کالم

آن لائن شاپنگ کے فائدے اور نقصانات

اختر عباس اختر

آج کل آن لائن شاپنگ کا بہت زیادہ ترینڈ چل رہا ہے نوجوانوں میں آئن لائن شاپنگ کا جنون بڑھتا جارہاہے۔ لوگ انٹر نیٹ کے ذریعے گھر بیٹھے ہی شاپنگ کرنے میں مصروف ہیں اور انٹر نیٹ پر طرح طرح کی مصنوعات کی بھر مار ہے۔ لوگوں کو دکھایا کچھ جا رہے اور بھیجا کچھ جا رہاہے۔ دھوکہ دہی عام ہے لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا سلسلہ جا ری ہے۔ چند ماہ قبل کی بات ہے میں نے مردانہ ٹی شرٹ کی چند تصویریں دیکھیں جو مجھے بہت پسند آئیں جس کے نیچے دیئے گئے نمبر پر میں نے رابطہ کرتے ہوئے آڈر دے دیا ۔چند روز بعد ہی مجھے وہ آرڈر مل گیا۔ کوئیر کا نمائندہ میرے آفس آڈر ڈلیور کرنے کے بعد روانہ ہو گیا اس کے جانے کے بعد میں نے پارسل کھولا تو میں حیران رہ گیا اس پارسل میں تین مین شرٹ موجود تھیں مگر وہ شاید آخری لارج سائز کی تھیں جو شائد مشہور ریسلر بگ شو کی تھیں یا ان کے لئے ہی سلائی کی گئیں تھیں۔ میں نے فوری اس ادارے سے رابطہ کیا مگر کال اٹنڈ نہ ہو سکی اور یہ سلسلہ تین دن چلتا رہا۔ مطلب کہ تین روز میرا ان سے رابطہ ہی نہ ہو سکا تیسرے دن ایک صاحب فون اٹھاتے ہوئے بولے جی سر حکم کیجئے میں نے کہا سر میں نے جناب سے غلطی سے تین شرٹیں منگوائی تھی وہ سائز میں بہت زیادہ بڑی ہیں کلر وہ نہیں اور نہ وہ کپڑے کی وہ کوالٹی ہے ۔ وہ بولے سر جی آج واپس بھیج دیں ۔ڈیلیوری چارجز آپ کو دینا ہو ن گے ۔میں نے کہا بھائی صاحب اگر میں بھیج دیتا ہو ں اور بعد ازاں مجھے ایسی ہی شرٹ ارسال کر دی جا تی ہیں تو ؟وہ بولے اس کی گارنٹی میں نہیں دے سکتا اور یہ کہتے ہوئے کال کاٹ دی ۔ دراصل وہ سندھ سے تھے اگر پنجاب کے ہوتے تو ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی بھی عمل میں لاتا ۔میرا بہر حال یہ ایک پہلا تجربہ تھا آن لائن شاپنگ کا ،اس کے بعد بھی کئی چیزیں منگوانے کے بعد احساس ہوا کہ آن لائن شاپنگ کے نام پر شہریوں کے کیسے کیسے دھوکہ ہو رہا ہے سب ایک جیسے نہیں ہیں پاکستان سمیت دنیا بھر میں آئن لائن شاپنگ کا سلسلہ جا رہی ہے اور یہ بڑھتا ہی جا رہا ۔ بہت اچھی اچھی کمپنیاں ہیں مارکیٹ میں جو آن لائن کے ذریعے شہریوں کو اپنی مصنوعات فراہم کر کے لاکھوں ڈالر کما رہی ہیں اور ان کا اعتماد بھی بحال ہے۔ لوگوں کے پاس اب شاپنگ کا ٹائم بھی نہیں ہے لوگ گھر بیٹھے ہی سب ضرویات زندگی کی اشیا خریدنا چاہتے ہیں اس سے ایک تو ٹائم کی بچت ہوتی ہے آپ کوئی بھی چیز گھر بیٹھے پسندکرتے ہیں اپنی فیملی کے ساتھ اس کو پسند کے ساتھ مشورہ کرتے ہوئے اس چیز کا آڈر کر دیتے ہیں یوں بازار جانے کے جھنجٹ سے بچ جاتے ہیں۔ وہاں گھومنا دکانداروں سے بحث و مباحثہ کی بچت اور اخراجات کی بچت ہوتی ہے آپ کی پسندیدہ چیز آپ کو آپ کی دہلیز پر میسر ہو تی اور اس سے کروڑوں لوگوں کا روزگار بھی وابستہ ہے۔ سوشل میڈیا پر اشتہارات کی بھرمار ہے ۔ جاب کے لئے لوگوں کو بے وقوف بنانے کا ایک سلسلہ جا رہی ہے گذشتہ دنوں فیس بک پر ایک میسج آیا سر آپ آن لائن کام کرنا چاہتے ہیں آپ نے صرف ویڈیو دیکھنی ہے اور اس کے آپ کو پیسے ملیں گے جتنی زیادہ ویڈیو دیکھیں گے اتنے پیسے ملیں گے میں رپلائی کرتے ہوئے کہا میم اگر اس میں انوسٹمنٹ ہے تو معذرت کرنے کے بعد مجھے اس کی قیمت دیں گے تو وہ مجھے قبول ہوگا۔ کہنے لگی سر اس دور میں پیسے کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا آپ کا اپنا اکاونٹ اوپن کروانے کے لئے دو ہزار جمع کروانا ہونگے۔ میں نے جواب دیا ۔ میم کیا آپ مسلمان ہیں اگر ہاں تو اپنے ایمان سے بتایئے آپ کب سے یہ کر رہی ہیں اور آج تک کتنے پیسے کما چکی ہیں ماہانہ کتنی آمدن ہے آپ یقین مانے اس کا وائس میسج آیا جس میں وہ رو رہی تھی سر ایک ماہ قبل میں نے کسی سے ادھار لے کر دو ہزار بھیجے تھے ابھی تک مجھے کچھ نہیں ملا آئے روز نیو کہانی سنائی جاتی ہے اب کہتے ہیں جتنے ممبر ایڈ کرواو گی اس سے آپ کو فی ممبر چار سو ملیں گے مجھے ایک ماہ میں ایک ممبر بھی نہیں ملا یوں آئے روز لڑکیوں کو کال اور میسج کے زریعے نوجوان نسل کو بے وقوف بنایا جا رہے۔ روزانہ ہزاروں روپے کمانے کے خواب دیکھا کر نوجوان نسل سے انویسمنٹ کے نام پر لاکھوں روپے بٹورے جا رہے ہیں اور بعد ازاں یہ لوگ آن لائن کام یا اس پر اعتماد کرنے سے قاصر ہو رہے ہیں قصورچند عناصر کا ہے اور بدنام بعد ازاں سب ہوتے ہیں۔ فیس بک ،وٹس اپ سمیت شوشل میڈیا پر اشتہارات کی بھر مار ہے دنیا کی ہر چیز آپ کو آن لائن دستیاب ہے آن لائن چیزیں سرچ کرتے ہوئے بعض اوقات ایسی ایسی چیزوں کے اشتہارات سامنے کھل جاتے ہیں جسے دیکھ کر انسان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے ایسی پوسٹ ڈالنے والے بھی ایسی اسلامی ملک کے رہائشی ہیں اور زیادہ تر کا تعلق مسلمان گھرانوں سے بھی ہو گا مگر ان میں اسلام نام کی کوئی چیز نہیں ہے اسلام ہمیں جھوٹ فریب اور دھوکہ دہی سے بھی تو منع کرتا ہے مگر اس کے باوجود بھی ہم ایسی غلط حرکتیں کرتے ہیں کہ آئن لائن بزنس آن لائن ارننگ بڑھانے کا لاچ بھی ہمیں تباہ کر رہا ہے۔ اخبارات پر اشتہارات کی بھرمار ہوتی ہے اسی طرح سوشل میڈیا پر آئے روز مرد و خواتین کے میسج ہوتے ہیں کہ گھر بیٹھے چند گھنٹے کام کر کے روزانہ تین سے دس ہزار تک کمائیں اب ایسا میسج پڑھنے کے بعد نوجوان نسل یہ سوچتی ہے کہ انہیں سارا دن یا بارہ گھنٹے کام کرنے کی بجائے اگر گھر بیٹھے چند گھنٹے کام کر کے اتنے پیسے روزانہ ملنے لگ جائیں تو انہیں زیادہ محنت کرنے کی یا سارا دن کام کرنے کی کیا ضرورت ہے تو وہ ان سے رابطہ کرنے لگتے ہیں ۔
ایسے تمام آفر کرنے والوں کی سب سے پہلی ڈیمانڈ ہوتی ہے انوسٹمنٹ آپ کو اتنی انوسٹمنٹ لازمی کرنا ہو گی یا ہماری پروڈکٹ خریدنا ہو گی جسے بعد ازاں آپ فروخت کر یں گے اور اس سے آپ کو اتنا منافع ملے گا اور زیادہ سیل کرنے پر آپ کو انعامات بھی دیئے جائیں گے اوریہ انعامات اسی کمپنی کی اشیا ہی ہو ں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے