کالم

احسان فیصل کی 20ویں ادبی کاوش’خط میرے نام ‘

یاورعباس

ازل سے لے کر ابد تک پیغام رسانی کا سب سے اہم ذریعہ خط ہے اور رہے گا ، مختلف زمانوں میں اس کی شکلیں اگرچہ تبدیل ہوتی رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی ۔ زمانہ قدیم میں خطوط لکھنے کے لیے دھات ، سیسہ ، موم ، لکڑی ، مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے ، جانوروں کی کھالیں اور پیپرس وغیرہ پر لکھے جاتے تھے ۔ چین نے جب کاغذ ایجاد کیا تو 8ویں صدی کے دوران چینی کاغذ نے پیپرس کی جگہ لے لی اور 11ویں صدی تک یہ اسلامی دنیا کے ساتھ ساتھ یورپ میں بھی پھیل گیا ۔13ویں صدی میں پیپر مل کے ذریعے کاغذ سازی کو بہتر بنایا گیا اور یوںجیسے جیسے کاغذ ترقی کرتا رہا خطوط بھی کاغذات پر لکھنے کا عمل جاری ہوتا رہا ۔ 19ویں صدی کاغذ پر خطوط کا مقبول زمانہ رہا 20ویں صدی میں کاغذ کی انواع اقسام کی قسمیں ایجاد ہوگئیں، تو خطوط اپنی اپنی نوعیت کے مطابق انہی کاغذات پر منتقل ہوتے رہے، خطوط ارسال کرنے کے ذرائع بھی ہر دور میں مختلف رہے ، زمانہ جدید میں پیغام رسانی کا ذریعہ خطوط ہی ہیں مگر ان کی شکل کاغذ سے منتقل ہوکر ای میل ، واٹس ایپ ، فیس بک ، ٹوئٹر جیسی سوشل میڈیا سائٹس پر منتقل ہوچکی ہیں ،جو کہ پیغام رسانی کا جدید اور محفوظ ذریعہ بھی ہیں ان پیغامات؍خطوط کو ہم کاغذ پر منتقل کرسکتے ہیں اور محفوظ بھی کرسکتے ہیں ۔
برصغیر کی تاریخ میں خطوط پر مشتمل یہ کوئی پہلی کتاب نہیں بلکہ ہم سے وثوق سے نہیں مگر اندازے سے کہہ سکتے ہیں کہ شاید خطوط پر مشتمل یہ کتاب اس صدی کی آخری کتاب ہو۔ خطوط پر لکھی گئی کتابوں میں خطوط غالب ، خطوط اقبال ، مکتوبات شبلی ، محبت کے خطوط (خلیل جبران ) ، مکاتیب مشاہیر بنام سید نصرت بخاری ازقلم شہزاد حسین بھٹی اٹک ، مشاہیر ادب کے خطوط (ڈاکٹر غلام شبیر رانا شامل ہیں جنہوںنے کافی شہرت بھی حاصل کی ۔ خطوط غالب اورمکتوبات اقبال تو تعلیمی اداروں میں بطور نصاب بھی پڑھائے جاتے رہے ہیں ۔ غنیمت کنجاہی اور شریف کنجاہی کی بستی کنجاہ علم و ادب میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ، اس دھرتی نے اگرچہ نامور شاعر، نثر نگار، دانشور، محقق، ناقد پیدا کیے ، جن کی کتابیں شہرہ آفاق بھی بنیں ، غنیمت کنجاہی کی مثنوی غنیمت، نیرنگ عشق بے پناہ مقبول ہیں ، شریف کنجاہی کی کتب جگراتے ، جھاتیاںپنجابی ادب میں بے حد مقبول ہیں ، اکرم کنجاہی کی فن خطابت تعلیمی اداروں میں بے پناہ مقبول ہے ، احسان الحق سلیمانی کی سیرت پر کتاب ’رسول مبیں‘ صدارتی ایوارڈ حاصل کرچکی ہے صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر روحی کنجاہی کا کلام ملک بھر کے ادبی رسالوں، اخباروں کی زینت بنتا رہا ، منیر صابری کنجاہی ، منیر چشتی کنجاہی کی شاعری فن میں اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے مگر احسان فیصل کنجاہی کا کام سب سے جداگانہ حیثیت رکھتا ہے ،علم و دانش کی بستی میں خطوط پر مشتمل یہ پہلی اور شاید آخری کتاب ہو جو لائبریریوں کی زینت بنے گی اور آنے والے وقت میں بہت سارے ادبی کاموں میںبطور حوالہ جات استعمال ہوگی ۔ اگر احسان فیصل کنجاہی کے بعد خطوط پر مشتمل کسی علمی وادبی شخصیت نے اپنی کوئی کتاب نہ شائع کی تو پھر جب کبھی خطوط نویسی کی تاریخ لکھی جائے گی شاید برصغیر کی تاریخ میں غالب سے احسان فیصل کنجاہی کے خطوط تک کا ذکر کیا جائے گا۔ زمانہ طالب علمی میں نصاب میں ایک مضمون ہوتا تھا ’میرا مشغلہ‘ اس میںبہت سارے مشغلوں کے بارے میں بتایا جاتا تھا کہ کسی کو ٹکٹیں جمع کرنے کا شوق ہے تو کسی کو سکے جمع کرنے کا شوق ، احسان فیصل کنجاہی کی کتاب ’خطوط میرے نام ‘ دیکھی تو فوراً خیال ماضی کے جھروکوں کو پلٹ گیا ، ساڑھے چار سو کے قریب صفحات پر مشتمل کتاب میں 260کے قریب ملک کے طول و ارض سے علمی ، ادبی ، سماجی ، دوست احباب ، سرکاری و نجی خطوط کو یکجا کرنے کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ خط میرے نام میں جن شخصیات کے خطوط شامل ہوئے ہیں وہ تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں اور تاریخ انہیں مدتوں یاد رکھے گی ۔ انتساب کنجاہ میں پوسٹ مین کے فرائض سرانجام دینے والوں کے نام کر کے احسان فیصل کنجاہی نے دنیائے ادب میں حقیقت پسندی کاثبوت دیا ہے ۔
’خط میرے نام ‘کی اشاعت پر احسان فیصل کنجاہی کو مبارکبا د پیش کرتا ہوں کتاب کا اگرچہ میں پوری طرح مطالعہ نہیں کرسکا، طائرانہ نظر میں جائزہ میں بے پناہ معلومات حاصل ہوئیں ، سید امتیاز حسین بخاری چک نمبر36شمالی کا خط مجھے طویل ترین نظر آیا اور سعید اقبال سعدی کامختصر ترین جس میں صرف عید مبارک لکھا گیا تھا۔ دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ احسان فیصل کنجاہی کو علمی ،ادبی دنیا میںکارہائے نمایاں سرانجام دینے کی توفیق عطافرمائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے