کالم

آواز اٹھاؤ فلسطین کی خاطر

کھنڈہ،صوابی

بچپن ہی سے لوگوں کو یہی کہتے سنا کہ روزِ محشر ہر رشتہ، ہر جذبہ، ہر احساس فقط اپنی ذات تک محدود ہو گا، سنا ہے قیامت کا دن لوگوں میں نفسانفسی ہو گی ۔ شدید حیرت ہوا کرتی تھی کہ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے؟ مگر میرا اس دنیا میں ساتھ رہنے اور ایک دوسرے کے سکھ دکھ میں ساتھ دینے کا خیال فقط میری خام خیالی ثابت ہواکیونکہ اب جب میں فلسطینی بھائیوں کی حالت دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ اروزِ محشرقیامت برپا ہونے سے پہلے ہی قیامت برپا ہے۔آج دنیا میں کہی بھی کسی بھی ملک میں اگر غیرمسلموں کے ساتھ کچھ برا ہوتا ہے تو پوری دنیا میں ایک کہرام مچ جاتا ہے۔ میرا سوال صرف اتنا ہے کہ کیا انسانیت کے زمرے میںمسلمان نہیں آتے؟ کیا مسلمانوں پہ کیا جانے والا ظلم و بربریت انسانیت کے خلاف نہیں ہے؟ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آج اپنے فلسطینی مسلمان بہن، بھائیوں پہ ہونے والے ظلم اور مقدس اقصیٰ پہ روز روز کی بمباریوں پر اگر غیرمسلم ممالک نہیں بول رہے تو ہمیں ان کی تقلید کرنے کے بجائے اپنے مسلمان بھائیوں کی حالت اور ان پہ دن رات کئے جانے والے مظالم کے خلاف خود آواز اٹھانے کی اشد ضرورت ہے؟ مسلمانو اب وقت آگیا ہے کہ ہم فلسطینی مجاہدین کا ہاتھ پکڑیں اور دبنگ انداز میں دنیا کو یہ باور کروائیں کہ کون ظالم ہے اور کون مظلوم، کہ اب بہت ہو گیا، اب ظلم کے ان سیاہ گھٹاوں کو چھٹنا ہی چاہیے۔آج اس مشکل گھڑی میں جہاں آئے روز فلسطینی مسلمانوں کی شہادتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور ماؤں کی گودیں اجڑ رہی ہیں، میری قلمکار برادری سے انتہائی عاجزانہ سی گزارش ہے کہ آگے بڑھیں اور اپنے قلم کی سياہی کو ظلم کے خلاف استعمال میں لاکر تاریخ کے اوراق کو سنہرا کر دیں اور دنیا کو بتا دیں کہ مسلمان نہ تو اکیلے ہیں اور نہ ہی یہ کٹ مرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔
اپنے بچوں کو بتائیں کہ کیوں فلسطین کی خاطر اٹھ کھڑے ہونا ضروری ہے، ان میں محبت کا وہ احساس اجاگر کریں کہ جس کے تحت وہ اپنے ہی جیسے معصوم پھولوں کو اپنی خاص اور معصوم دعاؤں میں یاد رکھیں جو قبلہ اوّل کی محبّت دلوں میں لئے اسرائیل کی لگائی ہوئی آگ میںجھلس رہے ہیں۔ اپنے بچوں کو تیار کریں کہ اب وہ آگے بڑھ کر پیغمبروں کی سرزمین پہ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔اللہ تعالیٰ فلسطینی مسلمانوں اور مجاہدین اقصیٰ کو ایسی فتح نصیب کرے کہ جس کے بعد کوئی ان پہ حاوی نہ ہوسکے، خدا ان کو ایسی آزادی عطافرمائے کہ جس کے بعد غلامی کا سورج کبھی طلوع نہ ہو، آمین الٰہی آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex