وہ پورا نہیں کر سکی۔ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ اور کمروں کی کمی کو دور کرنا، آئے روز نصاب کے نت نئے تجربات نہ کرنا،اساتذہ پر تعلیم کے علاوہ دسیوں غیر تعلیمی ذمہ داریاں اور زمینی حقائق سے نابلد پالیسی میکرزکا اساتذہ پر اپنی پالیسیاں مسلط نہ کرنااور اساتذہ کرام کو سہولت کے ساتھ بچوں کو پڑھانے کی آزادی دینا اور تعلیمی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا حکومت کا فرض ہے،لیکن حکومت تو شاید تعلیم کے معاملے میں سنجیدہ ہی نہیں ہے۔
سرکاری اسکولوں میں کچھ خامیاں اگرچہ موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود سرکاری سکولوں کی کارکردگی تمام سرکاری محکموں سے بہت زیادہ بہتر ہے۔سرکاری سکول کرپشن سے پاک ہیں۔ جہاں غریب کے بچے کا داخلہ، تعلیم، امتحان سب کچھ بغیر کسی رشوت و سفارش کے ہوتا ہے۔کئی محکموں کے حالات آپ لوگ بھی جانتے ہیں، جہاں اربوں روپے کی عیاشیاں،رہنے کے لیے عالی شان گھر، ہاوسنگ کالونیاں اور پلاٹ ، ان کی تنخواہیں اور پنشن لاکھوں میں اور ہوش ربا مراعات، مفت گاڑیاں، مفت بجلی، مفت گھر، مفت سیکورٹی گارڈ اور زندگی کی ہر سہولت انہیں مفت فراہم کی جاتی ہے، مگر کفایت شعاری کے نام پر استحصال صرف اساتذہ کا کیا جاتا ہے اور آئے روز اساتذہ پر ظالمانہ پالیسیاں مسلط کی جاتی ہیں،جن کے خلاف اساتذہ کو آواز اٹھانا پڑتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *