کالم

اب تماشہ نہیں دیکھا جاتا

نوید مغل

ملک عزیز میں بھولے بھالے تماشائیوں کو مبہوت کرنے کے لئے مداری کو بہت سے کرتب دکھانے پڑتے ہیں۔ کبھی ڈگڈگی بجانی پڑتی ہے، کبھی جیب سے کبوتر نکالنا پڑتا ہے، کبھی سولا ہیٹ میں سے رنگ برنگے رومالوں کی ہزاروں کترنین برآمد کرنی پڑتی ہیں، کبھی ناراض بندر کو سسرال سے واپس بلانا پڑتاہے، کبھی بکری کو ایک ٹانگ پر کھڑا کرنا پڑتا ہے، کبھی بچہ جمہورا کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اس کے گلے پر چھری چلانی پڑتی ہے۔ کبھی سدھائے ریچھ کو نچانا پڑتا ہے، کبھی ڈگڈگی کی تھا پ پر خود ناچنا پڑتا ہے۔کبھی تھیلے سے دو موا سانپ برآمد کرنا پڑتا ہے۔ کبھی بین بجانی پڑتی ہے ، کبھی خود کوزہریلے سانپوں سے ڈسوانا پڑتا ہے۔ کبھی ننگے پائوں دہکتی آگ پر چلنا پڑتا ہے، کبھی تیز دھار تلوار کو حلق سے نیچے اتارنا پڑتا ہے۔ کبھی ٹوٹے گلاس کی کرچیاں چبانی پڑتی ہیں۔کبھی بغیر کسی سہارے کے ایک باریک سے تار پر چلنا پڑتا ہے۔ کبھی صاحبان ، قدردان اور بھائی جان کی آواز لگانا پڑتی ہے۔ کبھی تماشائیوں سے پہلے خود تالی بجانی پڑتی ہے اور کبھی کبھی تواپنے حق میں خود ہی نعرہ لگانا پڑتا ہے۔اس بات کی طرف کم ہی لوگوں کا دھیان جاتا ہے کہ مداری کا مقصد تماشا نہیں ہوتا، اس کو ان شعبدوں سے درحقیقت کوئی غرض نہیں ہوتی، ان کرتبوں سے اس کو کچھ حاصل نہیں ہوتا، جیب سے نکلنے والے کبوتر اور ٹوپی سے نکلے رنگ برنگے رومالوں سے اس کو کوئی لگائو نہیں ہوتا۔ اس کا اصل مقصد تماشا کا حاصل ووٹ کی شکل میں مقصود ہوتا ہے۔وہ تماشائیوں کے لئے ہر مرحلے سے گزرتا ہے۔
مداری کی زندگی کا سب سے الم ناک منظر وہ ہوتا ہے جب تماشائیوں کو تماشے کی سمجھ آجاتی ہے۔ جب اسکے کرتبوں کے بارے میں لوگوں کو پہلے سے پتہ چل جائے۔جب بھائی جانوں ، قدر دانوں اور مہربانوں کو پہلے سے علم ہو جائے کہ اب کیا ہونے والا ہے۔ایسے میں مداری اپنا سارا زور لگاتا ہے۔ ہر کرتب دکھاتا ہے۔ ہر ترکیب لڑاتا ہے مگر کامیاب نہیں ہوتا۔ اس کے جادو لوگوں کو ڈھونگ کہنے لگتے ہیں، اس کے ہنر پر ٹھٹھے ہونے لگتے ہیں۔ لوگ پہلے سے نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں۔ ایک دفعہ تماشائی پیش بین ہو جائیں پھر انکو تماشے میں دلچسپی نہیں رہتی۔ وہ روز بہ روز ہونے والے مسخرہ پن سے بیزار ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ تماشا گر خود تماشا بن جاتا ہے۔
لگتا ہے یہ ملک ایسی تماشا گاہ ہے جہاں بندروں کے کرتب‘ گھوڑوں کی نمائش‘ لوٹوں کی تجارت‘ اصولوں کی خریدو فروخت‘ وفاداریوں کی منڈی‘ ہوس اقتدار کی رسہ کشی کا کھیل‘ عہدو پیماں توڑنے کے سنہری طریقوں کے سٹال‘ سمجھوتوں کے شوکیس‘ غلام رہنے کے فوائد و برکات پر مبنی لٹریچر‘ فدویانہ طرزِ عمل سیکھنے کے مدرسے‘ قربانیوں کے ثمرات ضائع کرنے اور آمریت کی پرورش کرنے کے ہنر کی درسگاہیں‘ خوشامد کے سِکوں کو ڈھالنے کی ٹکسالیں‘ ڈیل کرنے کی تربیت گاہیں اور مضبوطی کو کمزوری میں بدلنے کی کمال مہارتوں کی دکانیں جا بجا نظر آتی ہیں۔ اس تماشا گاہ میں رکھی گئی چیزیں اور لوگ‘ تماشائیوں کا دل لبھانے اور انہیں محظوظ کرنے میں ازحد مصروف ہیں۔ ہر ایک کو ایک خاص کردار دے دیا گیا ہے اور سب اسے ادا کرنے کے لیے پوری جانفشانی دکھا رہے ہیں۔ انہیں کوئی غرض نہیں کہ تماشا دیکھنے والے کون ہیں۔ ہر کردار اپنے ہنر، استطاعت اور انعام و اکرام کے مطابق کرتب دکھا رہا ہے، پرفارم کر رہا ہے اور تماشائی خوش ہو رہے ہیں۔ کبھی سیٹیاں بجاتے ہیں، کبھی ہُوٹ کرتے ہیں، کبھی شاباش دیتے ہیں۔ یہ دنیا کی واحد قوم ہے جس نے اپنے آپ کو تماشا بنایا ہوا ہے اور جس کا تماشا دیکھنے کے لیے یا یوں کہہ لیجیے کہ اپنی مرضی کا تماشا دیکھنے کے لیے بڑے بڑے کھلاڑی اور تماشائی میدان میں اترے ہوئے ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ ہم کوئی بھی کام اس وقت تک نہیں کرتے جب تک باہر سے مداخلت نہ ہو۔ سب کچھ بیرونی کھلاڑیوں کی مدد سے کیا جاتا ہے۔جس کا جب جی چاہتا ہے دندناتا ہوا آتا ہے اور احکامات سنا کر رخصت ہو جاتا ہے۔ اقتدار کی راہداریوں میں متشکل ہونے والے مناظر اور خدوخال وہ نہیں ہوتے جو ہمیں نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ سب سراب ہے۔ اخبارات کے تجزیے‘ کالم‘ مضامین اور ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز اپنے اپنے تھیٹر سجاتے ہیں‘ تجزیہ نگار بقراطی انداز میں گفتگو کرتے ہیں‘ قیافے لگاتے ہیں‘ پیش گوئیاں کرتے ہیں اور پھرعام آدمی سمجھ بیٹھتا ہے کہ جو کچھ ٹی وی سکرین پر نظر آ رہا ہے‘ جو کچھ دانشور فرما رہے ہیں وہ سب صحیح ہے۔ جو ہمیں نظر آ رہا ہوتا ہے۔ ملکی اور غیر ملکی مقتدر قوتوں کا یہ کھیل برسوں سے جاری ہے۔ ان کی بچھائی ہوئی بساط پر صرف کردار اور چہرے تبدیل ہوتے ہیں۔ اصل کھیل اور کھلاڑی وہی ہیں جن کے آگے سب بے بس ہیں۔قصہ مختصر، یہ تماشا سالوں سے جاری ہے اور جاری رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex