اداریہ

آفات اور منصوبہ بندی کافقدان

گزشتہ برس بھی ہم نے شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے ناقابل تلافی نقصان اٹھایاتھااور وہ متاثرین ابھی تک بحال نہیںہوسکے اور اب ایک بار پھرہمیںایسی افتاد کاسامنا ہے۔حالیہ بارشوںسے ملک کے مختلف مقامات پر تین درجن سے زائد افراد جاں بحق جبکہ دوسوکے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ کے پی کے پرونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق سب سے زیادہ نقصان بنوں میں ہوا جہاں شدید بارشوں کی وجہ سے چھتیں اور دیواریں گرنے سے درجن سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔دوسری جانب بحیرہ عرب میں موجود ہائیپر جوائے نامی طوفان گذشتہ بارہ گھنٹوں کے دوران مزید شدت اختیار کرگیا ہے جو اس وقت کراچی سے 700 کلومیٹر دور ہے۔ محکمہ موسمیات کی طرف سے جاری اطلاعات کے مطابق ابھی تک واضح نہیں کہ یہ کہاں کا رخ اختیار کرے گا لیکن اس کے مکران اور عمان کے ساتھ ساتھ سندھ اور بھارتی گجرات کے ساحل سے ٹکرانے، اس دوران 130 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
وطن عزیز میں ہمیشہ سے سب سے بڑا مسئلہ منصوبہ بندی رہا ہے۔ترقی یافتہ ممالک جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بڑی حد تک ایسے حالات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس سے انسانی جانوں کا نقصان کم سے کم ہوتا ہے تاہم وطن عزیز کے زمینی حقائق یکسر مختلف ہیں۔ ہمارے ہاں آنے والی مشکلات کا ڈھول تو بجتا رہتا ہے لیکن اْن پر کوئی سنجیدگی سے غور نہیں کرتا، اْن کے حل کے لیے مناسب منصوبہ بندی کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ ہر سال کم و بیش ایسے ہی معاملات کا سامنا ہوتا ہے لیکن جب افتاد پڑتی ہے تب سب حرکت میں آ جاتے ہیں اور پھر جیسے جیسے وقت گزرتا ہے بات دب جاتی ہے۔ مذکورہ بالا واقعات میں زیادہ تر قیمتی جانوں کا ضیاع گھروں کی چھت اور دیواریں گرنے سے ہوا ہے۔ ایسا کوئی پہلی بار نہیں ہوا بلکہ ہر سال ہی بیشتر واقعات ہوتے ہیں، ذرا تیزبارش ہو اور زوردار آندھی چلے تو لوگوں کی جان پر بن آتی ہے۔ مئی میں بارشیں معمول کی بات نہیں ہے بلکہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ہیں۔ اِن بارشوں سے جہاں لوگوں کے لئے مشکلات کھڑی ہو رہی ہیں وہیں ملک کے مالی مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ گزشتہ سال آنے والے سیلاب سے کئی ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ دنیا بھر میں بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں ایک دفعہ قدرتی آفت آنے کے بعد اگلی مرتبہ اِس سے نبردآزما ہونے کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن ہمارا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ کوئی قانون پر عملدرآمد کراتا ہے نہ ہی خود کسی قائدے اور قانون کے تحت زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ حالیہ سیلاب کے دوران آبی گزرگاہوں میں بنے ہوٹل اور گھر پانی میں بہہ گئے دل دہلا دینے والی ویڈیوز منظر عام پر آئیں، وقتی افسوس ہوا لیکن حکمرانوں اور لوگوں کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
گزشتہ سال سیلاب سے ہوئی تباہ کاریوں سے ہونے والے نقصانات اور انسانی زندگیوں کو اب تک بحال نہیں کیا جا سکا۔ آج بھی ہزاروں متاثرین امداد کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ باہر سے آنے والی بھاری امداد اور اندرون سے ملنے والی امداد کہاں صرف کی گئی؟ اس تناظر میں اس خدشہ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارے دوست سمیت دنیا کے دوسرے ممالک ہمیں امداد دینے سے کترانا شروع کر دیں۔ امسال مون سون سے قبل بے موسمی بارشوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانا شروع کر دی ہے۔ حکومتی دعوئوں کے باوجود ابھی تک کوئی تدابیر سامنے نہیں آئیں جس کا عملی ثبوت طوفان اور بارش سے ہونے والی ہلاکتیں ہیں۔ عوام کی جان و مال کی حفاظت ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس لیے حکومت کو متوقع سیلاب اور بارشوں کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے پیشگی اقدامات کر لینے چاہئیں ۔ جس ملک میں کئی کئی درجن افراد گھروں کی چھت اور دیواریں گرنے سے ہلاک ہو جاتے ہوں وہاں کے ارباب اختیارکو اپنی کارکردگی پر ضرور غور کرنا چاہئے۔ عوام کو بھی اپنی حالت خود بدلنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔
اندرونی معاملات میںامریکی مداخلت
امریکا کو پاکستان کے حوالے سے جس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ پاکستان کا سٹاف لیول معاہدہ ہے جسے امریکا اپنے اثرورسوخ سے مکمل کراسکتا ہے لیکن اسے اس میںکوئی دلچسپی نہیںہے جبکہ دوسری جانب پاکستان کے اندرونی حساس معاملات پر امریکی مداخلت ہمیشہ جاری رہتی ہے جو کہ سراسر غلط ہے۔سانحہ9 مئی پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سنگین ترین واقعات میں سے ایک ہے، امریکا کی جانب سے اس پر بات کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ اسے پاکستان کے ان مسائل پر بات کرنی چاہیے جو ایک دوست ہونے کے ناتے وہ اپنے اثرورسوخ سے حل کرا سکتا ہے۔ مسئلہ کشمیر پر وہ اپنا بہترین کردار ادا کر سکتا ہے مگر وہ ایسے مسائل کی طرف نہیں آتا۔ 9 مئی کا واقعہ پاکستان کے لیے انتہائی حساس ہے جس میں شرپسندوں نے پاکستان کی سلامتی کو بھی دائو پر لگا دیا تھا، ایسے شرپسندوں سے پاکستان اپنے آئین و قانون کے مطابق نمٹ رہا ہے، اس میں بیرونی مداخلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔اسی حوالے سے خبر آئی ہے کہ امریکا میں پاکستانی فزیشنز برائے انصاف و جمہوریت تنظیم نے امریکی حکومت کو خط لکھ کر کہا ہے کہ امریکی حکومت پاکستان کے اندرونی معاملے میں فریق نہ بنے۔ اے پی پی جے ڈی نے کہا کہ ایسا نظر نہیں آنا چاہیے کہ امریکا تنازع میں ملوث ایک فریق کے ساتھ ہے۔ بعض مفاد پرستوں نے کوشش کی کہ امریکا کو گھسیٹ کر تنازعہ کا حصہ بنا دیا جائے۔ پاکستان میں جاری تنازعہ پر تشویش ہے۔ 9 مئی پاکستان میں جمہوریت کے لیے ایسا ہی خطرناک تھا جیسے 6 جنوری امریکی سیاسی نظام کے لیے تھا۔ سیاست اور جرم کو الگ ہونا چاہیے، حکومت پاکستان کا ردعمل قانون کے مطابق ہونا چاہیے، آرمی، عدلیہ سمیت تمام فریقین کو اپنی آئینی حدود کے اندر رہنا چاہیے۔ تمام ریاستی ستون اداروں میں عوام کا اعتماد بحال کریں، قومی مفاہمت کا عمل یکطرفہ نہیں ہو سکتا۔ 9 مئی کے واقعات کے تناظر میں ریاستی اداروں کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات سراسر پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ شرپسندوں کے خلاف ہونے والی کارروائی میں اس امر کو مقدم رکھا گیا ہے کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ اس لیے آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ادارے ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر ان شرپسندوں کے خلاف کارروائی عمل میں لارہے ہیں۔ امریکا کی جانب سے اس معاملے میں بات کرنا سراسر پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نظر آتی ہے۔ اس سے یہ تاثر بھی پختہ ہو رہا ہے کہ امریکا کسی ایک فریق کی حمایت کرکے پاکستان کے حالات کو مزید خراب کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ کو اس سے گریز کرناہوگا۔
بڑھتی مہنگائی اور عوام
اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ عوام کیلئے ایک کڑی آزمائش ہے۔اب تو مہنگائی نے صرف غریب کو ہی نہیںبلکہ ہرطبقے کو متاثر کیا ہے۔ دوروزقبل گندم، روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق حقائق جو وزارت خوراک پنجاب نے جاری کئے ہیں انکے مطابق رواں مالی سال میں گندم فی من 2570روپے، آٹا فی کلو 50 روپے، روٹی 5روپے اور نان کی قیمت میں13روپے اضافہ ہوا۔ ڈالر کی اونچی اڑان کے باعث 2022میں دوبار گندم کی امدادی قیمت بڑھا کر 2300روپے کی گئی جو اپریل 2023میں 3970 روپے ہوگئی۔ یوں ایک سال میں فی من گندم کی قیمتوں میں 2570روپے کا تاریخی ہوشربا اضافہ ہوا۔اوپن مارکیٹ میں گندم فی من 5400روپے اور 20کلو آٹے کا تھیلہ 2850روپے میں فروخت ہوا۔ مہنگائی کے اس تناسب سے عوام پر 100فیصد اضافی بوجھ پڑا۔ جون 2022میں سادہ روٹی 10 روپے تھی جو رواں سال 5 روپے اضافہ کے بعد 15روپے کی ہوگئی۔ 2022 میں سادہ نان 12 روپے کا تھا جو 25روپے کا ہوگیا اور اس وقت اوپن مارکیٹ میں روٹی 20روپے اور نان 30 روپے کا فروخت ہو رہا ہے۔ گزشتہ سال دس کلو آٹے کا تھیلہ 607روپے اور 20کلو آٹے کا تھیلہ 1208 روپے کا تھا جو 2023 میں بالترتیب 1214 روپے اور 2417روپے کا فروخت ہو رہا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح میں 0.21فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 39.26فیصد ریکارڈ کی گئی۔ 21اشیائے ضروریہ مہنگی اور 10سستی ہوئیں۔ عالمی سطح پر گرانی، ڈالر کا بے قابو ہونا اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط پر عملدرآمد کے بعد مہنگائی کسی آسیب کی طرح پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ حکومت کے ساتھ تمام سٹیک ہولڈرز کو بھی چاہئے کہ وہ بڑھتی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے کچھ اقدامات کریں اور عوام کو زندہ رہنے کاحق دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex