کالم

آپ ﷺ بے مثال ہیں

راناشفیق خان

حضرت عبداللہ کی وفات کے چند ماہ بعد عام الفیل میں یعنی جس سال ابرہہ نے مکہ پر یورش کی تھی وہ مبارک گھڑی آئی جس کا اس کائنات کو ازل سے انتظار تھا۔چمنستان دہر میں بارہا روح پرور بہاریں آ چکی ہیں۔ چرخ نادرہ کار نے کبھی کبھی بزم عالم اس سرو سامان سے سجائی کہ آنکھیں خیرہ ہو کر رہ گئیں لیکن آج کی تاریخ ہے جس کے انتظار میں پیرکہن سال دہر نے کروڑوں برس صرف کر دیئے۔ سیارگان فلک اسی دن کے شوق میں ازل سے چشم براہ تھے۔ چرخ کہن مدت ہائے دراز سے اسی صبح جاں نواز کے لئے لیل و نہار کی کروٹیں بدل رہا تھا۔ کارکنان قضا و قدر کی بزم آرائیاں، عناصر کی جدت طرازیاں، ماہ و خورشید کی فروغ انگیزیاں، ابروباد کی تروستیاں، عالم قدس کے انفاس پاک، توحید ابراہیم ؑ ،جمال یوسف ؑ ، معجز طرازی موسیٰ ؑ ، جان نوازی مسیح ؑ سب اسی لئے تھے کہ یہ متاع ہائے گراں شہنشاہ کونین ؐ کے دربار میں کام آئیں گے۔آج کی صبح وہی صبح جاں نواز، وہی ساعت ہمایوں، وہی دور فرخ فال ہے! ارباب سیر اپنے محدود پیرایہ بیاں میں لکھتے ہیں کہ آج کی رات ایوان کسریٰ کے چودہ کنگرے گر گئے، آتش کدہ فارس بجھ گیا، دریائے سادہ خشک. ہو گیا لیکن سچ یہ ہے کہ ایوان کسریٰ کے نہیں بلکہ شان عجم، شوکت روم، اوج چین کے قصر ہائے فلک بوس گر پڑے آتش فارس نہیں بلکہ حجیم شر، آتش کدہ کفر، آذر کدہ گمرہی سرد ہو کر رہ گئے۔ صنم خانوں میں خاک اڑنے لگی، بت کدے خاک میں مل گئے، شیرازہ مجوسیت بکھر گیا، نصرانیت کے اوراق خزاں دیدہ ایک ایک کرکے جھڑ گئے۔توحید کا غلغلہ اٹھا، چمنستان سعادت میں بہار آئی، آفتاب ہدایت کی شعائیں ہر طرف پھیل گئیں، اخلاق انسانی کا آئینہ پر تو قدس سے چمک اٹھا یعنی یتیم عبداللہ، جگر گوشہ آمنہ، شاہ حرم، حکمران عرب، فرمانروائے عرب، فرمانروائے عالم، شاہ کونین عالم کون و مکاں میں جلوہ افروز ہوئے۔جب عبدالمطلب کو پوتے کی پیدائش کی خبر ملی تو وہ بہت خوش ہوئے اور اپنے پیارے بیٹے عبداللہ کی وفات کا غم بھی بھول گئے۔ انہوں نے بڑی محبت سے بچے کو گود میں لیا، چوما، پیار کیا اور گود میں لئے خانہ کعبہ میں گئے۔ وہاں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعائے خیر کی پھر ابراہیمی طریقے کے مطابق عقیقہ کیا اور محمدﷺ نام رکھا۔جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ پیدائش کے کچھ عرصہ بعد حسب دستور آپ کو پرورش کے لئے حلیمہ سعدیہ کی رضاعت میں دے دیا گیا۔ مائی حلیمہ نے خاص توجہ، بڑے پیار اور پوری احتیاط کے ساتھ آپؐ کی پرورش کی۔ حلیمہ سعدیہ کا بیان ہے کہ حضورؐنے عام بچوں کی طرح نہ کبھی بستر پر یا
کپڑوں میں بول و براز کیا، نہ کسی بات کی ضد کی اور نہ ہمیں ستایا۔ آپؐ کا قدم مبارک ہمارے لئے بڑی خیرو برکت کا باعث تھا لہٰذا میری دلی خواہش تھی کہ حضورؐ میرے پاس ہی رہیں۔ ایک اور جگہ وہ بیان کرتی ہیں کہ ایک روز حضورؐ باہر بکریاں چرا رہے تھے کہ عبداللہ بھاگتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ ’’دو آدمیوں نے ہمارے بھائی محمدﷺ کو زمین پر لٹا کر ان کا سینہ چاک کر دیا ہے۔ یہ سن کر ہم دونوں میاں بیوی دوڑے گئے۔ دیکھا کہ حضورؐ کھڑے ہیں اور ان کے چہرہ مبارک سے خوف کے آثار نمایاں ہیں۔ میں نے پوچھا۔ ’’بیٹا کیا بات ہے؟‘‘ انہوں نے بتایا۔ دو سفید پوش مردوں نے مجھے زمین پر لٹا کر میرا سینہ چاک کیا اور دل نکال کر اس میں سے کچھ ڈھونڈنے لگے۔‘‘حلیمہ سعدیہ کہتی ہیں کہ ہم حضورؐ کو گھر لے گئے۔ میرا شوہر کہنے لگا۔ ’’اس بچے کو اس کے گھر پہنچا دینا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ اسے کوئی گزند پہنچ جائے‘‘۔ چنانچہ میں انہیں ساتھ لے کر مکہ گئی۔ ان کی والدہ محترمہ نے مجھے دیکھ کر کہا۔ ’’اتنی جلدی واپس لے آئیں، تم تو انہیں اپنے پاس رکھنے کے لئے مصر تھیں؟‘‘میں نے عرض کیا ’’میں اپنا فرض ادا کر چکی لہٰذا خیال ہوا کہ آپ کی امانت ادا کر دوں تو بہتر ہے‘‘۔انہوں نے کہا ’’نہیں! سچ سچ بتاؤ بات کیا ہے؟‘‘ اس پر مجھے مجبوراً آپ کے شق صدر کا واقعہ بیان کرنا پڑا اور بتایا کہ اس واقعہ سے ہمیں خطرہ پیدا ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ انہیں کوئی گزند پہنچ جائے۔ لہٰذا میں انہیں آپ کے پاس لے کر آگئی۔حلیمہ سعدیہ کے شوہر کا نام عبدالعزیٰ تھا۔ وہ آنخصرتؐ کی بعثت کے بعد ایک دفعہ مکہ معظمہ آئے، آنحضرتؐ سے ملے اور حلقہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ حضورؐ کے چار رضاعی بہن بھائی تھے۔ عبداللہ، انیسہ، حذیفہ اور حذافہ، حذافہ کو گھر میں پیار سے شیما کہتے تھے۔ عبداللہ اور حذافہ (شیما) غزوہ حنین کے بعد مشرف بہ اسلام ہوگئے تھے۔ باقیوں کے متعلق کچھ معلوم نہیں۔شیما آنحضرت ؐ کو بچپن میں اکثر کھلایا کرتی تھیں۔ جب ہاتھوں میں اٹھا کر اچھالتیں تو حسب ذیل لوری دیا کرتی تھیں۔’’اے ہمارے رب زندہ رکھ ہمارے لئے محمدﷺ کو یہاں تک کہ میں دیکھوں اسے نوجوان پھر میں دیکھوں اس کو سردار اور اوندھے منہ گرا اس کے دشمنوں اور حاسدوں کو اور عطا کر اس کو ایسی عزت جو ہمیشہ ہمیشہ رہے‘‘۔آنحضرت ؐ چھ سال کے ہوئے تو آپؐ کی والدہ محترمہ آپؐ کو ساتھ لے کر اپنے شوہر یعنی آنحضرتؐ کے والد حضرت عبداللہ کی قبر کی زیارت کے لئے مدینہ گئیں۔ ایک ماہ قیام کرنے کے بعد وہاں سے واپس ہوئیں تو راستے میں ابوا کے مقام پر بقضائے الٰہی رحلت فرما گئیں۔ ام ایمن جو بی بی آمنہ کی کنیز تھیں، آنحضرت ؐ کو مکہ لے آئیں۔بی بی آمنہ کی وفات کے بعد آنحضرت ؐ کے دادا عبدالمطلب نے آپؐ کو اپنی کفالت میں لے لیا مگر تین سال کے بعد عبدالمطلب بعمر82سال انتقال فرما گئے۔ آنحضرت ؐ کے والد حضرت عبداللہ اور ابو طالب ایک ماں کے بطن سے تھے لہٰذا عبدالمطلب نے اپنی وفات کے وقت آنحضرت ؐ کو ابوطالب کی کفالت میں دیا اور تاکید کی کہ ان کی اچھی طرح سے نگہداشت کرنا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex