کالم

آئی ایم ایف کی سرخ جھنڈی

مصطفیٰ کمال پاشا

ایک بات تو طے ہو چکی کہ 30 جون 2023ء کو آئی ایم ایف کا پروگرام نواں ریویو مکمل کئے بغیر اختتام پذیر ہو گا کیونکہ آئی ایم ایف بورڈ کے رواں ماہ کے آخر میں منعقدہ اجلاس کے بیان کردہ ایجنڈے میں پاکستان کا کہیں ذکر نہیں ہے گویا ہمیں 101 ارب ڈالر کی قسط نہیں ملے گی اور اس طرح جاری پروگرام مکمل ہوئے بغیر ہی 30 جون 2023ء کو اختتام پذیر ہو گا۔ یہ اچھا شگون نہیں ہے ہم نے آئی ایم ایف کی جائز و ناجائز شرائط مان بھی لیں۔ ان پر پیشگی عمل بھی کر دکھایا۔ ہم نے اپنے عوام کو مکمل طور پر پیس کر رکھ دیا کہ آئی ایم ایف خوش ہو جائے۔ ہم نے اپنا مرکزی بینک بھی انہی کی شرائط پر ان کے حوالے کر دیا کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائیں۔ ہم نے بجلی گیس و پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان تک پہنچا دیں کہ آئی ایم ایف کو واپس لوٹانے کے لئے پیسے اکھٹے ہو سکیں ہم نے ہر وہ کام کیا جو آئی ایم ایف نے کہا۔ ہم نے ہر وہ قدم اٹھایا جو ہماری دانست میں آئی ایم ایف کی خوشنودی کے حصول کے لئے ضروری تھا لیکن معاملات لٹکتے ہی چلے گئے۔ ہماری امیدیں بار آور نہیں ہو سکیں۔ہم نے ایک بہت اچھا کام کر دکھایا ہے ویسے ہماری نیت تو نہیں تھی کہ ہم آئی ایم ایف کے سہاروں کے بغیر معاشی سفر جاری رکھیں لیکن فنڈ نے ہمیں آگے لگائے رکھا شرائط پر شرائط ہم مانتے گئے لیکن فنڈ نے آخری شرط، شرح سود کو 27 فیصد تک بڑھانے کی رکھی۔ ویسے پہلے ہی ہم پوری دنیا میں سب سے بلند شرح سود رکھنے والا ملک ہیں 21/22 فیصد سرکاری شرح سود کے ساتھ اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری نا ممکنات میں سے ہے ہماری زرعی منڈی اتنی بلند شرح سود کے باعث تلاطم کا شکار ہو چکی ہے معاشی پھیلاؤ پر سقوط طاری ہے۔ قوت خرید سکڑتی چلی جا رہی ہے ایسے میں شرح سود میں مزید اضافہ یقیناً جان لیوا ثابت ہوگا اس لئے ہم نے آئی ایم ایف کی یہ شرط نہیں مانی نتیجتاً انہوں نے ہمیں سرخ جھنڈی دکھا دی ہے۔
ویسے ہم ان کی یہ شرط بھی پوری کر دیتے تو انہوں نے پھر بھی ہمیں کچھ نہیں دینا تھا کیونکہ فنڈ صرف قرضے جاری کرنے کے لئے قائم نہیں کیا گیا ہے اس کا مقصد عالمی نظام معیشت پر اپنی گرفت مضبوط رکھنا ہے سرمایہ دارانہ نظام کی بالا دستی قائم رکھنا ہے گویا عالمی معاملات میں امریکہ کی بالا دستی قائم کرنا اور اسے مستحکم رکھنا فنڈ کے مقاصد میں شامل ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم نے فنڈ کی تمام شرائط مان بھی لیں ان پر عمل درآمد بھی کر لیا لیکن اس نے ہمیں کچھ نہیں دیا اس کی وجہ سیاسی معاملات میں امریکی شرائط نہ ماننا ہے چین ایک سپر طاقت کے طور پر سامنے آ چکا ہے تجارتی، مالی اور اقتصادی معاملات کے علاوہ سفارتی معاملات میں بھی چین ایک فیصلہ کن حیثیت منوا رہا ہے چین کو امریکہ کے علاوہ یورپی یونین بھی اپنا حریف سمجھتی ہے چین نے ڈالر کی عالمی بالا دستی بھی چیلنج کر دی ہے۔ دوسری طرف پاکستان نہ صرف چین کا سٹریٹیجک پارٹنر بن چکا ہے بلکہ چین، روس، ایران، ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر خطے میں نئی تاریخ رقم کر رہا ہے چین سی پیک کے ذریعے اپنے بین البراعظمی منصوبے ”بیلٹ اینڈ روڈ“ کی تکمیل کر چکا ہے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بھی قائم کر رہا ہے دوسری طرف پاکستان روس کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کر چکا ہے روسی جہاز تیل لے کر پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ روس کا گرم پانیوں تک پہنچنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو چکا ہے پاکستان کے گیس پائپ لائن کے حوالے سے معاملات، ایران کے ساتھ زیر بحث لائے جا چکے ہیں۔ امریکہ نے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں ایران، سعودی عرب کے ساتھ اپنے سفارتی معاملات درست کر چکا ہے ہمارے ساتھ معاملات درست کرنے کے لئے بات چیت جاری ہے۔ اس طرح ہم امریکی غیض و غضب کو دعوت دے رہے ہیں۔ پاکستان میں امریکی صہیونی اور یہودی ایجنٹ مل جل کر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے میں مصروف ہیں۔ بھارتی پروپیگنڈہ اپنی جگہ اثر دکھا رہا ہے۔
ایک عرصے سے پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کی باتیں کی جا رہی ہیں کئی جفادری تجزیہ نگار اور ماہرین پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں۔ عالمی امریکی ادارے تو اپنی جگہ منفی پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں بلوم برگ نے خبر دے دی ہے کہ ”آئی ایم ایف پروگرام رول اوور نہ ہوا تو ڈیفالٹ کا خطرہ ہے“ آئی ایم ایف کی آنکھ سے دیکھنے والے ادارے اور ماہرین جو کچھ کہہ رہے ہیں درست ہوگا لیکن پاکستانی معیشت کی صورت حال اتنی بھی بری نہیں ہے کہ ہم ڈیفالٹ کر جائیں۔ اولاً ہم نے عالمی ادائیگیوں کے حوالے سے آج تک کوتاہی نہیں برتی ہے آج کی تاریخ تک پاکستان کے ذمے جتنی لوکل اور بین الاقوامی مالیاتی ذمہ داریاں تھیں وہ پوری کی جا چکی ہیں۔ ہم مقروض ضرور ہیں لیکن دیوالیہ نہیں ہیں ہم اپنی ذمہ داریاں، ایک ذمہ دار ملک کے طور پر پوری کرتے رہے ہیں اور کر بھی رہے ہیں آج کی تاریخ تک ہمارے ذمے ایک بھی ڈالر اور ایک بھی روپے کی نادہندگی نہیں ہے ہم نے ٹیکس فری بجٹ بھی پیش کر دیا ہے آئی ایم ایف کے بغیر بجٹ پیش کرنا یقیناً ایک مستحسن قدم ہے۔یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے متوازن اور ٹیکس فری بجٹ اور وہ بھی آئی ایم ایف کے بغیر پیش کرنا یقیناً بڑی بات ہے حکومت کی امپورٹ پالیسی کے باعث ہمارا تجارتی خسارہ نہ صرف ختم ہو چکا ہے بلکہ سرپلس ہو گیا ہے ہم نے اگر ایسے ہی اپنے معاملات کی نگرانی جاری رکھی تو وہ وقت دور نہیں جب ہمارا بجٹ خسارہ بھی ختم ہو جائے گا اور ہم ایک خوشحال و خود دار قوم کے طور پر مانے، جانے اور پہچانے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex