کالم

آخری رہبرِ کاملؐ، ہندو کتابوں میں بشارتِ نبوی!

راناشفیق خان

چند سال قبل ہندی زبان میں ایک تحقیقی کتاب شائع ہونے پر پورے ہندوستان میں ایک تہلکہ مچ گیا ہے جس سے سارے ہندوستان میں ایک شور بپا ہو چکا ہے۔ اس ہندی زبان میں شائع ہونے والی کتاب ’’کالکی اوتار‘‘ (یعنی اس ساری کائنات کا رہبر یا پیغمبر) کا لکھنے والا اگر کوئی مسلمان ہوتا تو نہ صرف اسے جیل بھیج دیا جاتا بلکہ اس کتاب کے شائع کرنے اور اسے تقسیم کرنے پر بھی سخت قسم کی پابندی عائد کی جاتی۔ اس اہم اور تحقیقی کتاب کے مصنف کا تعلق بنگالی نسل سے ہے اور وہ الہ آباد یونیورسٹی میں ایک اہم شعبے کا قلمدان سنبھالے ہوئے ہے۔ وہ سنسکرت کے اسکالر اور بہت بڑے محقق پنڈت ویر پرکاش اپادیھ ’’برہمن ہندو‘‘ ہے۔بڑی محنت اور تحقیق کے بعد اپنی اس علمی کاوش کو پنڈت ویر پرکاش نے آٹھ بہت بڑے پنڈتوں کے سامنے پیش کیا جو خود بھی تحقیق کے میدان میں اپنا نام پیدا کر چکے ہیں۔ ان کا شمار اپنے وقت کے بڑے مذہبی دانشوروں اور مذہبی اسکالروں میں کیا جاتا ہے۔ ان پنڈتوں نے اول سے آخر تک پڑھنے کے بعد اس تحقیقی کتاب کو صحیح اور مسلمہ تحقیقی کام کو تسلیم کیا ہے۔ہندو مت اور ہندوؤں کی جن اہم اور بڑی مذہبی کتابوں میں جس رہبر اور راہنما کا ذکر ’’کلکی اوتار‘‘ کے نام سے کیا گیا ہے وہ درحقیقت عربستان کے باشندے جناب حضرت محمدﷺ کی ذات مبارکہ پر ہی صادق آتا ہے۔ اس لئے ساری دنیا کے ہندوؤں کو چاہیے کہ وہ مزید کسی انتظار کی تکلیف نہ کریں۔ بلکہ اس ہستی ’’کلکی اوتار‘‘ یعنی پیغمبر اسلامؐ پر ایمان لے آئیں۔ اسی کتاب کے مصنف جناب ویر پرکاش اور ان آٹھ پنڈتوں نے واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ ’’ہندو مت کے سمجھنے اور ماننے والے ابھی تک ’’کلکی اوتار‘‘ کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کا یہ انتظار ایسا ہے کہ جو قیامت تک ختم ہونے والا نہیں کیونکہ یہ جس اعلیٰ ہستی کا انتظار کر رہے ہیں، اس مقدس ہستی کا ظہور اس دنیا میں ہو چکا ہے (یعنی وہ تشریف لا چکے ہیں) اور وہ اپنا کام مکمل کر کے اور اپنی مفوضہ ذمہ داری ادا کر کے چودہ سو سال قبل اس دنیا سے رحلت فرما گئے ہیں۔ پنڈت ویرپرکاش اپنی اس تحریر کے ثبوت کے لئے ہندوؤں کی مقدس کتاب ’’وید‘‘ سے دلیل نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:’’وید‘‘ (ہندوؤں کی اہم اور مذہبی کتاب) میں مذکور ہے کہ ’’کلکی اوتار‘‘ اس دنیا میں بھگوان (اللہ تعالیٰ) کے آخری پیغمبر ہونگے جو ساری دنیا کی راہنمائی کرنے کے لئے بھیجے جائیں گے۔‘‘ اس حوالہ کو نقل کرنے کے بعد پنڈت صاحب لکھتے ہیں کہ یہ بات صرف نبی اکرمؐ پر ہی صادق آتی ہے۔ہندو مت کی ایک پیشین گوئی کے مطابق ’’کلکی اوتار‘‘ (پیغمبر عالم) ایک دیپ یعنی جزیرہ میں پیدا ہونگے۔ ہندو مت کے کہنے کے مطابق یہ عرب کا علاقہ ہے جو کہ ’’جزیرۃ العرب‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ہندوؤں کی مقدس مذہبی اور دھرمی کتابوں میں ’’کلکی اوتار‘‘ کے والد کا نام ’’وشنو بھگت‘‘ اور والدہ کا نام ’’سوماتب‘‘ بتایا گیا ہے۔ سنسکرت میں
’’وشنو‘‘ کا لفظی معنی ’’اللہ‘‘ اور ’’بھگت‘‘ کا معنیٰ ’’بندہ‘‘ ہے۔ اس لئے عربی میں ’’وشنو بھگت‘‘ کا معنیٰ عبداللہ ہوگا۔ اسی طرح سنسکرت میں ’’سومانی‘‘ کا لفظی ترجمہ ہوگا ’’امن و سلامتی‘‘ جس کو عربی میں ’’آمنہ‘‘ کہا جاتا ہے جب کہ آپﷺ کے والد کا نام بھی عبداللہ اور والدہ ماجدہ کا نام آمنہ ہے۔ہندوؤں کی بڑی بڑی مذہبی اور دھرمی کتابوں میں مذکور ہے کہ ’’کلکی اوتار‘‘ کا معاشِ زندگی کھجور اور زیتون پر ہوگا۔ نیز یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ وہ سب سے بڑھ کر قول و کردار کے سچے ہونگے اور سب سے زیادہ ایماندار ہونگے نیز وہ امن و سکون کی زندگی گزارے گا۔ اس حوالے سے جناب پنڈت پرکاش صاحب لکھتے ہیں کہ ’’یہ بات بھی جناب محمدﷺکے علاوہ کسی اور پر ثابت نہیں ہوتی۔‘‘’’وید‘‘ میں لکھا ہوا ہے کہ ’’کلکی اوتار‘‘ اپنے علاقہ کے معزز اور شریف خاندان میں پیدا ہوگا۔ جب کہ یہ بات بھی عیاں ہے کہ جناب محمدﷺقریش کے معزز اور شریف خاندان میں پیدا ہوئے اور اسی قبیلہ کو مکہ میں انتہائی عزت و احترام کا مقام حاصل تھا۔’’کلکی اوتار‘‘ کو ’’بھگوان‘‘ (اللہ تعالیٰ) اپنے خاص قاصد (فرشتہ) کے ذریعہ ایک غار میں تعلیم دینگے۔ اس معاملہ میں یہ بھی انتہائی سچی بات ہے کہ جناب محمدﷺ ہی وہ واحد شخص تھے جنہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبریل امین ؑ نے غار حراء میں تعلیم دی۔ہندوؤں کی ان کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ ’’بھگوان‘‘ کلکی اوتار‘‘ کو ایک تیز گھوڑا دینگے جس پر سوار ہو کر وہ ساری دنیا اور ساتوں آسمانوں کا چکر لگائیں گے۔ نبی اکرمؐ کا براق پر سوار ہونا اور معراج والے واقعہ کی اس سے صداقت ہوتی ہے۔ہندوؤں کی ان مذہبی و دھرمی کتابوں میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ’’کلکی اوتار‘‘ (نبی ؐ) کو بھگوان (اللہ تعالیٰ) آسمانی تائید اور زبردست نصرت پہنچاتے رہیں گے۔ جب کہ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کی خاص مدد و نصرت اپنے فرشتوں کے ذریعہ کی تھی۔مزید لکھا ہوا ہے کہ ’’کلکی اوتار‘‘ گھڑ سواری، تیر اندازی اور تلوار زنی میں ماہر ہونگے۔اس کے متعلق جناب پنڈت ویرپرکاش نے جو کچھ لکھا ہے وہ بڑا ہی اہم اور غور کرنے کے لائق ہے۔ لکھتے ہیں کہ ’’نیزوں، تلواروں اور گھوڑوں کا زمانہ کب کا ختم ہو چکا ہے جب کہ اب جدید ترین ہتھیاروں یعنی ٹینک، بندوقوں، میزائلوں اور ایٹمی ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے اس لئے اب کسی تیر یا تلوار والے ’’کلکی اوتار‘‘ کا انتظار کرنا بڑی بے وقوفی اور حماقت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آسمانی کتاب ’’قرآن مجید‘‘ والے محمدﷺ ہی اصل ’’کلکی اوتار‘‘ (پیغمبر عالمؐ) ہیں جن کا تذکرہ ہماری مقدس اور اہم مذہبی و دھرمی کتابوں میں موجود ہے مزید کسی اور ’’اوتار‘‘ کا انتظار غیر دانشمندانہ ہوگا۔بے جا نہ ہوگا یہاں اسی سلسلہ میں وہ تحقیق بھی درج کر دی جائے جو کہ عالمی ریسرچ اسکالر ڈاکٹر حمیداللہؒ نے کی ہے۔ بہاولپور یونیورسٹی میں 1981ء کو اپنے ایک لیکچر میں ہندوؤں کے دس مذہبی پرانوں میں سے ایک پران (مذہبی کتاب) کے حوالے سے کہا کہ ’’آخری زمانے میں ایک شخص ریگستان کے علاقہ میں پیدا ہوگا، اس کی ماں کا نام ’’قابل اعتماد‘‘ اور باپ کا نام ’’اللہ کا بندہ اور غلام‘‘ ہوگا۔ وہ اپنے وطن سے شمال کی طرف جا کر بسنے پر مجبور ہوگا اور پھر وہ اپنے وطن کو دس ہزار آدمیوں کی مدد سے فتح کریگا۔ جنگ میں اس کی رتھ کو اونٹ کھینچیں گے اور وہ اونٹ اس قدر تیز رفتار ہونگے کہ آسمان تک پہنچ جائیں گے۔ (خطبات بہاولپور)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex