کالم

ادھار کی روٹی مگر کب تک!!

( علی احمد قریشی لاہور)

مکرمی ! پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود متعدد زرعی اجناس درآمد کرتا ہے بالخصوص گندم بھی ہم اپنی ضروریات کے مطابق پیداوار حاصل کرنے میں ناکام اور درآمد کرنے پر مجبور ہیں۔ مہنگائی کا طوفان برپا ہے اشیاء خوردنوش کی قیمتیں دن بدن بلند ترین سطح پر جاتی دکھائی دے رہی ہیں ملک میں مہنگائی کی شرح 48 سال کی بلند ترین سطح 31 فیصد ہوچکی ہے ادارہ شماریات کے مطابق جولائی 2022 تا فروری 2023 کے دوران مہنگائی کی شرح 19۔26 فیصد ریکارڈ کی گئی پاکستان میں تین طبقات ہیں ایک امیر دوسرا متوسط تیسرا غریب۔ متوسط طبقہ کی کمر مہنگی اشیاء خوردنوش بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافے نے توڑ کر رکھ دی ہے۔ ملک میں بجلی کی شدید قلت ہے نیز مہنگی بجلی سے ہماری صعنتیں کارخانے سخت دباؤ کا شکار ہیں کمپنیاں اپنا خسارہ کم کرنے کی غرض سے اپنے ملازمین کی تعداد مسلسل کم کررہی ہیں جس کے باعث بے روزگار افراد کی تعداد تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بے روزگارافراد کی تعداد 45 لاکھ سے تجاویز کرچکی ہے متوسط طبقہ ادھار پر جئی رہا ہے مگر کب تک؟؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex